داعش کے مغربی انتہا پسند حمایتی کون ہیں؟
مغربی انتہا پسند حمایتی اُن افراد یا گروہوں کو کہا جاتا ہے جو یورپ یا دیگر مغربی ممالک کے رہائشی ہوں، اور مختلف طریقوں سے داعش جیسی انتہا پسند تنظیم کی مدد کرتے ہوں۔ یہ افراد براہِ راست جنگ میں حصہ نہیں لیتے، مگر مالی، معلوماتی، لوجسٹک یا پروپیگنڈا کے ذریعے تنظیم کا ساتھ دیتے ہیں۔ ان کی خصوصیات اور سرگرمیاں عمومی طور پر درج ذیل ہیں:
مالی معاونت؛ درج ذیل صورتوں میں:
۱۔ جنگجوؤں کے سفر، تربیت اور اسلحے کے لیے رقوم کا جمع کرنا اور منتقل کرنا۔
۲۔ فلاحی اداروں، جعلی کمپنیوں، سوشل سیکیورٹی نظام، وی اے ٹی یا بینکاری دھوکے کے ذریعے فنڈ جمع کرنا۔
۳۔ نقد رقم منتقل کرنے والے کورئیرز اور غیر رسمی حوالہ نیٹ ورک (Hawala) کا استعمال۔
پروپیگنڈا اور نظریاتی معاونت:
۴۔ سوشل میڈیا، ویب سائٹس، آن لائن مجلات اور فورمز کے ذریعے داعش کا پیغام عام کرنا۔
۵۔ انتہا پسند نظریات کی تبلیغ اور نوجوانوں کو اس کی طرف مائل کرنا۔
لوجسٹک معاونت؛ درج ذیل صورتوں میں:
۶۔ سفر اور دستاویزات کی فراہمی (جعلی پاسپورٹ، ویزے، اور سفر کے راستے مہیا کرنا)
۷۔ آلات اور ساز و سامان کی فراہمی
ذاتی خصوصیات: ان حمایتیوں کی چند نمایاں خصوصیات:
۸۔ بعض افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں، مگر داعش کے نظریاتی جال میں پھنس جاتے ہیں۔
۹۔ کچھ افراد کا مجرمانہ پس منظر ہوتا ہے، منشیات کے عادی ہوتے ہیں یا جیل کی سزا کاٹ چکے ہوتے ہیں۔
۱۰۔ بعض مذہبی علماء یا عام مسلمان ہوتے ہیں جو ’’اسلامی خلافت‘‘ کے نام پر داعش کی گمراہ کن دعوت کا شکار بن جاتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ افراد، جو یورپ یا دیگر مغربی ممالک کے رہائشی ہوتے ہیں، براہ راست جنگ میں حصہ لیے بغیر داعش کے عالمی نیٹ ورک کے لیے مالی، پروپیگنڈا اور لوجسٹک تعاون فراہم کرتے ہیں، اور یوں تنظیم کے بین الاقوامی دہشت گردانہ اقدامات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
داعش کے غیر ملکی دہشت گرد جنگجو(ISIS Foreign Terrorist Fighters – FTFs):
داعش کے غیر ملکی دہشت گرد جنگجو کون ہیں؟
داعش کے غیر ملکی دہشت گرد جنگجو وہ افراد ہیں جو اپنا وطن چھوڑ کر داعش جیسی دہشت گرد تنظیم سے وابستہ ہو جاتے ہیں، تاکہ عراق، شام اور دیگر جنگ زدہ علاقوں میں مسلح کارروائیوں کا حصہ بن سکیں۔ یہ افراد عموماً مذہبی یا نظریاتی محرکات، ’’اسلامی خلافت‘‘ کے دعوؤں، یا اپنے ملک میں بدامنی، ناانصافی اور محرومی جیسے عوامل کے باعث داعش کے پروپیگنڈے کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ داعش ان جنگجوؤں سے صرف میدانِ جنگ میں ہی نہیں بلکہ پروپیگنڈا، تربیت، نئے افراد کی بھرتی، اور گھریلو و سماجی ڈھانچوں کی مضبوطی سمیت کئی محاذوں پر فائدہ اٹھاتی ہے۔
خصوصیات اور سماجی پس منظر:
داعش کے غیر ملکی جنگجو دنیا کے مختلف خطوں سے آئے ہیں؛ مغربی ممالک سے لے کر مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا اور شمالی افریقہ تک۔ ان میں سے بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے جو سماجی ناانصافی، بے روزگاری، خاندانی مسائل اور روحانی خلاء کی وجہ سے داعش کے انتہا پسندانہ پروپیگنڈے کا شکار بنے۔
کچھ افراد ’’اسلامی شناخت کے دفاع‘‘ کے نام پر شامل کیے گئے، لیکن داعش نے ان کے اس مذہبی جذبے کو اپنی جنگ اور پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا۔ اسی طرح کچھ جنگجو ایسے بھی تھے جن کا مجرمانہ ریکارڈ تھا، نشہ آور اشیا کے عادی تھے یا جیل کی سزا کاٹ چکے تھے۔ جبکہ دوسری طرف کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی تھے جو ’’اسلامی خلافت‘‘ کے نام پر کیے گئے دعووں سے دھوکہ کھا گئے۔
بھرتی اور تربیت کے طریقے:
داعش نے غیر ملکی جنگجوؤں کی بھرتی کے لیے ایک منظم پروپیگنڈا اور نفسیاتی نظام قائم کیا تھا۔ یہ تنظیم ٹوئٹر، ٹیلیگرام، فیس بک اور یوٹیوب جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ’’جہاد‘‘، ’’خلافت‘‘ اور ’’اسلامی شناخت‘‘ کے نام پر دعوتی مہم چلاتی تھی۔ ان کی آن لائن مجلات، جیسے Dabiq اور Rumiyah، ان نظریات کا بنیادی ذریعہ تھیں۔
داعش مقامی اماموں، مذہبی حلقوں اور خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرتی تھی۔ جب کوئی فرد قائل ہو جاتا، تو اسے مخصوص تربیتی مراکز میں لے جایا جاتا، جہاں انہیں:
۱۔ بنیادی عسکری تربیت
۲۔ نظریاتی برین واشنگ (Indoctrination)
۳۔ اور خودکش یا جنگی مشنوں کے لیے خاص ہدایات فراہم کی جاتیں۔
آمدورفت کے راستے:
داعش کے غیر ملکی جنگجو اپنے ممالک سے نکل کر زیادہ تر ترکی، اردن اور لبنان پہنچتے تھے، اور پھر وہاں سے عراق اور شام میں داخل ہوتے تھے۔ ان میں سے کئی افراد جعلی پاسپورٹوں، اسمگلنگ نیٹ ورکس، سفری ایجنٹوں اور کمزور بارڈر کنٹرول کی مدد سے سرحدیں عبور کرتے تھے۔
۲۰۱۷ء تک ترکی کا راستہ سب سے زیادہ استعمال ہوتا تھا، کیونکہ وہاں نگرانی اور کنٹرول نسبتاً کمزور تھا۔ اسی طرح کچھ افراد نے ملازمت کے ویزوں، مہاجر یا انسانی امداد کے نام پر سفر کا بہانہ بنایا، جبکہ بعض نے مقامی رابطوں اور خاندانی ذرائع کا سہارا لے کر خفیہ طور پر جنگی علاقوں تک رسائی حاصل کی۔
خطرات اور واپسی کے مسائل
داعش کے خاتمے کے بعد اپنے وطن واپس آنے والے غیر ملکی جنگجو شدید سیکورٹی خدشات کا باعث سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے پاس جنگی تجربہ ہوتا ہے، داعش کی نظریاتی اثر پذیری ان میں باقی رہتی ہے اور بعض افراد اب بھی داعش کے خفیہ نیٹ ورکس سے رابطے رکھتے ہیں۔
ان کی عدالتی نگرانی، نفسیاتی بحالی اور سماجی انضمام (Reintegration) کا عمل نہایت پیچیدہ اور مشکل ہے۔ بعض ممالک نے تو ان کی شہریت ہی منسوخ کر دی، کچھ کو قید کیا گیا، اور کچھ مخصوص نگرانی کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔
قانونی و انٹیلیجنس ردِعمل:
داعش کے غیر ملکی جنگجوؤں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے جواب میں کئی ملکوں نے مختلف اقدامات کیے:
۱۔ FTFs سے متعلق خصوصی قوانین مرتب کیے گئے
۲۔ سفری پابندیوں کی فہرستیں (No-fly lists) نافذ کی گئیں
۳۔ پاسپورٹ منجمد کرنا اور شہریت ختم کرنا
۴۔ بینکاری اور کرپٹو لین دین پر سخت نگرانی
۵۔ بین الاقوامی انٹیلیجنس تعاون کے نظام قائم کیے گئے
۶۔ سوشل میڈیا پر داعشی مواد کے خلاف عالمی سطح پر مہمات چلائی گئیں
سفارشات اور روک تھام کے اقدامات:
اس مسئلے کے حل کے لیے ضروری ہے کہ انٹیلیجنس، مالیاتی اور سائبر نگرانی کے درمیان مؤثر ہم آہنگی قائم کی جائے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو انتہا پسندانہ پروپیگنڈے کی روک تھام کے لیے فعال طور پر مانیٹر کیا جائے، اور مقامی کمیونٹیز، تعلیمی اداروں اور مذہبی علماء کو داعش مخالف آگاہی پروگراموں میں شامل کیا جائے۔
اسی طرح وطن واپس آنے والے افراد کے لیے خصوصی منصوبے وضع کیے جائیں جن میں:
نفسیاتی مدد، سماجی بحالی اور مسلسل تربیت (Skills training)فراہم کی جائے۔ تمام اقدامات انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق، عدالتی اور قانونی طریقہ کار کے اندر رہ کر کیے جائیں۔




















































