پاکستانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ خراسان شاخ کے میڈیا ذمہ دار، سلطان عزیز عزام، مئی ۲۰۲۵ء کو خیبرپختونخوا میں افغانستان کے سرحدی علاقے سے گرفتار ہوا۔
تاہم، المرصاد کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سلطان عزیز عزام درحقیقت خراسان شاخ کے موجودہ امیر، شہاب المہاجر کی سازش اور داعش کے داخلی اختلافات کا شکار ہوا۔ شھاب المهاجر نے خراسان شاخ کے سابق ارکان کو ذمہ داریوں سے ہٹادیا تھا اور تمام اختیارات اپنے قریبی ساتھیوں میں تقسیم کر دیے، جو اس کے یونیورسٹی کے دور کے دوست تھے۔ اس اقدام پر سابق مشرقی داعشی رہنماؤں میں ناراضگی پیدا ہوئی، اختلافات ہوئے اور متعدد افراد آئی ایس آئی کے پاس پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
ذرائع کے مطابق، شہاب المہاجر نے سلطان عزیز عزام کو اس لیے اپنے عہدے سے ہٹایا تاکہ وہ ناراض مشرقی داعشی رہنماؤں اور شہاب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے اور انہیں قائل کرے۔
ذرائع کے مطابق، سلطان عزیز عزام پاکستانی خفیہ ادارے کے ایک سیف ہاؤس میں ناراض داعشیوں کے ساتھ مذاکرات اور آئی ایس آئی کے ساتھ نئے منصوبوں اور سمجھوتوں میں مصروف تھے، لیکن جب کچھ مخصوص معاملات پر اختلافات بڑھ گئے، تو پاکستانی خفیہ ادارے نے گرفتاری کا اعلان کردیا۔
سلطان عزیز عزام نے خوارج کے پروپیگنڈا شعبے العزائم کے قیام اور اس کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا اور جب خوارج کی مرکزی قیادت کے اہم افراد امارتِ اسلامیہ افغانستان کی سیکیورٹی کارروائیوں میں ہلاک ہو ئے تو وہ پاکستان فرار ہوگیا۔
وہ خوارج کی مرکزی قیادت کے بھی قریب سمجھا جاتا تھا، اور اسی وجہ سے شہاب المہاجر بھی اس سے خوفزدہ تھا۔
سلطان عزیز عزام تقریباً دس سال قبل خوارج کی خراسان شاخ میں شامل ہوا اور اس سے قبل وہ سابقہ کابل انتظامیہ کے انتخابی کمیشن اور ریڈیو کے شعبوں میں ملازم رہ چکا ہے۔




















































