گزشتہ روز کراچی میں پاکستان بھر کے تمام مسالک کا ایک پر وقار اجتماع منعقد ہواـ اس اجتماع میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، تنظیم اسلامی اور شیعہ سمیت ہر مکتب فکر کی چوٹی کے علماء اور اکابر نے شرکت کی ـ اجتماع کا ایجنڈا صدر کانفرنس نے دس نکات میں پیش کردیاـ اور پھر سب سے اس بارے رائے مانگی ـ جس پر باری باری کسی نے زیادہ اور کسی نے کچھ کم مگر پر اثر اور جامع گفتگو کی ـ آخر میں ایک تفصیلی اعلامیہ کانفرنس میں شریک ایک مؤقر عالم دین اور بریلوی مکتب فکر کے مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن نے پیش کیاـ کانفرنس کا ایجنڈا اور اعلامیہ پورا کا پورا اس پر منحصر تھا کہ اس وقت پاکستان میں اسلام، اسلامی تعلیمات اور اسلامی تشخص کا خطرہ پیش نظر ہےـ اور اگر ہم نے اس کے لئے مؤثر اقدامات نہ اٹھائے تو دیر نہیں کہ پھر ہم اسلامی تشخص کو ہاتھ سے جاتا دیکھیں گے اور پھر غرناطہ کے عبداللہ کی طرح ہم صرف کشتی میں قید تماشائی کا کردار ہی ادا کرسکیں گےـ
اس کانفرنس میں مجھے چونکادینے والے بیانات تو بہت سارے تھےـ خود اعلامیہ اور دس نکاتی ایجنڈا بذات خود یہ آشکارا کررہا تھا کہ ان علماء اور اکابر کو پاکستانی مقتدرہ کی جانب سے اسلام کا وجود خطرے میں نظر آتا ہےـ پاکستانی مقتدرہ کو جب بھی کوئی ان کے اعمال کے نتیجہ میں اسلامی احکام کی پامالی کا حوالہ دیتا ہے تو وہ بڑے فخریہ انداز میں بتاتے ہیں کہ ہمارا آئین سو فیصد اسلامی ہےـ ہم نے بالکل خالص ایمانی دستور تشکیل دیا ہے، لیکن پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ پاکستان کے ایک بہت ہی مؤقر عالم مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے اس آئین کا بھانڈا بھی پھوڑ دیاـ انہوں نے تو ابھی کا نہیں ۱۹۷۴ء کے آئین میں یہ ثابت کردیا کہ اس وقت بھی ایک غیر شرعی اہم نقطہ ڈالا گیا ہے اور ہم نے اس وقت بھی اعتراض کیا تھا، جو آج بھی ریکارڈ میں موجود ہےـ ظاہر ہے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب آئین کے تخلیق کاروں میں سے ہیں اور آئین کے بننے میں ان کا اور ان کے گھرانے کا بڑا کردار ہےـ ان کی زبانی ایسی باتیں بڑی ہی اچھنبی اور اپنی نوعیت کی منفرد اور جداگانہ لگیں ـ حالیہ حوالہ سے جس طرح انہوں نے بات کی اور مقتدرہ کے سیاہ کرتوتوں پر روشنی ڈالی لگتا ایسا تھا گویا اسلام کا وجود پاکستان کی مقتدرہ جان بوجھ کر خطرے میں ڈال رہی ہےـ مفتی صاحب نے پارلیمنٹ میں ستائیسویں ترمیم پر گفتگو کے دوران کہا کہ یہ جو اس ترمیم میں فیلڈ مارشل اور صدر مملکت کو تاحیات استثناء سے نوازا گیا ہےـ یہ عمل نہ تنہا یہ کہ شریعت، اسلام، اسلامی تعلیمات، اسلامی روح، عدلیہ قوانین اور ہر رو سے غیر مناسب ہے بلکہ یہ عمل تاریخ میں میری نظر سے کسی بھی دستور مملکت میں نہیں گزراـ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جب آئین میں یہ عمل انجام دیا جارہا ہے تو پھر باقی بچے گا کیا؟
اور باقی بچنے پر جو روشنی جمعیت علماء اسلام کے امیر نے ڈالی وہ بھی آنکھیں کھولنے کی تھی ـ انہوں نے بہت ہی حیرتناک اور معنی خیز بات یہ فرمائی کہ اسمبلی کے فلور پر نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہم مسلمان ہیں اور ہر قدم کتاب وسنت کی روشنی میں اٹھائیں گےـ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کی یہ بات سنتے ہی مجھے لگا کہ یہ بات وہ جذبات میں کررہا ہے اور اسے ماحول کا اندازہ نہیں ـ کیونکہ ترمیم میں انہوں نے ایک شق یہ رکھی تھی کہ اقلیتوں کے قانون کو تمام قوانین پر فوقیت حاصل ہےـ جس سے خطرہ یہ تھا کہ اب ہر ہر اسلامی قانون اور ہر ہر اسلامی تعلیم کو اس قانون سے لغو گردانا جائے گاـ چنانچہ میں نے اسے اگلے دن فون کیا کہ آپ نے جو بات کی ہے اس کے حوالہ سے آپ نے دیگر مقتدرہ کو اعتماد میں لیا ہے؟ انہوں کہا کہ لیا تو نہیں البتہ ضرور لوں گاـ اس پر میں نے کہا کہ جب اعتماد حاصل ہوجائے تو مجھے بتلادیں تاکہ غیر اسلامی اشیاء کی آپ کو نشاندہی کرائی جائےـ اس کے بعد وہ آج تک خاموش ہےـ مولانا کے بقول مقتدرہ کے عزائم بہت ہی خطرناک لگتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کو انہوں نے مغرب کے حکم پر ڈھانے کی ٹھان رکھی ہےـ
ابھی میں مولانا کی باتوں کی سنگینی کا اندازہ لگارہا تھا کہ بریلوی مکتب فکر کے ایک قد آور عالم دین صاحب زادہ ابوالخیر نے مجھے ہلا کر رکھ دیاـ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے ملی یکجہتی کونسل کا پروگرام آج ہی کے دن کرنا تھا اور اس کی تاریخ پانچ مہینے پہلے طے ہوئی تھی ـ مگر حالات اس قدر نازک ہوچکے ہیں اور معاملہ اس قدر سنگین اور حساسیت اس قدر بڑھ چکی ہے جس کا آپ کو اندازہ نہیں ہےـ اس لئے ہم نے اپنے طے شدہ پروگرام کو منسوخ کردیا اور یہاں چلے آئےـ اس لئے کہ ابھی ہم نے اقدام نہ کیا اور اسلام کے وجود کو جو خطرہ لاحق ہے اس پر سر جوڑ کر نہ بیٹھے اور پاکستان میں دین ومذہب سے جو کھلواڑ جاری ہے اس کا نوٹس نہ لیا تو بعد میں جو ہوگا اس کا خمیازہ ہم سب کو بہت ہی بری طرح سے بھگتنا ہوگاـ
پاکستان کے ایک مستند عالم دین مولانا منظور احمد مینگل صاحب نے ایک اور زاویے سے بھی یہ خطرہ کچھ یوں واشگاف فرمایا کہ ایک طرف پارلیمنٹ میں یہ بھونچال ہے تو دوسری طرف علماء کے نام پر کچھ بدبختوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال بھی کیا جارہا ہےـ جو استعمال نہ ہو انہیں آپس مین لڑوا کر ایک کو ایک نام سے اور دوسرے کو دوسرے نام سے ختم کیا جارہا ہےـ مساجد کو تالے لگ رہے ہیں ـ تیسری جانب بوٹ پالش قسم کے لوگوں(مولویوں) سے ان لوگوں پر خارجی کا ٹھپہ لگایا جارہا ہے جو فرمان نبوی کے مطابق اپنی عزت وآبرو کے دفاع میں لڑ رہے ہیں ـ ان کے وسائل پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہےـ
اس اہم اور بہت ہی نازک اجتماع میں علماء کرام کے بیانات ایک سے بڑھ کر ایک تھےـ مقتدرہ کی طرف سے مسلط کیا گیا نظام کچھ ایسا لگ رہا تھا گویا اسلامیت کے لئے ایک اژدہا ہے جو جلد ہی اسلام کو نگلنے نکلا ہےـ یہاں تک کہ بریلوی مکتب فکر کی ایک بڑی دینی تنظیم کے سربراہ اویس نورانی نے اس خطرے کی شدت سے آگاہ کرتے ہوئے اس پر زور دیا کہ اب اس اجتماع کو مسلسل منعقد کیا جائےـ اگلی تاریخ کا اعلان ابھی سے کردیا جائے اور دیگر علماء نے زور دیا کہ اس سے ایک تحریک کا آغاز ہونا چاہیےـ کب تک ہم یوں ہی یاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گےـ اور ایک ایک کرکے ایک ایک اسلامی حکم کا جنازہ نکالا جاتا رہے گا؟
مفتی عابد مبارک نے طنزیہ انداز میں ایک حقیقت سے یہ پردہ بھی اٹھایا کہ یہ جو اسمبلی میں بل پاس ہوتے ہیں ـ اسمبلی کی اکثریت کو تو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ کیا چل رہا ہےـ بس ان کے پاس تو ایک چیز آتی ہے اور وہ ہاں کردیتے ہیں ـ باقی بل جہاں بنتا ہے وہ سب کو معلوم ہےـ تنظیم اسلامی کے سربراہ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ خطرہ آ نہیں رہا خطرہ تو پہلے سے موجود ہےـ ہمیں کہا جارہا ہے کہ اسلامی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنا بغاوت ہےـ کیا کوئی بتاسکتا ہے کہ موجودہ نظامِ حکومت اسلام سے کوئی شد بد بھی رکھتا ہے؟؟؟
ملک بھر کے نامور علماء کرام اور مفکرین کا یوں سر جوڑ کر بیٹھنا اور اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کچھ اندر کے حقائق بزبانِ حال بتارہے ہیں ـ حالات کا رخ درست کروٹ نہیں بیٹھ رہا اور قدم قدم پر خطرہ ہے کہ اب پاکستان کی مقتدر قوتوں نے اسلام پر دھاوا بولنا ہی ہےـ




















































