سلطان نے ایک جماعت کو یہ فریضہ سپرد کیا تھا کہ وہ شہروں میں حکومت کے نظم و نسق کا باریک بینی سے مشاہدہ کریں اور اس کی کیفیات پر مشتمل رپورٹس مرتب کریں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے علم میں آئے کہ ملک کے امور کس نہج پر رواں ہیں اور نصرانی باشندوں کو عدل و انصاف میں کس قدر حق مل رہا ہے۔ ان نمائندوں کو مکمل اختیار تھا کہ جہاں چاہیں تحقیق کریں، جو دیکھیں اسے قلم بند کریں اور سلطان کی خدمت میں پیش کریں۔
ان نصرانی مبصرین کی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدالتی نظام مجموعی طور پر نہایت قابلِ تحسین تھا؛ عوام کے مسائل بلا امتیاز اور بلا طرفداری حل ہوتے تھے اور عدل و انصاف کا بول بالا تھا۔ سلطان جب بھی جہاد یا کسی مہم پر روانہ ہوتا، بعض اوقات راستے ہی میں پڑاؤ ڈال دیتا، خیمہ زن ہو جاتا اور رعایا کی شکایات براہِ راست سنتا۔ یوں عوام سلطان سے روبرو ہو کر اپنی پریشانیاں بیان کر سکتے تھے۔
سلطان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھا کہ فقہاء اور مذہبی پیشوا عدل کی روح اور انصاف کی حقیقت کے گہرے شناور ہیں اور اپنے علم کے سبب نظامِ عدل کے قیام کی پوری اہلیت رکھتے ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ علماء ملک کے لیے روح کی مانند ہیں؛ اگر وہ درست ہوں تو پورا معاشرہ سنور جاتا ہے۔ اسی بنا پر وہ علماء کی بے حد تعظیم کرتا، طلبہ کے لیے علم کے حصول کی تمام سہولتیں مہیا کرتا، انہیں معاشی فکروں سے آزاد کر دیتا تاکہ یکسوئی کے ساتھ دینی علوم میں مشغول رہیں۔
سلطان علماء کی توقیر کرتا، ان کے مقام و مرتبے کو بلند رکھتا اور قاضیوں کی طرف خصوصی توجہ مبذول کرتا، کیونکہ قاضی عدل و انصاف کے قیام میں اس کے سب سے مضبوط دست و بازو تھے اور عوامی تنازعات کے حل میں بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔ اس مقصد کے لیے محض فقہ و شریعت کا علم کافی نہ تھا، بلکہ عوامی اعتماد اور محبوبیت بھی ناگزیر تھی۔ حکومت ان کے تمام معاشی تقاضے پوری کرتی تھی تاکہ رشوت اور بدعنوانی کا سدباب ہو۔ سلطان نے ان کے لیے مخصوص مراتب مقرر کیے تھے تاکہ ان کا وقار عوام میں برقرار رہے۔
کتبِ تاریخ میں ذکر ملتا ہے کہ سلطان محمد فاتح کے فرزندوں میں سے ایک شہزادہ ادرنہ میں بداعمالیوں میں مبتلا تھا۔ قاضی نے پہلے اپنا خادم اسے سمجھانے کے لیے بھیجا، مگر شہزادے نے کوئی پروا نہ کی۔ جب قاضی خود گھوڑے پر سوار اس کے پاس پہنچا، تو شہزادے نے نہ صرف اس کی نصیحت رد کی بلکہ جھگڑا کیا اور قاضی کو زد و کوب کیا۔ معاملہ سلطان تک پہنچا تو وہ سخت برہم ہوا اور حکم دیا کہ شہزادے کو فوراً قتل کر دیا جائے، کہ اس نے شریعت کے نافذ کنندہ کی گستاخی کی ہے۔
وزیرانِ سلطنت نے شہزادے کی جان بخشی کی کوشش کی، مگر سلطان قائل نہ ہوا۔ مولانا محی الدین محمدی کو بلایا گیا کہ وہ سلطان کو راضی کریں، مگر محمد فاتح اپنی رائے پر اٹل رہا۔
مولانا محی الدین نے عرض کیا:
’’ قاضی حالتِ غضب میں اپنے منصب سے معزول سمجھا جاتا ہے، اور اس کے فیصلے کی حیثیت باقی نہیں رہتی۔ چونکہ قاضی شہزادے کے ساتھ جھگڑے کی کیفیت میں تھا، اس لمحے وہ قاضی کے رتبے پر نہ تھا بلکہ ایک عام انسان تھا۔ لہٰذا اس پر حملہ شریعت کی توہین شمار نہیں کیا جا سکتا کہ شہزادے کو قتل کی سزا دی جائے۔‘‘
یہ بات سن کر سلطان کا غیظ فرو ہو گیا۔ بعد ازاں شہزادے کو قسطنطنیہ لایا گیا۔ وزیروں نے اسے سلطان کے حضور پیش کیا کہ وہ معافی پر شکریہ ادا کرے۔ سلطان نے ایک لاٹھی اٹھائی اور اسے اتنا پیٹا کہ وہ چار ماہ تک بستر سے نہ اٹھ سکا۔ علاج و تیمار داری سے صحت یاب ہوا۔ یہی لڑکا بعد میں سلطان بایزید کا وزیر بنا۔ اس کا نام داود تھا۔ وہ ہمیشہ کہتا تھا: میں سلطان کی مار سے سدھر گیا۔ سلطان کے دور میں نیک خُلق اور عدل کی بڑی قدر تھی، اور رشوت لینے کی واحد سزا موت تھی۔
اگرچہ سلطان محمد فاتح کا زیادہ وقت جہاد میں گزرتا، مگر وہ سلطنت کے حالات پر مسلسل نظر رکھتا تھا۔ بصیرت، حکمت اور باریک بینی سے امورِ سلطنت کی نگرانی کرتا۔ عدالتی مسائل میں قاضیوں کی اعانت کرتا، دیہات و محلّوں میں جاتا، عوام کے حالات قریب سے دیکھتا اور ان کی فریاد سنتا۔
ملک میں ایک ایسا محکمہ قائم تھا جو امن و انتظام کی رپورٹیں سلطانی دربار تک پہنچاتا تھا۔ اس کو یہ آزادی حاصل تھی کہ عوام کی تمام شکایات بلا روک ٹوک سلطان تک منتقل کرے۔ ہر علاقے کے لیے مختلف ذمہ دار مقرر تھے، اور جہاں بھی کوئی مسئلہ پیدا ہوتا، فوراً اطلاع دی جاتی۔
سلطان محمد فاتح سورۂ نمل کی آیت ﴿وَتَفَقَّدَ الطَّيْرَ﴾(النمل/۲۰) سے استدلال کرتا تھا، جس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے نگرانی و تفتیش کے نظام کا ذکر ہے۔ اسی کی روشنی میں اس نے سلطنت میں ایک مضبوط اور فعال نظامِ نگرانی قائم کیا تھا، جس کے ذریعے ہر شخص سلطان تک اپنی فریاد پہنچا سکتا تھا۔ خصوصاً غریب اور کمزور طبقات کے لیے یہ نظام بہت مفید ثابت ہوتا تھا۔




















































