متقی، دیندار، مجاہد اور باوقار شخصیت، شہید سعید مفتی عین الدین واقف تقبلہ اللہ، ولد جمعہ دین، آپ نے ۱۳۷۳ھ ش میں صوبہ لوگر کے ضلع برکی برک کے گاؤں بابرو میں ایک معزز اور دین دار گھرانے میں اس فانی دنیا میں آنکھ کھولی۔
چھ برس کی عمر میں برکی برک کی غازی امین اللہ خان اسکول میں داخل ہوئے اور بارہ برس تک وہاں تعلیم حاصل کی۔ ۱۳۹۱ھ ش میں برکی برک ہائی اسکول سے فراغت پائی۔ اس تعلیمی دور میں جہاد اور مزاحمت سے بے پناہ محبت اور شوق نے ان کے ایمانی و جہادی جذبے کو کبھی سرد نہ ہونے دیا۔ دورانِ تعلیم انہیں بے شمار مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسکول کے زمانے میں ایک مرتبہ امرکیک غلاموں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے، کچھ عرصہ قید میں رہے اور پھر رہائی نصیب ہوئی۔
ضلع کی جغرافیائی صورتِ حال اور وہاں موجود امریکی قابض افواج کے باعث وہ خفیہ طور پر مجاہدین کے گرم محاذوں تک پہنچتے اور اپنے جہادی شوق کی تسکین کرتے رہے۔
۱۳۹۱ھ ش میں انہوں نے کانکور کے ذریعے اعلیٰ نمبروں کے ساتھ ننگرہار یونیورسٹی کے شریعہ فیکلٹی میں داخلہ لیا۔ تین سال کی تعلیم کے بعد امریکی قابضین اور ان کے کارندوں کے سامنے یونیورسٹی کے ماحول میں بے نقاب ہو گئے، چنانچہ رات کے وقت ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا۔ مجاہد واقف کو گرفتار کر کے ننگرہار کی جیل میں اٹھارہ ماہ تک پابندِ سلاسل رکھا گیا، جہاں انہوں نے قید کی کال کوٹھریوں کی سختیاں برداشت کیں۔ رہائی کے بعد انہوں نے مضبوط عزم، پختہ ارادے اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنی باقی ماندہ تعلیم مکمل کی اور اس کے ساتھ ساتھ دن رات جہاد کے مقدس فریضے کے لیے خود کو وقف کر دیا۔
شہید مفتی صاحب ۱۳۹۸ھ ش میں صوبہ لوگر سے ننگرہار منتقل ہوئے اور سرخ بریگیڈ میں ایک یونٹ کے کمانڈر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی۔ وہاں انہوں نے خوارج (داعشیوں) کے خلاف صف اول میں جہاد اور بھرپور جدوجہد کا آغاز کیا، اور اس جہادی سفر کے دوران درجنوں داعشی عناصر کو انجام تک پہنچایا۔
اس نہایت سخت معرکے میں انہوں نے وطن کی حفاظت اور دین کے دفاع کی راہ میں درجنوں دشمنوں کو شمشیرِ حق سے تہہ تیغ کیا۔ ان کا جہادی سفر شجاعت، یقین اور اللہ کے دین کی پاسبانی کا ایک زرّیں باب ہے؛ ایسا باب جس کی ہر سطر غیرت کے خون سے رقم ہے اور جس کی ہر یاد ایمان کو تازہ کر دیتی ہے۔
بالآخر، وہ صوبہ ننگرہار کے ضلع شیرزاد، سپین غر کے علاقے میں واقع ځندہ سر کی بلند چوٹی پر داعشی خوارج کے ساتھ براہِ راست مقابلے میں، دو گھنٹے کی دلیرانہ مزاحمت کے بعد، ۱۳۹۸ھ ش کے سال ماہِ جوزاء کی ۱۲ تاریخ بمطابق ۲۷ رمضان المبارک ستائیس برس کی عمر میں رتبۂ شہادت پر فائز ہوئے اور اپنی روح بارگاہِ الٰہی (جلّ جلالہ) میں پیش کردی۔ نحسبہ کذلک واللہ حسیبہ۔
شہید مفتی عین الدین «واقف» تقبلہ اللہ متقی، دیندار، بہادر اور نہ تھکنے والے مجاہد تھے۔ ان کی زندگی دکھوں اور آزمائشوں سے بھرپور رہی۔ جہاد و مزاحمت کے اس دو ماہ کے سفر میں وہ اپنے گاؤں اور گھر سے دور مسافر رہے، اور اپنی جوانی اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دی۔ جب وہ شہید ہوئے تو ان کا مبارک جسدِ چار دن تک ننگرہار کے خون آلود پہاڑوں میں رہا، بعد ازاں لوگر ولایت کی ہلالِ احمر کے ذریعے ننگرہار سے لوگر منتقل کیا گیا۔ چار دن بعد جب جسدِ مبارک اہلِ خانہ کے سپرد کیا گیا تو جسم بالکل سالم اور محفوظ تھا، گویا ابھی ابھی تازہ شہادت نصیب ہوئی ہو۔
ان کا جسدِ مبارک صوبہ لوگر کے ضلع برکی برک کے گاؤں بابرو میں، ان کے آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی روح شاد رہے اور یاد ہمیشہ زندہ—اللہم تقبل شہادتہ۔
زندگی کا یادگار واقعہ:
جب مفتی صاحب تشکیل کے لیے اپنے گھر سے ننگرہار کی جانب روانہ ہوئے تو انہوں نے ایک چھوٹی سی کاپی اپنے بھائی کے حوالے کی اور کہا: ’’یہ کاپی اپنے پاس رکھو، اس میں وہ قرض درج ہیں جو مجھ پر ہیں؛ ممکن ہے میں شہید ہو جاؤں، تو تم لوگ یہ قرضے ادا کر دینا۔‘‘




















































