جمہوریت موجودہ دنیا کے ان تصورات میں سے ہے جسے سب سے زیادہ فروغ، تعریف و تحسین اور انسانی نجات کے نام پر بین الاقوامی سطح پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس نے ’’عوام کی حکومت‘‘ کا نعرہ بلند کیا، لیکن اس کے پیچھے کفر، غرور، استحصال اور الہی نظام کے ساتھ کھلی دشمنی کے خفیہ مقاصد چھپے ہیں۔
جمہوریت نہ صرف یہ کہ الہی احکام سے ماخوذ نہیں، بلکہ یہ انسانی پیداوار ہے، جو انسانی عقل کے غلط تجربات کے تسلسل سے وجود میں آئی۔ اس نظام میں حق و باطل کا معیار اللہ کے حکم کے بجائے اکثریت کی رائے ہے۔ اگر اکثریت شرک کی حمایت کرے تو وہ قانون بن جاتا ہے؛ اگر فحاشی و عریانی کی حمایت کرے تو اسے آزادی کے نام پر قانونی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ وہ خطرناک اصول ہے جو توحیدِ الہٰی، عدل اور شریعت کے ساتھ کھلے تصادم کا حامل ہے۔
جمہوریت ہمیشہ انسانی آزادی کے نعرے بلند کرتی ہے، لیکن اسی نعرے کے سایے تلے یہ سب سے زیادہ ظلم، حملے اور استحصال کرتی رہی ہے۔ آج بھی اسی نظام کے نام پر امتِ مسلمہ بمباری، یلغار، اقتصادی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور جاسوسی سازشوں کے تحت زندگی گزار رہی ہے۔ وہ قومیں جو اپنا دینی، شرعی اور خودمختار نظام قائم رکھنا چاہتی ہیں، جمہوریت کے نام پر نشانہ بنائی جاتی ہیں۔
اس کے برعکس اسلام ایک الٰہی نظام ہے جو اللہ تعالی کی وحی پر قائم ہے۔ اس میں اختیار صرف اللہ کے پاس ہے، انسان کے پاس نہیں۔ شریعت زندگی کے ہر شعبے کی رہنمائی کرتی ہے اور انسانی فطرت کے مطابق فساد، ظلم اور ضلالت کے خلاف ایک الہی ڈھال ہے۔ اسلام عدل، انصاف، ذمہ داری، تقویٰ اور مشورے کی بنیاد پر حکومت قائم کرنے کی رہنمائی کرتا ہے، نہ کہ اکثریت کی رائے سے باطل کو قانونی شکل دی جاتی ہے۔
مسلمانوں کو ہوشیار رہنا چاہیے کہ جمہوریت کے دلکش نعرے انہیں گمراہ نہ کریں۔ یہ ایک فکری جال ہے جو اسلامی اقدار کے خاتمے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ نظام نہ انسانی مسائل حل کرتا ہے، نہ عدل و انصاف کا حامل ہے، نہ استحصال ختم کرتا ہے اور نہ کمزوروں کا ساتھ دیتا ہے، بلکہ مستکبرین کے لیے ایک رسمی نظام کے طور پر کام کرتا ہے تاکہ دنیا کی تقدیر پر قابو پاسکے۔
اب بھی وقت ہے کہ مسلمان اپنی بنیاد واصول کی طرف لوٹ آئیں، شریعتِ الٰہی کی بنیاد پر سیاسی، سماجی اور اقتصادی نظام قائم کریں۔ ہمارا فریضہ ہے کہ ہم جمہوریت کے خیر خواہ اور مجرم چہرے کو بے نقاب کریں، عوام کو اس کی حقیقی تصویر دکھائیں اور اسلامی نظام کی دعوت دیں، کیونکہ صرف یہی نظام انسان کی فطرت، عزت اور فلاح کی ضمانت دے سکتا ہے۔




















































