آج 31 جولائی، حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اور امت کے نامور شہید احمد اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی تاریخ ہے۔ اسلامی تاریخ نے ہمیشہ اپنے صفحات ان افراد کے کارناموں سے سجائے ہیں جنہوں نے باطل کے دل میں خنجر گھونپا، جنہوں نے کسی عظیم طاقت کے سامنے سر نہیں جھکایا اور جن کا واحد سہارا اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری تھی۔
محمدی قافلے کی آغوش اب بھی اس شخصیت کی موجودگی سے مزین ہے جو وقت کے عظیم فرعون کے سامنے پہاڑ کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے اور اس کے غرور کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ یہ قافلہ اگرچہ عظیم شخصیات کے فراق سے دوچار ہوتا ہے، لیکن یہ فراق اسے کمزوری نہیں، بلکہ قوت عطا کرتا ہے۔ وہ خون جو اس قافلے کے راہنما اللہ کے لیے بہاتے ہیں، وہ اس قافلے کے لیے ان گنت نئے جوان چھوڑ جاتا ہے۔
اگر عظیم لوگوں کی شہادت سے یہ قافلہ کمزور ہو سکتا یا ختم ہو سکتا، تو آج ہمیں اس قافلے کا کوئی نشان نہ ملتا۔ کیونکہ یہ عظیم اور لازوال قافلہ جہاد کے بانی اور رہنما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جدائی کے صدمے کو بھی برداشت کر چکا ہے۔
ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان، اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے فراق سے بھی یہ قافلہ دوچار ہوا، لیکن ہم نے دیکھا کہ یہ قافلہ اب بھی سورج کی طرح روشن ہے، اس کی روشنی بہت سی جگہوں پر پھیلی ہوئی ہے، شریعت کا چشمہ رواں ہے اور یہ قافلہ اب بھی سربلند ہے۔
کل سے لے کر آج تک، امت مسلمہ کو باطل اور نام نہاد انسانیت پرستوں کی طرف سے شدید مصائب کا سامنا رہا ہے۔ اس پر ایسی وحشت ڈھائی جاتی ہے کہ قلم اسے لکھنے سے عاجز ہے اور زبان اسے بیان کرنے سے قاصر۔ لیکن وہ باطل، وہ نام نہاد انسانیت پرستت جو ایسی حرکتوں کی حمایت کرتے ہیں، وہ بھی شدید شکست سے دوچار ہوئے ہیں، ایسی شکست کہ پوری دنیا میں ان کا سر اٹھنے کے قابل نہیں رہا۔
ہم اسے اس مختصر وقت میں افغانستان سے دیکھ سکتے ہیں، جہاں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔ جب انہوں نے خدائی دعوے کیے اور خود کو سب سے برتر سمجھا، انہوں نے مظلوم افغانستان پر حملہ کیا۔ اس وقت اگر مجاہدین کو گہرے گھاؤ لگے اور وہ شکست سے دوچار ہوئے، لیکن پھر بھی ان کا جہادی جذبہ نہ ٹوٹا۔
ان مشکل حالات میں بھی، امریکہ کو پہلے معرکۂ شاہی کوٹ میں ویتنام کی یاد دلا دی گئی اور اسے شکست کا خواب دکھایا گیا۔ لیکن دو دہائیوں میں یہ غرور ایک ملنگ طالب کے پاؤں تلے روند ڈالا گیا۔ انہوں نے اپنی فوجوں کو واپس بلانا شروع کیا، اور آخری ہیلی کاپٹر بھی، جو پوری دنیا نے میڈیا پر دیکھا، رات کی تاریکی میں افغانستان سے بھاگ نکلا۔
لیکن آج ایک اور عظیم طاقت اور بڑا ظالم فلسطین کے غیور جوانوں نے گھیر رکھا ہے۔ آج فلسطین میں معرکۂ شاہی کوٹ کا اعادہ ہوا، جب حماس کے مجاہدین نے بڑے ظالم کے خلاف "طوفان الاقصیٰ” کے نام سے کامیاب آپریشن شروع کیا۔
حماس کے ان کامیاب، تیز رفتار اور بروقت منصوبہ بند آپریشنز نے دشمن کی خفیہ ایجنسی موساد، جو دنیا بھر میں مشہور تھی، کو چیلنج کیا اور اس کی ساکھ کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا۔ حماس کے اس تاریخی معرکے نے دشمن کو اس قدر کمزور کیا کہ اس نے اس قدر کمزوری اور ذلت کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔
حماس کے بہادر جوانوں نے دشمن کو بے شمار جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ عالمی ذلت میں گھرا دشمن، جو مجاہدین سے براہ راست جنگ میں ہار گیا، اس نے عام اور بے گناہ لوگوں کے خلاف درندگی شروع کی، جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ فلسطینی شہید، لاکھوں زخمی اور بے گھر ہوئے، اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
دشمن نے پورے غزہ کو اندھا دھند بمباری سے تباہ کر دیا، لیکن غزہ کی تباہی اس بات کا باعث نہ بن سکی کہ رژیم کے خلاف جاری جہاد ختم ہو جائے۔ اس جہاد نے مزید برکتیں حاصل کیں اور دشمن ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ آج وہ وقت ہے جب دشمن اور اس کے ہم خیال بار بار کہہ رہے ہیں کہ یہ جنگ اب ان کی نہیں رہی۔
مجاہدین اور غزہ کے بہادر عوام کی یہ قربانی بہت قیمتی ہے۔ اس عظیم قربانی نے ا یک بڑی سلطنت کو یہ کہنے پر مجبور کیا کہ وہ اب جنگ کے قابل نہیں، میدان شہید اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سینوار، اور محمد ضیف کے پیروکاروں نے جیت لیا۔ آج ہم اس قافلے کی ایک عظیم شخصیت کو یاد کر رہے ہیں۔
حماس کے سیاسی قائد شہید اسماعیل ہنیہ:
شہید اسماعیل ہنیہ امت کے ان پاکباز رہنماؤں میں سے تھے جو اللہ کے لیے ہر چیز قربان کرنے کو تیار تھے اور کر گئے۔ شہید احمد اسماعیل ہنیہ 23 جنوری 1962 کو اس فانی دنیا میں ہجرت کے دیار میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، دیگر مظلوم فلسطینیوں کی طرح، صہیونی رژیم کے ہاتھوں اپنے گاؤں سے زبردستی نکالے گئے اور شاطی کیمپ میں آباد ہوئے۔ شہید اسماعیل ہنیہ نے ابتدائی تعلیم دیار ہجرت میں شروع کی اور بعد میں الازہر انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم جاری رکھی۔
سیاسی میدان کے اس فاتح نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں تعلیم جاری رکھی اور بالآخر اسی یونیورسٹی سے عربی ادب میں بیچلر کی ڈگری مکمل کی۔ ان کی ذہانت، کوشش اور علم نے انہیں غزہ کی اسی اسلامی یونیورسٹی کا ذمہ دار بنایا۔
اس ذمہ داری میں ان کی خلوص نے حماس کے رہنماؤں کو ان کی ذہانت کا قائل کیا، اور 1997 میں انہیں شہید شیخ احمد یاسین کے دفتر کا ذمہ دار مقرر کیا گیا۔ شہید اسماعیل ہنیہ وہ شخص تھے جو فلسطین کے مظلوم عوام کے درد اور صہیونی رژیم کے مظالم کے جواب کو سب سے بہتر سمجھتے تھے۔
وہ اپنی پاکباز اور غیرتمندانہ زندگی کے ساتھ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے اور تھکے ہوئے عوام کی امید بن گئے تھے، نہ صرف اپنے لوگوں کی بلکہ ہر سچے مسلمان کی۔ شہید اسماعیل ہنیہ نے اپنے خلوص سے عوام میں اتنی مقبولیت حاصل کی کہ 2006 میں عوام نے ان کے پیچھے کھڑے ہو کر انہیں وزیراعظم کے انتخاب کا اعزاز بخشا۔ لیکن فلسطین کے غلام اور بیرونی اثر و رسوخ کے صدر نے 2007 میں انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا۔
بہادروں کی سرزمین سے تعلق رکھنے والا یہ بہادر، جس کا توکل صرف اللہ جل جلالہ پر تھا، اللہ اس کے ساتھ تھا اور اس نے بڑی ذمہ داریوں کو بغیر کسی کمزوری کے بخوبی نبھایا۔
قافلۂ جہاد کی یہ بیدار شخصیت 2017 میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ کے طور پر منتخب ہوئی۔ اس وقت اس نے کفر کو اسلامی سیاست کا سبق دیا اور اپنی سیاست سے دشمن کی سیاست کو مفلوج کر دیا۔
شہید اسماعیل ہنیہ دشمن کی سخت نگرانی میں تھے اور دشمن کو سب سے زیادہ مصروف رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی نہ صرف ذمہ داریوں میں گزاری بلکہ دشمن کے زندانوں میں بھی۔ وہ تین بار قید ہوئے اور اپنی زندگی کے ساڑھے تین سال سے زیادہ وقت جیل میں گزارا۔
امت کا یہ نامور رہنما دشمن کے شدید حملوں کا بھی نشانہ بنا۔ پہلے حملے میں ان کا ہاتھ زخمی ہوا، اور دوسرے حملے میں، جو 2006 میں غزہ میں ان کے قافلے پر ہوا، اللہ نے انہیں بچا لیا اور کوئی نقصان نہ پہنچا۔
اسماعیل ہنیہ نے نہ صرف صہیونی رژیم کو خوفزدہ کیا بلکہ وہ پورے کفر کی آنکھ کا کانٹا تھے۔ 2018 میں انسانیت کے سب سے بڑے دشمن اور ہر ظالم کا ساتھ دینے والے امریکہ نے انہیں بلیک لسٹ میں شامل کیا۔ لیکن بلیک لسٹ امت کے رہنماؤں کو کمزور نہیں کرتی، نہ ان کے عزم کو توڑتی ہے، بلکہ انہیں اپنے ہدف کی طرف اور متوجہ کر دیتی ہے۔
صہیونی رژیم شہید اسماعیل ہنیہ کی شہادت میں کئی بار ناکام ہوئی، اور اپنی ناکام کوششوں پر سوگ مناتی رہی۔ اس وحشی رژیم نے، جو ہنیہ کو ان کے قافلے یا دیگر حملوں میں ختم نہ کر سکی، اپنا غصہ ان کے معصوم بچوں پر نکالا اور ان کے گھر پر فضائی حملہ کیا، جس میں ان کے خاندان کے سات افراد شہید ہوئے۔ بعد میں ان کے تین بیٹوں کو بھی شہید کیا گیا۔
اپنے ساتھیوں اور خاندان کے افراد کی شہادت سے بھی شہید اسماعیل ہنیہ کا عزم کمزور نہ ہوا، بلکہ اس نے انہیں حق کے راستے پر اور مستحکم کیا۔ عیدالفطر کے دن، جب انہیں اپنے تین بیٹوں کی شہادت کی خبر ملی، ان کی زبان بار بار یہی کہتی رہی: "میرے بچوں اور ان کے خون کی قیمت غزہ کے مظلوم عوام کے روح اور خون سے زیادہ قیمتی نہیں۔”
ہاں! بالآخر اس مضبوط عقیدے کے مالک نے اپنے شہید ساتھیوں اور خاندان کے گیارہ شہداء کے راستے کو اپنایا۔ برسوں سے شہادت کے آرزو مند نے بالآخر 31 جولائی 2023 کی صبح شہادت پائی۔ اس صبح امت مسلمہ کے دل درد سے بھرے ہوئے، جسم بے چین، دماغ تھکے ہوئے اور آنکھیں اشکبار تھیں۔ ایک شدید درد محسوس ہو رہا تھا، ہر خوشی نے اپنے اوپر درد کی چادر اوڑھ لی تھی۔ یہ کیا تھا؟ یہ شہید احمد اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی صبح تھی۔
اس دن کا درد فلسطین کے مظلوم عوام پر سب سے زیادہ بھاری پڑا، اس قدر کہ وہ اپنے زخموں کا درد، اپنے بچوں کے فراق کا درد، اور بھوک و بے گھری کا درد بھول گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔




















































