پاکستان کے زوال کا چھٹا بڑا سبب اس کی معاشی بدحالی ہے۔ اگرچہ ہم اس کے معاشی ڈھانچے کو باقاعدہ سقوط نہ کہیں، لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی معیشت عملاً انہی حالات کے دہانے پر کھڑی ہے۔ پاکستان کا حکومتی ڈھانچہ اس وقت ۱۳۷ ارب ڈالر سے زیادہ کا مقروض ہے، اور اس قرض کا سود ہر سال اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ ملک کی مجموعی معاشی ترقی اس کا ساتھ نہیں دے پاتی۔
اسی کے ساتھ پاکستان کی صنعت بھی تباہی کے کنارے آ پہنچی ہے۔ سینکڑوں کارخانے بند پڑے ہیں جبکہ باقی ماندہ بھی بند ہونے کے قریب ہیں۔ بین الاقوامی مالياتي فنڈ (IMF) نے پاکستان پر سخت پابندیاں مسلط کر رکھی ہیں جنہوں نے ملک کے صنعتکاروں کو شدید مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔ آئی ایم ایف کی بڑی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ پاکستان بجلی، تیل اور گیس کی قیمتیں عوام پر مزید بڑھائے؛ یہ شرط خود صنعت کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ اس سے پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مہنگی ہو جانے کے سبب مقابلہ کھو بیٹھتی ہیں۔
پاکستان کی معیشت کی بربادی کا ایک اور بنیادی عنصر سیاسی عدم استحکام، بھاری ٹیکس اور خراب امن و امان ہے؛ وہ عوامل جو سرمایہ کاروں کو نئی سرمایہ کاری سے روک دیتے ہیں، جب کہ پرانے سرمایہ کار اپنی رقوم ملک سے باہر منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔
پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی بھی ایک بڑا دباؤ ہے۔ ہر سال لاکھوں لوگ بڑھ رہے ہیں، اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے، مگر اس رفتار سے نہ نئی صنعتیں قائم ہو رہی ہیں اور نہ برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ اس کے برعکس، کارخانوں اور ملازمتوں کی تعداد روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر بھی مسلسل گر رہی ہے اور ملک کا عالمی مالیاتی اعتبار کمزور پڑتا جا رہا ہے؛ جو معیشت کے لیے ایک اور کاری ضرب ہے۔
دن بدن نئے قرضے لینا پاکستان کی معاشی تباہی کو اور یقینی بنا رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں نے ملک کی زراعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے؛ ہر سال سیلاب، بعض علاقوں میں خشک سالی، بدانتظامی، فصلوں کو لگنے والی بیماریاں، اور اس کے ساتھ ساتھ بھارت کی جانب سے پانی روکنے کے اقدامات؛ سب نے پاکستان کی زرعی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ نتیجتاً خوراک کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور عوام شدید مسائل سے دوچار ہیں۔
پاکستان کی بگڑی ہوئی سیاست، جس نے عوام کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کو بھی شدید پریشان کر رکھا ہے، ایک الگ مصیبت ہے۔ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ سیاست اور معیشت کو آپس میں گڈمڈ رکھا ہے اور اسی روش نے سرمایہ کاروں کو کروڑوں نہیں بلکہ اربوں کا نقصان پہنچایا ہے۔ یہ دراصل پاکستانی فوج کی جانب سے اپنی ہی معیشت پر وار ہے۔
جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا، پاکستان کی فوج اور حکومت مکمل طور پر کرائے کے نظام پر چلتے ہیں۔ ان میں نہ کوئی دینی جذبہ باقی رہا ہے اور نہ کوئی قومی شعور؛ ان کا ایک ہی مقصد ہے؛ وہ ہے پیسے کمانا۔ اسی لیے جب پاکستان کی معیشت تباہ ہوجائے گی، تو فوجی اقتدار بھی زمین بوس ہو جائے گا، کیونکہ پھر ریاست اپنے کرائے کے سپاہیوں کو تنخواہیں دینے کے قابل نہیں رہے گی۔ اور وہ ظالم و فاسد جرنیل، جو رشوت اور لوٹ کھسوٹ کی بے تحاشا دولت کے عادی ہو چکے ہیں، مجبور ہوں گے کہ عوام پر مزید ظلم کریں اور حکومت کے ہر اثاثے کو بیچ ڈالیں۔
پاکستان کا فوجی ڈھانچہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ پیسے کے بغیر ایک دن بھی مفت کام نہیں کرتا۔ پاکستان کا خفیہ نظام بھی مکمل طور پر دولت کے گرد گھومتا ہے۔ اگر پیسہ نہ رہا، تو وہی افراد جو آج ان کے لیے معلومات اکٹھی کرتے ہیں، کل انہی خفیہ رازوں کو بیچ کر پاکستان کے مخالفین کی خدمت کریں گے۔
مختصراً یوں کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور فوج کسی قومی یا مذہبی جذبے پر نہیں بلکہ صرف پیسے کی طاقت پر قائم ہے۔ اگر معیشت دھڑام سے گر گئی اور خزانہ خالی ہو گیا، تو حکومت اور فوج دونوں ساتھ ہی گر جائیں گے۔ کیونکہ پاکستان کے حکمران طبقے اور فوج میں ایسا کوئی شخص باقی نہیں رہا جو اپنے ملک کے لیے ایک دن بھی بلا معاوضہ کام کر سکے۔




















































