جب ہم داعش کے ظہور کو گہرائی اور ہر پہلو سے دیکھتے ہیں تو ایک تلخ حقیقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ خوارج کی یہ تکفیری جماعت کوئی اچانک وجود میں آنے والی اسلامی تحریک نہیں تھی، بلکہ ایک زہریلا اور مہلک ڈھانچہ تھا جسے حقیقی اسلام کو بدنام کرنے کے لیے مغربی طاقتوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تشکیل دیا تھا۔
اس تکفیری گروہ کے اولین ظہور ہی سے مغربی حمایت کے واضح آثار دکھائی دینے لگے تھے۔ ہیلری کلنٹن اپنی یادداشتوں میں کھلے الفاظ میں اعتراف کرتی ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی غلط اور ناکام پالیسیوں نے داعش جیسی افراطی اور تکفیری تنظیموں کے پیدا ہونے کے لیے زمین ہموار کی۔ یہ اعتراف اس امر کو نمایاں کرتا ہے کہ داعش کسی اتفاقی عمل کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ نہایت دقیق استعماری حساب کتاب کی پیداوار تھی۔
انتہا پسند گروہ داعش کے قیام کا بنیادی مقصد بالکل واضح تھا کہ دنیا کے سامنے اسلام کی ایک مسخ شدہ، بھیانک اور غیر انسانی تصویر پیش کرنا۔ مغربی طاقتوں کے رہنما، جو ہیومنزم، لبرل ازم اور سرمایہ دارانہ نظام جیسے نام نہاد انسانی نظاموں کے سائے میں اپنے مفادات کی تلاش میں رہتے ہیں، اس خونخوار اور پرتشدد گروہ کی پشت پناہی کے ذریعے یہ تاثر قائم کرنا چاہتے تھے کہ اسلام عالمی سطح پر تشدد اور دہشت گردی کا دین ہے۔
لیکن افسوس کہ داعش نے پوری طرح وہی کردار ادا کیا جس کی اس کے منصوبہ سازوں نے خواہش کی تھی۔ سرِعام قتل، جنسی غلامی، اجتماعی قتل اور دیگر ہولناک جرائم کو مغربی ذرائع ابلاغ نے ’’اسلامی ریاست کی کارروائیاں‘‘ قرار دیا، حالانکہ حقیقی اسلام تو وحشت اور جرائم کے بجائے رحمت، عدل اور انسانی وقار کا درس دیتاہے۔
عالمِ اسلام کو کمزور کرنے میں داعش کے کردار کو کبھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دے کر، اسلامی معاشرے کی تمام جماعتوں پر حملے کرکے اور مذہبی تشدد کو فروغ دے کر داعش نے عملاً استعمار کی اسی پرانی حکمتِ عملی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کو عملی جامہ پہنایا۔
حالانکہ قرآنِ عظیم الشان صاف طور پر اعلان کرتا ہے:
«واعتصموا بحبلِ الله جميعاً ولا تفرّقوا»
ترجمہ: اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔
مگر داعش نے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈال کر استعمار کے مذموم مقاصد کی تکمیل میں کردار ادا کیا۔
صہیونی جرائم کے مقابلے میں داعش کی معنی خیز خاموشی، اس گروہ کے مغرب سے وابستہ ہونے کی ایک اور واضح دلیل تھی۔ ایک طرف داعش خود کو ’’کفر‘‘ کے خلاف جہاد کا علمبردار قرار دیتی تھی، مگر دوسری جانب اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتلِ عام پر اس کی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ یہ کھلا تضاد اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ داعش کا منصوبہ کفر اور لادینیت کے خلاف نہیں، بلکہ خود عالمِ اسلام کے خلاف تیار کیا گیا تھا۔
آج اگرچہ داعش بظاہر کمزور پڑ چکی ہے، لیکن اسلام کو بدنام کرنے کی مغربی منصوبہ بندی اب بھی جاری ہے۔ مختلف خطوں میں داعش اور اس جیسی تکفیری تنظیموں کا دوبارہ ابھرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ استعمار آج بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے انہی کٹھ پتلی گروہوں کو استعمال کر رہا ہے۔
ہماری، اور بالخصوص نوجوانوں اور طلبہ کی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم علم، اتحاد اور بیداری کے ذریعے اسلام کی اصل اور حقیقی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کریں؛ وہ اسلام جو رحمت، عدل، انسانیت اور روحانیت کا دین ہے اور اس بات کی اجازت نہ دیں کہ استعماری سازشیں ایک بار پھر امتِ مسلمہ کو کمزور کر سکیں۔
تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ حق ہمیشہ غالب رہا ہے، اور مبارک وپاکیزہ دینِ اسلام تمام تر سازشوں اور رکاوٹوں کے باوجود ہمیشہ زندہ، مضبوط اور قائم و دائم رہے گا۔




















































