رقوم کی منتقلی کے ذرائع اور طریقۂ کار
وہ مالی امداد اور آمدن جو جعلی شناختوں کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے، کئی خفیہ اور لچکدار مالی چینلز کے ذریعے داعش تک پہنچتی ہے۔ یہ راستے اس انداز سے ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ نگرانی کے نظاموں کو چکمہ دیں اور رقوم کے اصل ماخذ کو پوشیدہ رکھیں۔
۱- حوالہ (Hawala): غیر رسمی مالی ترسیل
داعش کا سب سے محفوظ اور خفیہ طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ دلالوں (حوالہ داروں) کے ذریعے:
✓ رقم کی زمینی منتقلی نہیں ہوتی
✓ نیٹ ورک کے نام خفیہ رہتے ہیں
✓ مختلف ممالک کے درمیان سرویلنس کا امکان کم ہو جاتا ہے
۲- کرپٹو کرنسی منتقلیاں (Crypto Transfers): اثاثوں کی خفیہ ترسیل
کرپٹو والیٹس اور اور پروائیسی بٹ کوائنز کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ:
✓ ماخذ پوشیدہ رہے
✓ چند سیکنڈز میں عالمی سطح پر رقوم منتقل ہو سکیں
✓ روایتی نگرانی کے نظام (KYC/AML) کو بائی پاس کیا جائے
✓ اکثر نیٹ ورکس “پرائیویسی کوائنز” جیسے Monero استعمال کرتے ہیں جن کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے
۳- نقد رقوم کی منتقلی (Cash Couriers): زمینی طور پر پیسے پہنچانے والے
جب نگرانی کا خطرہ بڑھ جائے تو نیٹ ورکس:
✓ قابلِ اعتماد افراد
✓ مسافروں
✓ یا تجارتی ٹرکوں
کے ذریعے نقد رقوم کو زمینی طور پر مختلف علاقوں تک منتقل کرتے ہیں۔ یہ طریقہ شناخت سے بچنے کے لحاظ سے سب سے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
۴- آن لائن بینکنگ (Online Banking): جعلی اکاؤنٹس کے اندرونی انتقالات
جعلی دستاویزات پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس استعمال کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے:
✓ ایک ہی علاقے کے اندر چھوٹی چھوٹی رقوم منتقل کی جاتی ہیں
✓ پھر کئی اکاؤنٹس کی رقوم افراد کے بجائے نیٹ ورک کے درمیانی لوگوں کو بھیج دی جاتی ہیں
✓ یہ طریقہ زیادہ تر یورپی سماجی امداد کے نظام میں کٹوتیوں کے باعث بے نقاب ہوتا ہے
متعدد شناختوں سے آمدن کا یکجا ہونا:
جعلی دستاویزات کے ذریعے ایک شخص مختلف پروگراموں سے ماہانہ امداد حاصل کر سکتا ہے۔ جب یہ تمام امداد نیٹ ورک کے ذریعے جمع کی جاتی ہے تو:
✓ ہر سال لاکھوں یوروز کی خالص آمدن داعش کو منتقل ہو جاتی ہے
✓ وہ بھی صرف ایک فرد کی متعدد جعلی شناختوں کے ذریعے
خطرہ اور اسٹریٹجک اہمیت:
جعلی شناختوں اور سماجی امدادی نظام کے ذریعے رقوم حاصل کرنا محض ایک مالی جرم نہیں، بلکہ داعش کے لیے ایک اسٹریٹجک اور پائیدار مالی نظام تشکیل دیتا ہے۔ اس عمل میں کئی ایسی خصوصیات ہیں جو گرفتاری سے بچاتی اور نیٹ ورک کو مضبوط بناتی ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
۱- زیادہ مالی افادیت
اس نظام میں:
✓ ایک فرد ۳ تا ۴ مستحقین کے برابر سماجی امداد حاصل کر سکتا ہے
✓ بے روزگاری الاؤنس، خاندانی امداد، رہائشی معاونت اور دیگر پروگراموں کی مجموعی سالانہ آمدن لاکھوں یوروز تک پہنچ سکتی ہے
✓ کم خطرے کے بدلے بہت زیادہ آمدن حاصل ہوتی ہے، جو اس نیٹ ورک کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے
۲- گرفتاری کا کم خطرہ
اس نظام کے کم انکشاف کی وجوہات یہ ہیں:
الف۔ ہر شناخت کی الگ رجسٹریشن
جعلی شناختیں مختلف دستاویزات، پتوں اور شناختی نمبروں کے ساتھ الگ الگ رجسٹر ہوتی ہیں، جس کے باعث:
✓ ایک شخص کے مختلف ناموں کے درمیان تعلق ظاہر نہیں ہوتا
✓ نگرانی کے نظام انہیں آسانی سے نہیں پہچان پاتے
ب۔ مشترکہ نگرانی کے پلیٹ فارم کی کمزوری
بہت سے یورپی ممالک میں:
✓ سماجی امداد کے ادارے
✓ امیگریشن محکمے
✓ بلدیاتی ذیلی دفاتر
کسی مشترکہ اور متحد ڈیٹا بیس کی عدم موجودگی کا شکار ہیں
ج۔ معلومات کا محدود تبادلہ
مختلف ادارے ایک دوسرے کے ساتھ صرف جزوی معلومات شیئر کرتے ہیں، جس سے نیٹ ورک محفوظ رہتا ہے:
✓ امیگریشن محکمے کو سماجی امداد کی مکمل تاریخ نظر نہیں آتی
✓ بلدیاتی ادارے کے پاس اصل شناخت کی تصدیق سے متعلق مکمل معلومات نہیں ہوتیں
✓ بینک صرف پیش کی گئی دستاویزات دیکھتے ہیں، حقیقی شناخت کی سابقہ تفصیل نہیں
۳- داعش کے لیے طویل المدت اور مستحکم مالی بہاؤ
یہ مالی نظام داعش کو ایسی خصوصیات فراہم کرتا ہے جو دیگر ذرائع میں موجود نہیں:
الف۔ باقاعدہ ماہانہ آمدن
سماجی امداد عموماً ریاستی بجٹ سے ماہانہ اور مستقل بنیادوں پر فراہم کی جاتی ہے، جس سے داعش کے لیے ایک قابلِ پیش گوئی اور مسلسل مالی ذریعہ بنتا ہے۔
ب۔ لاجسٹک، تشہیری اور عسکری سرگرمیوں کی مالی معاونت
ان رقوم سے ارکان کی تنخواہیں، سفر اور نقل و حمل کے اخراجات، مسلح کارروائیوں کی مالی مدد، آن لائن تشہیر اور بھرتی کے بجٹ پورے کیے جاتے ہیں۔
ج۔ نیٹ ورک کی توسیع کی صلاحیت
کم خطرے اور زیادہ منافع کی وجہ سے مزید افراد اس عمل کی طرف راغب ہوتے ہیں، نیٹ ورک پھیلتا ہے اور جعلی دستاویزات و شناخت سازی کا ڈھانچہ مزید مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔




















































