کسی بھی معاشرے کو اس وقت تک اسلامی معاشرہ نہیں کہا جا سکتا جب تک اس نے شریعت کو نافذ نہ کیا ہو اور زندگی کے ہر شعبے میں شریعت کی طرف رجوع نہ کیا ہو۔ یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص قرآنِ مجید کی اس آیت {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ} سے روزہ کے فرض ہونے کو قبول کرے اور {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ} سے قصاص کے فرض ہونے کو نظر انداز کرے۔ یہ تصور درست نہیں کہ نماز کی فرضیت کے احکام نافذ ہوں اور ربا (سود) کی حرمت کے احکام ترک کیے جائیں۔
قرآن مجید صرف اس لیے نازل نہیں ہوا کہ مردہ انسانوں پر اس کے ختم پڑھے جائیں یا مساجد اس سے مزین کی جائیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا:
’’ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل کی تاکہ تو لوگوں میں فیصلہ کرے، جس طرح کہ ہم نے تجھ پر علم نازل کیا۔‘‘
] النساء: ۸۵[
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
ترجمہ: ’’اے داؤد! بیشک تم زمین میں خلیفہ مقرر کیے گیے ہو، پس لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔‘‘
یہ اللہ کی جانب سے حکمرانوں کے لیے وصیت ہے کہ وہ رب تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے کریں اور اس قانون سے منہ نہ موڑیں۔ [تفسیر ابن کثیر: ۱۲/۸۶]
مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق فیصلے کریں، نہ کہ ان خودساختہ قوانین کے مطابق جو حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیتے ہوں۔ اسلامی شریعت کبھی بھی جزوی عمل کو قبول نہیں کرتی، یعنی کچھ احکام پر عمل ہو اور کچھ ترک کیے جائیں، چاہے وہ ایک فیصد ہی کیوں نہ ہو؛ کیونکہ اگر کچھ احکام چھوڑ دیے جائیں تو خطرہ ہے کہ بعد میں دیگر بڑے احکام بھی نظر انداز کیے جائیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو سخت تنبیہ کی کہ وہ کچھ احکام کو قبول کرتے اور کچھ چھوڑدیتے تھے:
’’کیا تم کچھ پر ایمان لاتے ہو اور کچھ چھوڑ دیتے ہو؟ ایسا کرنے والوں کے لیے دنیا میں بڑا نقصان اور آخرت میں سخت عذاب ہے۔‘‘]البقرة: ۸۵ [
ابن کثیر رحمه اللہ فرماتے ہیں: جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ شریعت کے بغیر دیگر منسوخ شدہ شرائع کے مطابق فیصلے کرتا ہے، وہ کافر ہے۔ تو پھر ’’یاسق‘‘ نامی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا اور اسے شریعت پر ترجیح دینا کس طرح کفر نہ ہوگا؟ ]البداية والنهاية: ۱۳/۱۳۹[
یاسق، جس کا ذکر ابن کثیر رحمه اللہ نے کیا، وہ پہلا وضعی (خودساختہ) قانون تھا جو تاتاریوں کے سردار چنگیز خان نے شریعت کے مقابلے میں نافذ کیا اور لوگوں پر زبردستی مسلط کیا جاتا تھا۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ زندگی کے تمام معاملات اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق حل کیے جائیں۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’اور ان کے درمیان فیصلہ کرو جس میں اللہ نے نازل کیا ہے، اور ان کی خواہشات کی پیروی مت کرو۔‘‘]المائدة: ۴۹[
مغربی دنیا نے اسلام کے دقیق مطالعے کے بعد اسلامی ممالک میں شریعت کے بجائے وضعی قوانین پیش کیے، اور ان قوانین کے نفاذ کے لیے اپنے ایجنٹ حاکم مقرر کیے، تاکہ اقوام اسلام شریعت سے بے خبر رہیں اور وضعی قوانین کی طرف مائل ہوں۔ جب کسی ملک میں شرعی حدود کا نفاذ ہوتا ہے، تو میڈیا کے ذریعے شور مچایا جاتا ہے اور حدود کے نفاذ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جاتا ہے۔
اسلام دینِ عدل ہے اور مسلمانوں کے لیے ایسے قوانین وضع کیے ہیں جن کے ذریعے معاشرے کے افراد امن و امان اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ جب تک مسلمان اسلامی روح کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرتے ہیں، کوئی مسئلہ پیش نہیں آتا۔ لیکن جب مسلمان مقررہ حدود عبور کریں، منکرات کریں اور لوگوں کی جان و مال کو نقصان پہنچائیں، تو شریعت کی روشنی میں ان پر سزا نافذ کی جاتی ہے۔
اسلام صرف سزاؤں کا دین نہیں ہے، جیسا کہ مستشرقین دعویٰ کرتے ہیں، بلکہ یہ عقائد، عبادات، معاملات اور حقوق کا مکمل نظام ہے۔ علامہ ابن القیم رحمه اللہ فرماتے ہیں کہ شرعی حدود کا نفاذ عبادت کے برابر ہے، بالکل اسی طرح جیسے اللہ کی راہ میں جہاد۔ حدود، اللہ کی جانب سے بندوں پر رحمت ہیں، اور امیر/ گورنر کو چاہیے کہ حدود کے نفاذ میں سنجیدہ ہو۔ مقصد لوگوں کی اصلاح ہے، قہر دکھانا نہیں؛ جیسے والد اپنے بیٹے کی اصلاح کے لیے ڈانٹتے ہیں، یا طبیب کڑوی دوا دیتا ہے۔ اگر حدود اصلاح کی نیت سے نافذ کیے جائیں، تو اللہ تعالی لوگوں کے دل بدل دیتا ہے۔ ]السیاسة الشرعية: ۱۲۵[
شرعی حدود کے نفاذ کے حکمتیں:
۱۔ مجرم کے لیے عبرت:
جب کسی مجرم پر حد نافذ کی جائے، تو وہ دوبارہ برائی سے باز رہتا ہے۔ بعض افراد نصیحت سے نہیں سدھرتے اور نہ ہی اللہ کے عذاب سے ڈرتے، تو ان کی اصلاح کا واحد ذریعہ سزا ہے۔ حضرت عمر و حضرت عثمان رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کی اصلاح قرآن کے ذریعے نہیں بلکہ بادشاہ کے ہاتھ کے ذریعے کرتا ہے۔‘‘
۲۔ معاشرتی فائدہ:
جب معاشرے میں حد نافذ کی جائے، تو دوسرے لوگ عبرت حاصل کرتے ہیں اور جرم کرنے سے باز رہتے ہیں۔
۳۔ کفار پر اثر:
حدود اسلام کے عدل کی عکاسی کرتی ہیں۔ ابتدائی دورِ اسلام میں بہت سے کفار نے حدود دیکھ کر اسلام قبول کیا۔ آج جب مغرب میں فساد اور سزا کا فقدان ہے، تو شرعی حدود دیکھ کر اسلام کی حقیقت ان کے لیے واضح ہو سکتی ہے۔
۴۔ روئے زمین کو فساد سے بچانا:
جب منکرات بڑھ جائیں اور روک تھام نہ ہو، تو فساد پھیلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہ کرو۔ ]الأعراف: ۵۶[
۵۔ حیوانات اور قدرت کا فائدہ:
حدود صرف انسانوں کے لیے نہیں، بلکہ حیوانات اور قدرت کے لیے بھی رحمت ہیں۔ عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قحط کے وقت حیوانات کہتے ہیں:
’’انسانوں کے گناہوں کی وجہ سے بارش روکی گئی ہے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’زمین میں ایک حد نافذ کرنا چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔‘‘]نسائی، ابن ماجہ [
حالانکہ آج دنیا میں صرف افغانستان ہی وہ واحد ملک ہے جہاں اسلامی نظام کے تحت حدود نافذ ہیں، اور یہ قابلِ رشک و شکر امر ہے۔




















































