دنیا کی عمر پوری ہو چکی ہوگی، انسانوں کے ہاتھوں بنائی گئی شاندار عمارتیں مٹی میں مل چکی ہوں گی، اُن مغرور بادشاہوں کے تاج و تخت، جو نفس اور تکبر کے نشے میں کبھی اپنے رب کے سامنے جھکنے کو تیار نہ تھے، اُن کا نام و نشان بھی مٹی میں گم ہوچکا ہوگا۔
زمین پر اسرافیل علیہ السلام کے صور کی ہولناک گونج گزر چکی ہوگی، دس ہزار (یا اٹھارہ ہزار) اُمتیں جمع ہوں گی اور مخلوقات ایک ایسے منظر کو دیکھ رہی ہوں گی جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا۔
انسان مٹی سے اس حالت میں اٹھائے جائیں گے کہ کچھ کفر کی حالت میں ہوں گے اور کچھ اسلام کی حالت میں، اور اُن میں سے بہت سے لوگ اللہ جل جلالہ کے دردناک عذابوں کا مزہ چکھ چکے ہوں گے۔ ایک گہری، نہ ٹوٹنے والی خاموشی چھائی ہوگی۔ بندے حساب کے انتظار میں ایسے کھڑے ہوں گے جیسے صدیوں سے یہی انتظار کر رہے ہوں۔
غزہ بے شمار شکووں کے ساتھ اللہ جل جلالہ کے حضور حاضر ہو گا۔ وہ اللہ کو ’’اے عادل ذات‘‘ کہہ کر مخاطب کرے گا اور عرض کرے گا:
اے عادل رب! میں ایک چھوٹا سا قطعۂ زمین، کم بچوں اور نہایت محدود وسائل کے باوجود تیرے دین کی حفاظت کے لیے پورے عالمِ کفر کے مقابلے میں کھڑا ہوا۔ میں نے بہادری سے جنگ لڑی، کفار کی بنیادیں ہلا ڈالیں، تیرے دین کے دفاع کے لیے روزانہ اپنے درجنوں نہیں، سینکڑوں بچے قربان کرتا رہا۔
عالمِ کفر اپنے سارے انسانی اور مادی وسائل کے ساتھ مجھے ختم کرنے کے لیے متحد ہوگیا۔ انہوں نے مجھے کیمیائی بموں کی آگ میں جلایا، جسم کا کوئی حصہ سلامت نہ چھوڑا، مجھے چیتھڑوں میں بدل دیا۔ میرے ننھے بچوں کی چیخیں دنیا میں گونج اٹھیں۔ میرے بچے بھوک اور سردی سے مرتے رہے۔
مسلمانوں نے، بجائے اس کے کہ تیری طرف سے فرض کردہ جہاد کے ذریعے میری مدد کرتے اور کفار کا راستہ روکتے، انہوں نے صرف کفار کی مذمت کر کے ہی خود کو معزور تصور کر لیا۔ حتیٰ کہ بعض نے تو اپنی سرحدیں بھی بند کر لیں اور میرے خاتمے کے لیے کفار کی راہنمائی کی۔
حالانکہ اُن کی تعداد اربوں میں تھی، ان کے پاس لاکھوں کی تعداد میں جدید فوجیں تھیں، مگر تیرے دین کی نسبت کفار سے اچھے تعلقات رکھنا ان کے لیے زیادہ اہم تھا۔
کفار کے ہر حکم کے سامنے لبیک کہتے، ان کی ہر فرمائش پوری کرتے۔ انہیں اتنی بھی جرأت نہ تھی کہ کفار کے ساتھ تعلقات خراب کر سکیں، مگر پھر بھی نام نہاد "یومِ آزادی” مناتے رہے۔
مغرب کی فحاشی اور عیاشی کے پلید گڑھوں میں ڈوبے ہوئے، اپنے نفس اور ہوس کی زنجیروں میں جکڑے، بے پرواہ آنکھوں سے مجھے دیکھتے رہے، میرے ناقابلِ برداشت حالات کا تماشہ دیکھتے رہے۔
لیکن کوئی میری مدد کو نہ آیا!




















































