چند روز قبل، ۲۵ اکتوبر کو، پاکستان کے نااہل وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سیالکوٹ شہر سے ایک ٹیلی ویژن تقریر میں دھمکی دی کہ اگر استنبول امن مذاکرات (جو دوحہ میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے ہو رہے ہیں) ناکام ہو جاتے ہیں تو پاکستان افغانستان کے ساتھ کھلی جنگ شروع کر دے گا۔
کھلی جنگ وہ ہوتی ہے جو باضابطہ، اعلانیہ اور بغیر کسی پابندی کے کی جاتی ہے؛ اس جنگ میں نہ جغرافیہ کوئی معنی رکھتا ہے اور نہ سرحدیں۔ تمام فوجی وسائل، ہوائی، زمینی، میزائل اور حتیٰ کہ سائبر فورسز سمیت تک اس میں استعمال ہوتی ہیں اور اس کا مقصد عام طور پر دشمن کی فوجی طاقت کا خاتمہ، علاقے پر قبضہ یا نظام کی تبدیلی ہوتا ہے۔
اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ آصف کا یہ دعویٰ کتنا حقیقت سے قریب ہے؟ کیا واقعی پاکستان کا موجودہ رجیم افغانستان سے جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ہم اس تحریر میں دیں گے۔
سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت اندرونی طور پر کئی چیلنجز سے نبردآزما ہے، جیسے: مسلح گروہ، بھاری قرضے اور عوام کی حمایت کا فقدان؛ یہ تین بڑے بحران ہیں جن میں سے ہر ایک بذاتِ خود حکومت کے گرنے اور نظام کے مکمل طور پر تباہ ہونے کے لیے کافی ہیں۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے علاقوں میں، تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی جیسے گروہ حکومت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ اپنے شدید گوریلا حملوں کے ذریعے، ان گروہوں نے پاکستان کی کمزور سکیورٹی کو چیلنج کیا ہے اور حکومتی افسران کی نااہلی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
دوسری جانب، پاکستان کی معیشت اندرونی اور بیرونی بھاری قرضوں تلے دب گئی ہے۔ ملک کا کل قرضہ ۲۸۰ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور حکومت کی آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں کی واپسی میں خرچ ہو رہا ہے۔ بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران نے لوگوں کو مایوس کر دیا ہے اور سرمایہ کاری کا ماحول روز بروز کم ہو رہا ہے۔
اس کے علاوہ، شہباز شریف کی اتحادی حکومت عوام میں عدم اعتماد کا شکار ہے۔ ۲۰۲۴ء کے انتخابات پر دھاندلی کے سنگین الزامات لگے، اور مخالفین، خاص طور پر عمران خان کی پارٹی، اب تک حکومت کی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے۔
سیاست میں فوج کی مداخلت، مظاہرین کو کچلنا، مہنگائی میں اضافہ اور بے روزگاری نے ایک ایسی "غیر عوامی” حکومت کا نقشہ بنایا ہے جس کے بارے میں لوگ یقین رکھتے ہیں کہ یہ رجیم ان کی فلاح کے لیے نہیں بلکہ اپنے اقتدار کی بقا کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہی عوامی ناراضگی، معاشی اور سکیورٹی بحرانوں کے ساتھ، پاکستان کو ایک خطرناک مرحلے میں ڈال چکی ہے اور اس نے ملک کا مستقبل مبہم بنا دیا ہے۔
ان تمام مسائل کے باوجود، پاکستان کا وزیر دفاع کھلے عام افغانستان کو جنگ کی دھمکی دے رہا ہے، حالانکہ افغانستان کی سرزمین پر حملے کے بعد، افغان فورسز کی طرف سے سخت اور تھکا دینے والے جواب کا سامنا کرنا پڑا؛ وہ ردعمل جس میں کئی پاکستانی فوجیوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔
افغانستان کی طرف سے یہ مضبوط جواب پاکستانی حکام کے لیے کافی تھا، یہاں تک کہ انہوں نے عرب ممالک سے درخواست کی کہ وہ افغان حکام سے بات کریں اور جنگ روکنے کی اپیل کریں۔
تو یہ تھکا ہوا اور اندر سے منہدم ہوتا نظام، جو چند افغان مجاہدین کے سامنے زمینی جنگ کی طاقت نہیں رکھتا، اس کا وزیر دفاع ٹیلی ویژن پر آ کر ایسی بے معنی باتیں کرتا ہے اور کھلی اور اعلانیہ جنگ کی دھمکی دیتا ہے؟
ہاں! اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو پاکستان کی حکومت ایک احمقانہ فیصلہ کر سکتی ہے اور افغانستان کے خلاف جنگ کا اعلان کر سکتی ہے۔ لیکن نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا اچھی طرح جانتی ہے کہ اس جنگ کے اختتام پر صرف ایک قوم کامیاب اور سرخ رو رہے گی اور وہ افغانستان کا اسلامی نظام اور غیرت مند قوم ہے اور بس۔
یہ وہ حقیقت ہے جو پاکستان سے کئی گنا طاقتور قوتیں، جیسے برطانیہ، سابق سوویت یونین اور امریکہ کو بھی ثابت ہو چکی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو یہ حقیقت ایک بار پھر پاکستان کو بھی ثابت ہو جائے گی۔




















































