جب دسمبر 1979ء کی آخری راتوں میں سوویت یونین کی فوجیں افغانستان کی سرزمین میں داخل ہوئیں تو افغانستان کی معاصر تاریخ میں ایک خونریز اور طویل جنگ کا آغاز ہوا۔ یہ حملہ تقریباً دس سال تک جاری رہا اور اس نے نہ صرف سیاسی نظام کو بدل دیا بلکہ معاشرے کے ڈھانچے، معیشت، ثقافت اور انسانی زندگی پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔
سوویت افواج اپنے بھاری ہتھیاروں، طیاروں اور بکتر بند ٹینکوں کے ساتھ ملک میں داخل ہوئیں۔ بے شمار دیہات اور شہر فضائی بمباری کا نشانہ بنے۔ دیہی علاقوں میں زمینی کارروائیوں کے دوران گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا، زرعی زمینیں تباہ کر دی گئیں اور ہزاروں بے گناہ افراد قتل کر دیے گئے۔ بین الاقوامی اندازوں کے مطابق اس جنگ میں دس لاکھ سے زیادہ افغان جان سے گئے اور لاکھوں دیگر مہاجر بن گئے۔
جنگ کا سب سے بھاری بوجھ عام عوام پر پڑا۔ بچے یتیم ہو گئے، مائیں بیوہ ہو گئیں اور خاندان بکھر گئے۔ ہزاروں بے گناہ افراد کو جیلوں میں بھیج دیا گیا اور بعض لاپتہ ہو گئے۔ لوگوں کے سیاسی اور مذہبی عقائد کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا جاتا تھا اور جو بھی قبضے کے خلاف آواز اٹھاتا، اسے تعاقب اور سزا کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
اسی مدت میں لاکھوں افغان ہمسایہ ممالک کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ ہجرت کی یہ لہر افغانستان کی تاریخ کے سب سے بڑے انسانی بحرانوں میں سے ایک تھی۔ مہاجرین سالہا سال مہاجر کیمپوں میں سخت حالات کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور رہے۔
اقتصادی ڈھانچے جیسے سڑکیں، پل، فیکٹریاں اور اسکول شدید نقصان سے دوچار ہوئے۔ زرعی شعبہ، جو ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھا، جنگ کے باعث کمزور ہو گیا۔ وسیع پیمانے پر بارودی سرنگیں بچھا دی گئیں جو آج تک افغان عوام کی جانوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں اور ہر سال شہریوں کو ہلاک و زخمی کر رہی ہیں۔
تاہم ان تمام مصائب کے باوجود افغان عوام نے اپنے تشخص اور عقیدے کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔ بالآخر 15 فروری 1989ء کو، جو ہمارے ملک میں 26 دلو کی تاریخ بنتی ہے، سوویت افواج ایک سخت تاریخی اور شرمناک شکست کے بعد افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہوئیں۔ یہ دن ایک عظیم سلطنت کی شکست اور افغان عوام کی مزاحمت کی فتح کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
لیکن تاریخ کا یہ بدلتا ہوا باب ہمیں ایک اور اہم سبق بھی دیتا ہے: اگرچہ افغان عوام نے قبضہ توڑ دیا، مگر جنگ کے بعد سیاسی اختلافات اور داخلی تنازعات نے ملک کو نئی مشکلات سے دوچار کر دیا۔ یہ حقیقت واضح کرتی ہے کہ بیرونی جارحیت کے خلاف کامیابی کو قومی اتحاد، سیاسی مفاہمت اور دانشمندانہ حکومتی پالیسیوں کے ذریعے مستحکم کرنا ضروری ہوتا ہے۔
آج جب ہم 15 فروری (26 دلو) کی یاد تازہ کرتے ہیں تو ہمیں اس دن کو صرف ماضی کے فخر کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے مستقبل کے لیے عبرت کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ آزادی قربانی سے حاصل ہوتی ہے، مگر اسے تدبر، اتحاد اور انصاف کے ذریعے برقرار رکھا جاتا ہے۔ اگر ہم تاریخ کے اس باب سے درست سبق حاصل کریں تو ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستحکم، پُرامن اور باوقار افغانستان چھوڑ سکتے ہیں۔




















































