۸۵۷ ہجری جمادی الاول کے مہینے کی بیس تاریخ کو(۲۹ مئی ۱۴۵۳ء) منگل اور بدھ کی درمیانی شب تھی، رات کو ایک بجے شہر پر عمومی حملے کا حکم جاری کیا گیا۔ مجاہدین کو پہلے سے تمام ضروری ہدایات دی جا چکی تھیں۔ ’’اللہ اکبر‘‘ اور ’’تکبیر‘‘ کی صدائیں فضاؤں میں گونجنے لگیں اور اسلامی لشکر شہر کے گرد و نواح کی جانب پیش قدمی کرنے لگا۔
نصارٰی میں خوف و ہراس پھیل گیا، وہ گرجا گھروں میں پناہ لینے لگے، گرجا گھروں کی گھنٹیاں بجنے لگیں اور ایک بےمثال بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ منصوبہ، جو نہایت باریک بینی سے تیار کیا گیا تھا، یہ تھا کہ حملہ بیک وقت زمین اور پانی دونوں سمتوں سے کیا جائے گا۔ شہادت کے شوق میں سرشار مجاہدین پوری جرأت و دلیری کے ساتھ دشمن کی جانب بڑھنے لگے۔ ان میں بعض خوش نصیب ایسے بھی تھے جو حملے کے آغاز کے ساتھ ہی شوقِ جہاد میں کود پڑے اور شہادت کا تاج اپنے سر پر سجا لیا۔
حملہ مختلف سمتوں سے شروع ہوا، لیکن خاص توجہ ’’نیکوس‘‘ کے دروازے پر مرکوز تھی۔ سلطان محمد خود اپنی جماعت کی قیادت کر رہے تھے۔ عثمانی لشکر کے اگلے دستے نصرانیوں اور شہر کی فصیلوں پر تیروں اور گولیوں کی بارش کر رہے تھے۔ نصرانیوں میں یہ ہمت نہ تھی کہ اپنے سر بلند کر سکیں۔ بازنطینی خود کو موت کے حوالے کر چکے تھے۔ دونوں جانب سپاہی اس قدر جان نثار تھے کہ اُن کے سروں پر کفن بندھے ہوئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ میدانِ جنگ میں لاشوں کے انبار لگ گئے۔
جب حملہ آوروں کی پہلی جماعت تھک گئی، تو سلطان نے دوسری جماعت کو حملے کا حکم دیا۔ پہلی جماعت پیچھے ہٹ گئی، لیکن شہر کے دفاع کرنے والے فوجی بھی سخت تھکن کا شکار تھے۔ سلطان کے تازہ دم سپاہیوں نے آندھی کی مانند دشمن پر یلغار کی اور شہر کی فصیلوں تک جا پہنچے۔ مسلمان پہلے ہی سینکڑوں سیڑھیاں تیار کر چکے تھے اور انہیں دیواروں سے لگا دیا تھا، لیکن نصرانیوں نے فوراً ان سیڑھیوں کو گرا دیا۔
دونوں طرف سے شدید اور خونریز لڑائی جاری تھی۔ نصرانیوں نے اپنی پوزیشنیں سنبھالی ہوئی تھیں اور بھرپور کوشش کر رہے تھے کہ مسلمانوں کو دیواروں پر چڑھنے سے روکیں۔ دو گھنٹے مسلسل لڑائی کے بعد سلطان محمد فاتح نے اپنی فوج کو کچھ دیر دم لینے کا حکم دیا، اور ایک نئی جماعت کو حملے پر روانہ کیا۔
بازنطینیوں نے سمجھا کہ مسلمان پسپا ہو رہے ہیں، لیکن اچانک دوسری جانب سے تازہ دم لشکر نے حملہ کر دیا۔ نصرانی فوج، جو پہلے ہی تھکن سے چور تھی، سخت گھبراہٹ میں مبتلا ہو گئی۔ ان کے دلوں میں خوف بیٹھ گیا۔ مسلمان، جو جذبۂ ایمان سے سرشار تھے، پوری جرأت اور ولولے کے ساتھ لڑ رہے تھے۔
سمندری محاذ پر بھی لڑائی جاری تھی، جو جلد ہی شدت اختیار کر گئی۔ نصرانی فوج بکھر گئی، اور ایک ہی وقت میں مختلف محاذوں پر جنگ میں الجھ گئی۔ جب صبح کا اجالا پھیلنے لگا، تو روشنی اتنی ہو چکی تھی کہ مسلمان بآسانی دشمن کے مورچے دیکھ سکتے تھے۔ اُن کے حملے تیز ہو گئے، اور ان کے دلوں میں فتح کی امیدیں روشن ہونے لگیں۔
سلطان نے ایک بار پھر فوج کو تھوڑی دیر پیچھے ہٹنے کا حکم دیا، تاکہ توپچیوں کو دوبارہ گولہ باری کا موقع دیا جا سکے۔ توپوں نے ایک بار پھر شہر کی فصیلوں پر گولوں کی بارش شروع کر دی۔ عثمانی لشکر پوری رات جاگتا رہا۔ ان کی دلیری اور استقامت قابل تحسین تھی۔ کچھ دیر بعد توپچیوں کو فائر بندی کا حکم دیا گیا۔
پھر بہادر لشکر، جس کی قیادت خود سلطان محمد کر رہے تھے، شہر پر یلغار کرتا ہوا داخل ہوا، اور اس قدر تیر برسانا شروع کیے کہ نصرانی اپنے سر بھی نہ اٹھا سکے۔ اُس دن کی جنگ میں عثمانی فوج نے بے مثال شجاعت دکھائی۔ تین سپاہی، دشمن کے شدید حملوں کے باوجود، فصیل پر چڑھنے میں کامیاب ہو گئے۔ اگرچہ ان میں سے کچھ، بشمول ان کے کمانڈر، شہید ہو گئے، لیکن پھر بھی ’’طوب قاپی‘‘ دروازے کے قریب شہر میں داخلے کا راستہ کھول دیا گیا۔
جیسے ہی عثمانی پرچم لہرانے لگا، فوج کے اندر ایک نئی روح دوڑ گئی، اور ہر سپاہی کو شہر کی فتح کی امید بندھ گئی۔ زور دار حملے کے ساتھ دشمن کی طاقت ٹوٹ گئی، اور انہیں منہ توڑ جواب دیا گیا۔




















































