خلافت کا ۲۰۰۳ء کی عراق جنگ
۲۰۰۳ء میں عراق پر امریکی افواج کے حملے نے ایک ایسی آگ بھڑکائی جس کی راکھ سے داعش اُبھری۔ اس تباہ کن جنگ نے نہ صرف عراق کا سیاسی نظام گرا دیا بلکہ اس ملک کے سماجی اور سلامتی کے ڈھانچے کو بھی نیست و نابود کر دیا۔ جارج بش کا وہ فیصلہ، جو نتائج پر غور کیے بغیر صرف رجیم چینج کے مقصد سے کیا گیا تھا، تشدد اور انتہا پسندی کے فروغ کے لیے ایک موزوں ماحول فراہم کر گیا۔
اگرچہ صدام حسین کی حکومت آمرانہ تھی، لیکن اس نے عراق میں نسبتاً استحکام قائم رکھا ہوا تھا۔ اس کے زوال کے ساتھ ہی ملک تیزی سے بدامنی کے گڑھے میں جا گرا۔ امریکی اعلیٰ فوجی عہدیدار ’’پال برمر‘‘ کے ذریعے عراق کی قومی فوج کو تحلیل کرنے کا فیصلہ، جس کے نتیجے میں چار لاکھ سے زیادہ تربیت یافتہ فوجی بے روزگار اور غصے میں سڑکوں پر آ گئے، ایک سنگین غلطی ثابت ہوا۔ ان میں سے اکثر بعد میں بغاوتی گروہوں میں شامل ہو گئے۔ اس تباہ کن فیصلے نے ایسی عسکری نسل کو جنم دیا جس کی واحد مہارت لڑائی تھی، مگر جس کا نئے سیاسی نظام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
۲۰۰۳ء کے بعد عراق کی صورتِ حال
امریکی قابضین کی بعث پارٹی سے چھٹکارا پالیسی(De-Baathification) نے بھی اقتدار کے خلا کو گہرا کر دیا۔ بعث پارٹی کے تمام اراکین کو سرکاری عہدوں سے ہٹانے کے نتیجے میں امریکہ نے عملاً ملک کے انتظامی تجربے کو نظر انداز کر دیا۔ اس فیصلے نے بیوروکریٹس اور درمیانی سطح کے منتظمین کی ایک ایسی نسل پیدا کی جو نئے ریاستی نظام کے دشمن بن گئے، اور ان میں سے بیشتر بعد میں بغاوتی گروہوں میں شامل ہو گئے۔
اسی سیاسی انتشار میں عراق میں تکفیری گروہ ابھرنے لگے، شیعہ اور سنی کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد، جو صدام کے زوال کے بعد مزید شدت اختیار کر گیا تھا، نے ان گروہوں کو جواز فراہم کیا۔ عراق پر قبضہ اس بات کا سبب بھی بنا کہ مختلف ملکوں سے ہزاروں کی تعداد میں جہادی عراق پہنچے۔ یہ جنگ ان کے لیے ایک موقع تھی کہ وہ امریکہ کے خلاف بھی لڑ سکیں اور اپنے انتہاپسندانہ نظریات کو بھی نافذ کریں۔ انہی دنوں بننے والے بین الاقوامی جہادی نیٹ ورکس نے بعد میں داعش کی ابتدائی بنیادیں رکھیں۔
امریکی پالیسیوں کے تحت قائم کی جانے والی سنی بیداری کونسلیں (Awakening Councils) بھی الٹی ثابت ہوئیں۔ اگرچہ یہ کونسلیں ابتدا میں القاعدہ کے خلاف قائم کی گئی تھیں، لیکن بعد میں ان کے اکثر اراکین داعش میں شامل ہو گئے۔ امریکیوں نے ان گروہوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کیا، لیکن بعد میں یہی تربیت یافتہ جنگجو ان کے خلاف استعمال ہوئے۔
جنگ کے بعد عراق کی تباہ شدہ معیشت نے بھی انتہاپسندی کے فروغ میں کردار ادا کیا۔ وسیع پیمانے پر بیروزگاری، خصوصاً سنی نوجوانوں میں، انہیں بغاوتی گروہوں کی طرف دھکیلتی رہی۔ ۲۰۰۳ء کی عراق جنگ نے خطے میں امریکہ کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ ابوغریب جیل میں تشدد کی تصاویر اور عام شہریوں کے قتلِ عام نے امریکہ کے خلاف نفرت کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا، اور یہی نفرت بعد میں داعش کی پروپیگنڈا مشینری کا بنیادی ہتھیار بن گئی۔
آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ عراق پر قبضے نے انتہاپسند گروہوں کی نشوونما کے لیے تمام ضروری حالات فراہم کیے؛ اقتدار کا خلا، وسیع عوامی ناراضگی، فرقہ وارانہ جنگ، غیر ملکی جہادیوں کی آمد اور برباد معیشت۔ داعش کوئی خود رو پدیدہ نہیں تھی، بلکہ عراق میں امریکہ کی اسٹریٹجک غلطیوں کا ایک ناپسندیدہ نتیجہ تھی۔ وہی راکھ جسے جارج بش نے مشرقِ وسطیٰ میں جمہوریت کے نام پر بکھیر دیا تھا، بالآخر ایک ایسے عفریت میں ڈھل گئی جس نے برسوں بعد پورے خطے کو آگ کی لپیٹ میں لے لیا۔




















































