فلوجہ پر قبضہ اور اہلِ سنت کے لیے نہ ختم ہونے والے درد کی ابتدا:
فلوجہ، داعش کے نمودار اور برسراقتدار آنے سے پہلے صبر و استقامت اور ایثار کی علامت تھا۔ کوئی بھی قابض طاقت اس شہر پر مکمل تسلط حاصل نہ کرسکی، کیونکہ اس کے باشندے اہلِ سنت اور مجاہد تھے۔ صلیبی افواج اور ان کے اتحادیوں کی تمام تر کوششیں ناکام ہوئیں کہ وہ اس اسٹریٹجک شہر پر پوری طرح قابض ہوجائیں، لیکن جس آفت نے اہلِ شہر کو مصیبتوں میں مبتلا کیا، وہ وقت کا طاعون(وبا) اور دھوکہ باز گروہ ’’داعش‘‘ تھا۔
۳ جنوری ۲۰۱۴ء کو داعش اس اسٹریٹجک شہر پر قابض ہونے میں کامیاب ہوگئی۔ اقتدار میں آتے ہی اس نے سینکڑوں اہلِ سنت کو شہید کیا اور شہریوں پر ظلم و جبر کا سلسلہ شروع کردیا۔ اگرچہ داعش خلافت کے قیام کا دعویٰ کرتی تھی، لیکن وہ کبھی بھی عوام کے دل جیتنے میں کامیاب نہ ہوئی، اور یہی وجہ بنی کہ وہ اپنے اقتدار کو بارآور نہ بنا سکی۔
داعش کی فکر بظاہر اسلامی نعروں کے ساتھ جُڑی ہوئی تھی، مگر اس کے اعمال شریعت الٰہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے سراسر منافی تھے۔
چند برسوں میں، جب تک داعش کا وجود رہا، اس نے عوام کے دلوں میں نفرت اور کینہ بٹھایا۔ حتیٰ کہ دوسرے مذاہب کے نہتے پیروکار، جیسے مسیحی، یہودی اور دیگر بھی اس کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ داعش کی بربریت کے نتیجے میں، اس کے زوال کے بعد، ان مذاہب کے ماننے والوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف انتقام کی آگ بھڑک اُٹھی، اور ایسا ہی ہوا۔
داعش کے زیرِ تسلط شہروں میں اقتدار کے خاتمے کے بعد، شیعہ ’’حشد‘‘، یزیدی اور مسیحی، ہر ایک نے اپنی باری پر ہزاروں افراد کو شہید کیا، سینکڑوں گھروں کو نذرِ آتش کیا اور بے شمار جرائم و مظالم ڈھائے۔
فلوجہ میں دو سالہ داعش کی حکمرانی کے بعد اہلِ شہر کے حصے میں صرف دربدری اور ظلم آیا۔ اس گروہ نے اپنی ایسی سیاہ تصویر عوام کے سامنے پیش کی کہ ان کے ماننے والوں کی پیشانی پر تاریخ ہمیشہ کے لیے ننگ و عار کا داغ ثبت کرگئی۔
۲۶ جولائی ۲۰۱۶ء کو کفری اور منافق گروہ فلوجہ پر قابض ہوئے اور اس کے بعد ہزاروں باشندوں کو، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے، شہید کردیا۔




















































