پہاڑ کی جانب پیش قدمی:
جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئے تو فوراً ہی سب نے پہاڑ کی جانب چڑھنا شروع کر دیا۔ مشرکین پیچھے پیچھے تھے، مگر صحابۂ کرام انہیں روکنے اور پیچھے دھکیلنے کی پوری کوشش کر رہے تھے۔ اگر کسی کے ہاتھ میں تلوار یا نیزہ نہ ہوتا تو وہ پتھر ہی اٹھا کر پھینک دیتا۔ بالآخر ان کی اس مضبوط اور ثابت قدم جدوجہد نے اثر دکھایا اور مشرکین پسپا ہوگئے۔ اس دوران بہت سے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔
پہاڑ کی طرف چڑھنے کا مقصد عمومی محاصرے کو توڑنا تھا۔ جیسا کہ بیان ہو چکا ہے، مسلمان مشرکین کے درمیان گھرے ہوئے تھے، اس لیے اس گھیرے کو توڑنے اور لشکر کی ازسرِنو تنظیم کے لیے یہ منصوبہ یقیناً نہایت مؤثر ثابت ہوا۔
اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ جنگ کی ان خونریز گھڑیوں میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر نیند طاری ہو گئی اور ان کے دلوں پر اطمینان اور سکون نازل ہوا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں فرمایا ہے:
’’ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ‘‘
ترجمہ: پھر اس غم کے بعد اللہ نے تم پر اطمینان نازل فرمایا، ایسی نیند کی صورت میں جو تم میں سے ایک گروہ پر چھا گئی۔
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جن لوگوں پر نیند طاری ہوئی، ان میں ایک میں بھی تھا۔ میری تلوار بار بار ہاتھ سے گر جاتی، میں اسے اٹھاتا، پھر دوبارہ گر جاتی اور میں پھر اٹھا لیتا۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ گروہ جو پہاڑ پر چڑھ گیا تھا، اس نے باقی لشکر کے لیے بھی راستہ کھول دیا، یہاں تک کہ وہ سب اسی مقام پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آ ملے۔
مشرکین کی آخری یلغار:
رسول اللہ ﷺ پہاڑ پر ایک محفوظ مقام پر تشریف فرما ہوئے، باقی لشکر بھی آپ سے آ ملا۔ مشرکین نے ابو سفیان اور خالد بن ولید کی قیادت میں ایک بار پھر مسلمانوں کو تہِ تیغ کرنے کی کوشش کی، مگر اس مرتبہ اسلامی لشکر منظم ہو چکا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی جنگی حکمتِ عملی کے باعث مسلمان محاصرے کے شکنجے سے نکل آئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قیادت میں صحابۂ کرام کا ایک دستہ مقابلے کے لیے آگے بڑھا اور مشرکین کو پسپا کر دیا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس وقت رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ مشرکین کی پیش قدمی کو خاک میں ملا دو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میں اکیلا یہ کام کیسے انجام دوں؟ مگر آپ ﷺ نے یہ بات مجھ سے تین مرتبہ دہرائی۔ سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ترکش سے ایک تیر نکالا اور ایک مشرک کو نشانہ بنایا، وہ مارا گیا۔ پھر میں نے وہی تیر واپس لیا اور دوسرے مشرک کو قتل کیا، پھر تیسری مرتبہ اسی تیر سے ایک اور مشرک کو ہلاک کیا۔ اس کے بعد مشرکین پیچھے ہٹ گئے اور ان کی کوشش ناکام ہو گئی۔
سعد رضی اللہ عنہ مزید کہتے ہیں کہ میں نے وہ تیر اپنے پاس محفوظ رکھا۔ وہ تیر انہوں نے تاحیات سنبھال کر رکھا، اور ان کے بعد ان کے بیٹوں نے اپنے پاس بطور تبرک محفوظ رکھا۔
یوں مشرکین کا یہ آخری حملہ خود انہی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا، اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ایک ہی تیر سے تین مشرکین مارے گئے۔
شہیدوں کی بے حرمتی (مثلہ کرنا):
مشرکین کی آخری ناکام یلغار کے بعد انہوں نے شہید صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ بدترین سلوک کیا۔ ان کی ناک، کان، آنکھیں اور شرم گاہیں کاٹ دیں، پیٹ چاک کر دیے۔
وحشی بن حرب؛ جس نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تھا، جنگ کے آخری لمحات میں ہند بنتِ عتبہ کے پاس آیا اور اسے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی۔ بدر میں ہند کے باپ عتبہ کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا، اس لیے ہند نے وحشی سے بڑے انعام کا وعدہ کیا۔ وحشی، ہند کے ساتھ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے جسدِ مبارک کے پاس آیا۔ ہند نے آپ رضی اللہ عنہ کی ناک، کان اور آنکھیں کاٹ ڈالیں، پیٹ چاک کیا اور کلیجہ نکال کر منہ میں رکھا کہ چبا لے، مگر نہ کھا سکی اور اسے پھینک دیا۔
شدید پیاس اور مسلمان خواتین کی خدمات:
مدینہ منورہ سے کئی خواتین میدانِ جنگ میں آئی تھیں۔ وہ پانی کے مشکیزے بھرتیں اور مسلمانوں تک پہنچاتیں، تاکہ وہ پیاس بجھا سکیں۔ حضرت عائشہ، امِ سُلیط اور امِ ایمن رضی اللہ عنہن ان خواتین میں سرکردہ تھیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے لیے پانی لائے تاکہ آپ نوش فرمائیں، مگر پانی میں کچھ تلخی تھی، اس لیے آپ ﷺ نے نہ پیا، البتہ اپنے زخموں کو اس سے دھویا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کے چہرے اور سر کے زخم دھوتی تھیں، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ پانی ڈالتے جاتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے سرِ مبارک سے مسلسل خون بہہ رہا تھا جو رُک نہیں رہا تھا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چٹائی کے ایک ٹکڑے کو جلا کر زخم پر رکھ دیا، اس طرح خون بند ہو گیا۔ بعد میں حضرت محمد بن مسلمہ پانی لائے، جسے رسول اللہ ﷺ نے نوش فرمایا۔
آخری لمحات: ابو سفیان اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مکالمہ
مشرکین نے واپسی کا ارادہ کیا۔ روانگی سے قبل ابو سفیان پہاڑ کی طرف آیا اور بلند آواز سے پکارا:
’’أفي القوم محمد؟‘‘
کیا تم میں محمد ﷺ موجود ہیں؟
رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام کو جواب دینے سے منع فرمایا۔ ابو سفیان نے یہ سوال تین مرتبہ دہرایا۔ پھر اس نے کہا: ’’أفيكم ابن أبي قحافة؟‘‘
کیا تم میں ابنِ ابی قحافہ (ابو بکر) موجود ہیں؟
یہ بھی تین بار کہا، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ پھر اس نے کہا: ’’أفيكم عمر بن الخطاب؟‘‘
کیا تم میں عمر موجود ہیں؟
یہ بھی تین مرتبہ دہرایا گیا، مگر پھر بھی کوئی جواب نہ ملا۔ تب ابو سفیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا: یہ سب مارے جا چکے ہیں، اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے۔
اسی لمحے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایمانی جوش میں آئے اور انہوں نے جواب دیا:
’’کذبتَ واللهِ يا عدوَّ الله، أبقى الله عليك ما يُخزيك‘‘
اللہ کے دشمن! تو جھوٹ بولتا ہے، اللہ نے تیرے ذلیل ہونے کے لیے ابھی لوگ باقی رکھے ہیں۔
اس کے بعد ابو سفیان نے نعرہ لگایا: ’’أُعلُ هُبل، أُعلُ هُبل‘‘
ہُبل بلند ہے، ہُبل بلند ہے!
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اس کے جواب میں کہو: ’’الله أعلى وأجل‘‘
اللہ سب سے بلند اور سب سے عظیم ہے۔
ابو سفیان نے کہا: ’’لنا العُزّى ولا عُزّى لكم‘‘
ہمارے پاس عُزّى(بت) ہے، تمہارے پاس نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی ہدایت پر جواب دیا: ’’لنا المولى ولا مولى لكم‘‘
ہمارا کارساز اور مددگار ہے، تمہارا کوئی نہیں۔
ابو سفیان نے پھر کہا: ’’يومٌ بيومِ بدر، والحربُ سِجال‘‘
یہ دن بدر کے بدلے میں ہے، جنگ میں کبھی ہم جیتتے ہیں، کبھی تم۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’لا سواء، قتلانا في الجنة وقتلاكم في النار‘‘۔
ہم کبھی برابر نہیں؛ ہمارے شہید جنت میں ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں۔
پھر ابو سفیان نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ قریب آؤ۔ جب وہ قریب گئے تو اس نے کہا:
’’أنشدك بالله يا عمر، أقتلنا محمدًا؟‘‘
اے عمر! تمہیں اللہ کی قسم، کیا ہم نے محمد ﷺ کو قتل کر دیا ہے؟
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’لا والله، وإنه ليسمع كلامك‘‘۔
ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! وہ زندہ ہیں اور تمہاری باتیں سن رہے ہیں۔
واپسی کے وقت ابو سفیان نے کہا: ’’موعدكم بدر للعام القابل‘‘
اگلے سال بدر میں ہمارا تمہارا مقابلہ ہو گا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ’’نعم، هو بيننا وبينك موعد إن شاء الله‘‘
ہاں، ان شاء اللہ یہی ہمارے اور تمہارے درمیان طے شدہ وعدہ ہے۔




















































