جون ۲۰۰۲ء میں پاکستان نے ایک حیران کن فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے تحت چند کمپنیوں کو یہ اجازت دی گئی کہ وہ کارپوریٹ زراعت (Corporate Farming) کے لیے ملک میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین اپنے اختیار میں لے سکتی ہیں، اور اس مقصد کے لیے متعلقہ سہولیات فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
کارپوریٹ زراعت سے مراد یہ ہے کہ ایسے وسیع زرعی فارم قائم کیے جائیں جو ہزاروں ایکڑ زمین پر مشتمل ہوں، تاکہ زرعی وسائل جدید طریقے سے بروئے کار لائے جا سکیں اور پیداوار میں اضافہ ہو۔
البتہ اس وقت ایک بنیادی مشکل یہ تھی کہ چونکہ جدید زرعی وسائل اور تکنیکی ذرائع کا استعمال عام کسانوں کے لیے ممکن نہ تھا، اور چند بڑے زمینداروں کے سوا کسی کے پاس اتنی بڑی مساحت پر پھیلی اراضی موجود نہیں تھی کہ اسے جدید فارموں میں بدلا جا سکے، لہٰذا اس کا حل یہ نکالا گیا کہ چند کمپنیوں کو اجازت دی جائے کہ وہ مختلف چھوٹے مالکان سے زمین حاصل کر کے بڑے فارم قائم کریں، تاکہ ملک کی زراعت بھی ترقی کرے اور عوام کو بھی فائدہ پہنچے۔
اسی مقصد کے لیے چند کمپنیوں کو موقع دیا گیا۔ ان کمپنیوں نے بڑے زرعی فارم قائم کر کے پاکستان میں زرعی ترقی کے نعرے کے تحت سرمایہ کاری بھی کی اور بظاہر تعاون بھی دکھایا۔
تاہم یہ کمپنیاں دراصل وہ بین الاقوامی تجارتی ادارے تھے جن کی سرمایہ کاری دنیا کے کئی ممالک میں پھیلی ہوئی ہے، جن میں مختلف مغربی ممالک کے سرمایہ کار شامل ہیں، اور جو ایک گروہی سرمایہ کاری نظام (corporate investment system) کے تحت کام کرتے ہیں۔
موضوع پر پہلے ہی بحث ہو چکی تھی اور پھر فیصلہ کیا گیا کہ چند بین الاقوامی کمپنیوں کو پاکستان میں زرعی زمین خریدنے کی اجازت دی جائے۔ تاہم اس وقت کے پاکستانی ریونیو بورڈ نے بعض قانونی رکاوٹیں ظاہر کیں، جس کی وجہ سے یہ عمل وقتی طور پر معطل رہا۔
مگر ۲۰ جون ۲۰۰۲ء کو لاہور میں ایک نیوز کانفرنس میں اس وقت کے وزیراطلاعات نثار میمن نے کہا:
’’میری رائے میں کمپنیوں کو کارپوریٹ زرعی فارم قائم کرنے کے لیے زمین دینے کے بارے میں ریونیو بورڈ کی قانونی مشکلات کا حل یہ ہے کہ پاکستان میں زمین خریدنے کی بجائے انہیں کرایہ/اجارہ پر زمین دینے کی اجازت دی جائے۔‘‘
جب یہ اجازت دی گئی، تو اس وقت کے حکومتی اور عسکری حلقوں نے اس فیصلے کو پاکستان کی زرعی ترقی کے لیے مفید اور ضروری سمجھا۔ چند کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور محنت کو پاکستان کے مفاد اور ان کی نیک نیت کی علامت قرار دیا گیا۔
تاہم، اسی وقت کے بعض دانشمند اور حقیقی پاکستانی اہلِ علم نے گزشتہ تجربات کی روشنی میں اس فیصلے کے منفی اثرات اور ممکنہ نتائج کی نشاندہی کی۔ انہوں نے اپنی تشویش اور مستقبل کے خطرات میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے عوام کے ساتھ شیئر کیے، مگر ان ماہرین کو مختلف بہانوں سے دبایا گیا۔
ان ماہرین کا استدلال تھا کہ تقریباً ۸۰ سال تک فلسطین عثمانی خلافت کے زیرِ انتظام ایک صوبہ رہا اور پورے فلسطین میں کہیں بھی کوئی یہودی آباد کاری نہیں تھی۔
عثمانی خلفاء نے یہ اجازت تو دی تھی کہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں بسنے والے یہودی، سفری ویزے پر فلسطین آکرمقدس مقامات کی زیارت کریں اور چند دن وہاں قیام کریں، مگر انہیں یہ اجازت نہیں تھی کہ وہ فلسطین میں زمین خریدیں یا وہاں مستقل طور پر آباد ہوں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ عثمانی خلیفہ بخوبی جانتا تھا کہ یہودی ایک تدریجی منصوبے کے تحت فلسطین میں سکونت اختیار کرنا چاہتے ہیں، تاکہ بالآخر اس علاقے پر قبضہ کرکے اسرائیل کے نام سے اپنی ریاست قائم کر سکیں۔
اسی بنا پر عثمانی خلافت کا رویہ بظاہر نرم اور لچک دار تھا، مگر وہ کسی بھی صورت میں یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کا موقع دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔
اس بارے میں سلطان عبدالحمید ثانی اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں:
’’عالمی یہودی تنظیم کے سربراہ ہرزل نے مجھ سے کئی بار ملاقات کی اور یہ خواہش ظاہر کی کہ اسے فلسطین میں زمین خریدنے اور محدود تعداد میں یہودیوں کو وہاں بسانے کی اجازت دی جائے، لیکن میں نے صاف انکار کر دیا۔‘‘
مؤرخین لکھتے ہیں کہ ایک موقع پر ہرزل نے سلطان عبدالحمید ثانی کو چیک بُک پیش کی اور مطلوبہ رقم دینے کی پیشکش بھی کی، مگر سلطان نے نہایت سخت لہجے میں اس کی سرزنش کی اور کہا:
’’یہ میرے جیتے جی ممکن نہیں!‘‘
اس واقعے کے بعد سلطان عبدالحمید ثانی نے ہرزل سے تمام ملاقاتیں منقطع کر دیں۔
اس کے بعد سلطان عبدالحمید ثانی کے خلاف ایک منظم تحریک شروع کی گئی۔ انہیں خلافت سے معزول کر کے نظر بند کر دیا گیا۔ سلطان اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ ترکی میں ان کے خلاف اس تحریک اور ان کی حکومت کے خاتمے کی سازش میں یہودیوں کا بڑا ہاتھ تھا۔ جن لوگوں نے خلافت کو ختم کرنے میں کردار ادا کیا، ان میں ترک مشاورتی کونسل (شوریٰ) کا ایک یہودی رکن بھی شامل تھا۔
۱۹۲۰ء میں عثمانی خلافت کے زوال کے بعد فلسطین خلافت کے دائرۂ اختیار سے باہر ہو گیا، اور برطانیہ نے وہاں قبضہ کر کے ایک برطانوی گورنر کے زیرِ نگرانی یہودیوں کی آبادکاری کا عمل شروع کیا۔
پہلے مرحلے میں دنیا کے مختلف حصوں سے یہودی فلسطین آئے، پھر انہوں نے وہاں زمینیں خریدنا شروع کیں اور آہستہ آہستہ آباد ہوتے گئے۔ اس موقع پر جلیل القدر علماء نے صورتِ حال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے فتویٰ دیا کہ چونکہ یہودی فلسطین میں مستقل طور پر بسنے اور بعد ازاں بیت المقدس پر قبضہ کرکے وہاں اپنی ریاست قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اس لیے شریعتِ اسلامیہ کے مطابق کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی زمین یہودیوں کو فروخت کرے، اور نہ ہی فلسطینیوں کو اپنی زمین ان کے ہاتھ بیچنے کی اجازت ہے۔
اگر قارئین اس فتوے سے متعلق مزید تفصیل جاننا چاہیں تو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ’’بوادر النوادر‘‘ میں اسی موضوع پر ایک مفصل فتویٰ موجود ہے، جہاں اسے پڑھا جا سکتا ہے۔
تاہم، علماء کی یہ مہم اور کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں۔ چونکہ یہودی زمینیں عام قیمت سے دو یا تین گنا زیادہ داموں میں خرید رہے تھے، اس لیے فلسطینیوں نے لالچ میں آ کر علماء کے فتاوی کو نظر انداز کر دیا۔ نتیجہ آج سب کے سامنے ہے کہ فلسطین کے بیشتر علاقے یہودیوں کے قبضے میں ہیں۔
اس طرزِ عمل کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ انہی خریدی گئی زمینوں پر اسرائیل کی ریاست قائم ہوئی، بلکہ پورا فلسطین غصب کر لیا گیا اور یہ مسئلہ پوری عرب دنیا کے لیے ایک ناسور بن گیا۔ بیت المقدس میں یہودی طاقت مستحکم ہوئی، فلسطینی اپنی ہی سرزمین میں بے وطن قرار پائے، جبکہ یہودیوں اور ان کے عالمی سامراجی سرپرستوں نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے زندگی تنگ کر دی۔
اسی طرح بعض رپورٹس کے مطابق پاکستان میں خانیوال سے سیالکوٹ تک ایک ’’عیسائی ریاست‘‘ کے قیام کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ریاست آنے والے چند برسوں میں وجود میں آ سکتی ہے۔ شاید ہمیں یہ ایک دیوانے کا خواب محسوس ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس علاقے کے مختلف مقامات پر اب تک تیس کے قریب خالص عیسائی بستیاں قائم ہو چکی ہیں، جہاں تیزی سے تعمیراتی کام جاری ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو چند ماہ میں ان کی تعداد سیکڑوں تک پہنچ سکتی ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ پاکستان میں یہودیوں اور عیسائیوں کے مشترکہ چند قومی کمپنیوں کو زرعی اراضی دینے کی اجازت سے، اب مختلف علاقوں میں عیسائیوں کی غیر رسمی سینکڑوں بستیاں وجود میں آچکی ہیں اور خانیوال سے سیالکوٹ تک تقریباً تیس رسمی بستیاں قائم ہو چکی ہیں۔ اس سے عیسائی ریاست کے قیام کے منصوبے کے عمل میں آنے میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا۔ اگرچہ انہیں زمین بیچی نہیں گئی بلکہ کرایہ پر دی گئی، لیکن نہ تو زمین کی قیمت کے لیے کوئی حد مقرر کی گئی اور نہ ہی فیصلے میں کرایہ کی مدت کا ذکر کیا گیا۔ لہٰذا چند قومی کمپنیوں کو زمین بیچنے یا کرائے پر دینے میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا اور کرایہ دینے سے وہی خطرات اور خدشات ختم نہیں ہوتے جن کا ہم پہلے تذکرہ کر چکے ہیں۔
اسی طرح ہمارے پاس ایک اور عملی مثال پاکستان میں موجود ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعد پنجاب کے برطانوی گورنر سر موڈی نے چنیوٹ کے قریب چناب کے کنارے قادیانیوں کو زمین کرایے پر دی، جہاں انہوں نے ربوہ نامی شہر تعمیر کیا۔ جس کا نام بعد ازاں تحریک ختمِ نبوت کی مسلسل درخواست پر ’’چناب نگر‘‘ رکھ دیا گیا۔ یہ زمین ابھی تک سرکاری اسناد میں ’’انجمن احمدیہ کے صدر‘‘ کے نام سے کرایے پر درج ہے، مگر عملی طور پر اس کرایہ کی زمین پر ایک خالص قادیانی کالونی موجود ہے، جہاں کسی مسلمان کو رہائش کی اجازت نہیں اور اس کالونی کی حیثیت ایک مستقل ریاست جیسی ہے، اور مسلمانوں کی بارہا کوششوں کے باوجود اس نام نہاد کرایہ داری معاہدے کو ختم نہیں کیا جاسکا۔
پاکستان میں سیاسی حکومتیں ہمیشہ فوج کے زیرِ تسلط رہی ہیں؛ لہٰذا ملک کے اندر اور باہر ایسے تمام منصوبے عموماً فوج اور خفیہ اداروں کے ذریعے آگے بڑھائے جاتے ہیں۔
ہم امید کرتے ہیں کہ مسلمانانِ پاکستان اور ہر شعبے کے سنجیدہ و محب وطن حضرات ان خطرات کو سنجیدگی سے لیں گے، اور ان کے تدارک کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے سے ہرگز دریغ نہ کریں گے، تاکہ اسلام کے نام پر قائم یہ وطن عیسائیوں کو فروخت نہ کیا جائے۔




















































