سماجی انشورنس/فلاح و بہبود کے نظام میں دھوکہ دہی
داعش گروہ اپنے مقاصد کے نفاذ کے لیے مختلف جائز اور ناجائز ذرائع سے مالی وسائل جمع کرتا ہے۔ ان میں سے ایک انتہائی خطرناک اور موثر طریقہ سماجی انشورنس یا فلاح و بہبود کے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھانا ہے، جسے انگریزی میں "Benefit Fraud” کہا جاتا ہے۔ یہ دھوکہ دہی صرف مالی بدعنوانی نہیں بلکہ داعش کی فنڈنگ کا ایک خفیہ اور انتہائی خطرناک ذریعہ بھی ہے۔
داعش نے اسی طریقے سے کئی یورپی اور مغربی ممالک میں اپنے ارکان کو سہولیات فراہم کیں، حکومتی امداد سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور وہ پیسہ جنگ، دہشت گرد حملوں اور میڈیا پروپیگنڈہ پر خرچ کیا۔ یہ عمل نہ صرف میزبان ممالک کے قانونی اور مالی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی بہت بڑا خطرہ ہے۔
سماجی امداد کے نظام سے دھوکہ دہی اس وقت ہوتی ہے جب کوئی شخص یا گروہ حقیقی حالات کے برخلاف حکومتی امداد حاصل کرتا ہے۔ مثالیں درج ذیل ہیں:
– بے روزگاری کے نام پر امداد لینا
– معذوری یا فیملی سپورٹ کے بارے میں جھوٹی معلومات دینا
– آمدنی، گھریلو حالات اور اصل زندگی کی صورتحال چھپانا
– ان لوگوں کے نام پر امداد لینا جو حقیقت میں ملک میں موجود نہیں یا مر چکے ہوتے ہیں
داعش اسی میکانزم کو مالی وسائل جمع کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
داعش کی Benefit Fraud میں کوششیں:
2014 سے 2020 تک، جب داعش نے شام اور عراق میں اپنی "خلافت” قائم کی تھی، یورپی ممالک نے اس گروہ کی فنڈنگ کے ذرائع کی تحقیقات کیں۔ انٹیلی جنس اور عدالتی اداروں کی دستاویزات کے مطابق، داعش نے Benefit Fraud یعنی سماجی امداد کے نظام میں دھوکہ دہی کے ذریعے ایک مستحکم اور نسبتاً محفوظ مالی ذریعہ قائم کر رکھا تھا۔
یہ سرگرمیاں ایک وسیع نیٹ ورک کی شکل میں قائم تھیں جو یورپ کے سماجی امداد کے نظام کی خامیوں اور قانونی کمزوریوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتی تھیں۔
عموماً داعش کی Benefit Fraud کی کوششوں کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1. جعلی درخواستوں کا نیٹ ورک
2. وہ ارکان جو ملک چھوڑ چکے ہوں، ان کی امداد کا سلسلہ جاری رکھنا
3. جعلی شناختی دستاویزات کے ذریعے امداد حاصل کرنا
ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
الف: جعلی درخواستوں کا نیٹ ورک
داعش کی مالی فنڈنگ کے میکانزم میں جعلی درخواستوں کا نیٹ ورک ایک اہم حلقہ ہے۔ اس نیٹ ورک میں وہ افراد شامل ہوتے ہیں جو یا تو داعش سے براہِ راست وابستہ ہوتے ہیں یا اس کی حمایت کرتے ہیں۔ اس نیٹ ورک کا مقصد یورپی ممالک کے سماجی امداد کے نظام کی خامیوں سے منظم انداز میں مالی فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔
1: نیٹ ورک کے کام کرنے کا طریقہ
داعش سے وابستہ یا اس کے حامی افراد، ان ارکان کے لیے جو ملک چھوڑ کر جنگ میں چلے گئے ہوں، بے روزگاری، فیملی سپورٹ یا دیگر سماجی امداد کی درخواستیں بھرتے ہیں۔ یہ درخواستیں اس انداز میں پیش کی جاتی ہیں گویا درخواست دہندہ اب بھی میزبان ملک کا ایک عام، بے روزگار اور امداد کا مستحق شہری ہے۔
اس عمل میں درج ذیل باتیں شامل ہوتی ہیں:
– درخواست دہندہ کی جگہ دستاویزات اور فارم خود بھرے جاتے ہیں
– جان بوجھ کر غلط معلومات دی جاتی ہیں جیسے آمدنی چھپانا، ملازمت کی حیثیت بدل کر دکھانا یا خاندانی ڈھانچہ غلط بیان کرنا
– متعلقہ اداروں کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ متعلقہ شخص اب بھی یورپ میں رہائش پذیر ہے اور امداد کا قانونی حق دار ہے
یہ نیٹ ورک ان لوگوں کے اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات کا انتظام کرتا ہے جو حقیقت میں جنگ کے میدانوں میں ہوتے ہیں مگر ناجائز طور پر حکومتی امداد لیتے رہتے ہیں۔
2: پیسوں کی منتقلی کے راستے
جعلی درخواستوں سے حاصل ہونے والی رقم داعش سے منسلک نیٹ ورکس تک مختلف طریقوں سے منتقل کی جاتی ہے۔ سب سے زیادہ استعمال ہونے والے طریقے یہ ہیں:
1. غیر رسمی مالی نظام (حوالہ)
حوالہ ایک خفیہ، روایتی اور سرکاری نگرانی سے آزاد مالی نظام ہے۔ اس میں:
– یورپ میں نیٹ ورک پیسہ وصول کرتا ہے
– بدلے میں شام، عراق یا دیگر علاقوں میں داعش کے ارکان کو وہی رقم ادا کی جاتی ہے
– اصل رقم کی منتقلی سرکاری بینکوں میں ریکارڈ نہیں ہوتی، جس سے پکڑے جانے کا امکان بہت کم ہوتا ہے
2. کرپٹو کرنسی کی منتقلی
بہت سے نیٹ ورکس کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقم کی منتقلی آسان بناتے ہیں جس میں بٹ کوائن،”مونیرو” یا دیگر پرائیویسی والی کرپٹو کرنسیز استعمال کی جاتی ہیں۔۔ اس میں:
– شناخت مکمل طور پر چھپائی جاتی ہے
– ٹریکنگ تقریباً ناممکن ہوتی ہے
– چھوٹی چھوٹی اور بار بار کی منتقلیاں کی جاتی ہیں
3. سیم کارڈ کے ذریعے دور سے بینک اکاؤنٹ تک رسائی
کچھ اکاؤنٹس یورپ میں رجسٹرڈ ہوتے ہیں لیکن:
– سیم کارڈز اور پاس ورڈز/کوڈز کے ذریعے جنگ کے علاقوں سے بھی ان تک رسائی رکھی جاتی ہے
– بیچ والے صرف ATM سے پیسے نکالتے ہیں
– یا آن لائن ایپ کے ذریعے دوسرے اکاؤنٹس میں منتقل کر دیتے ہیں
– یہ طریقہ خاص طور پر اس وقت استعمال ہوتا ہے جب درخواست دہندہ یورپ چھوڑ چکا ہو مگر اس کا بینک اکاؤنٹ فعال رہے
*4. نقد رقم منڈیٹرز کے ذریعے*
یہ روایتی مگر اب بھی بہت محفوظ طریقہ ہے:
– وفادار حامی یا منڈیٹرز پیسہ وصول کرتے ہیں
– نقد رقم جمع کرتے ہیں
– اسمگلنگ، مسافروں یا تنظیمی چینلز کے ذریعے داعش تک پہنچاتے ہیں
– اکثر ایک چھوٹا مقامی نیٹ ورک پیسوں کی وصولی، اسٹوریج اور منتقلی کو مل کر سنبھالتا ہے
اس نیٹ ورک کی اہم خصوصیات:
– یہ نیٹ ورک منظم، مسلسل اور خفیہ ہے
– درخواست دہندگان کا حقیقی ٹھکانہ چھپا رہتا ہے
– یورپی سماجی امداد کے نظام کی خامیوں سے ماہرانہ فائدہ اٹھایا جاتا ہے
– داعش کے لیے ہر مہینے مستقل آمدنی پیدا ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ اس کی فنڈنگ کا سب سے محفوظ ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔




















































