اکیس فروری بروز ہفتہ بنوں میں ایک دھماکہ ہوتا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق پاکستانی فوج کے دو بلند رتبہ افسروں سمیت گیارہ فوجی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ـ اس واقعہ کے فورا بعد پاکستانی فوج کے سوشل میڈیا اکاونٹس پر بیان جاری ہوتا ہے اور وہ بیان گویا اس واقعہ کا رد عمل ہےـ
جس میں واقعہ پر اظہار افسوس کم اور فرمائشی باتیں زیادہ نظر آتی ہیں ـ اس بیان کو دیکھتے ہی خبر ونظر سے تعلق رکھنے والوں نے خبر دی کہ اب پاکستانی فوج بدامنی کی لہروں کے سامنے ناکام ہوگئی ہے اور اب دوسروں پر ملبے کے ڈھیر کو تھوپنے کا عمل شروع کردیا ہےـ یہ عمل جو پہلے زبانی جمع خرچ ہوا کرتی تھی ماہرین کے بقول اب یہ عمل گفتار سے نکل کر کوئی اور صورت بھی اختیار کرسکتا ہےـ
اس لئے کہ پاکستانی فوج کی پے درپے ناکامیاں اس کا منہ چڑا رہی ہیں اور ایسے تقاضا بھی کررہی ہیں کہ ناکامیوں سے اپنی ملت کی توجہ ہٹانے کے لئے کوئی اور دھندہ سرانجام دیا جائےـ
دراصل بنوں والے واقعہ پر فوجی بیان ایک انوکھا رنگ اختیار کئے ہوئے تھاـ بیان میں واقعہ کی خبر کے بعد اگلا جملہ کچھ اس طرح تھا: ’’افغانستان ایک دفعہ پھر دہشت گردی روکنے میں ناکام ہوا ہےـ‘‘
گویا افغانستان نے پاکستان میں امن برقرار رکھنے کا معاہدہ کر رکھا ہے اور پاکستانی عوام کا اسی فیصد بجٹ اور ساری ٹیکسز فوج کے بجائے سیدھا افغانستان کو ملتا ہےـ اس لئے جیسے ہی پاکستان میں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اسے یاد دلانا پڑتا ہے کہ تم ٹیکسز جو کھارہے ہو، بجٹ پر اژدہے کی طرح جو قابض ہو اس کی لاج کیوں نہیں رکھتے اور کیوں امن قائم کرنے میں ناکام کیوں ہوئے ہو؟
بلکہ مجھے تو بیان دیکھنے کے بعد ایسا لگا کہ ایٹم بم کی حامل پاکستانی فوج کے بجائے افغانستان ہےـ سعودی سے دفاعی معاہدہ بھی پاکستانی فوج کے بجائے افغانستان نے کیا ہےـ انڈیا کو شکست دینے کا راگ بھی روزانہ کی بنیاد پر پاکستانی فوج کے بجائے افغانستان الاپ رہا ہےـ جنگی جہاز گرانے کا ہنر بھی پاکستانی فوج کے بجائے افغانستان کے پاس ہےـ
اور یہ اس لئے لگا کہ یہ سب کچھ تو پاکستانی فوج مٹھی میں لئے بیٹھی ہےـ وسائل کی اس کے پاس، اس کے بقول بھرمار ہےـ اسلحوں کی اس کے ہاں بہتات ہےـ جو جو نام پاکستانی فوج اپنے سپاہیوں کو دیتی ہے اور سعودی سے لے کر پورے عرب اور مشرق وسطی کو پاکستانی فوج جس امن معاہدوں کی نوید دیتی ہےـ جس دفاع کا وہ وعدہ کرتی ہے وہ بندے کو مجبور کرتے ہیں کہ پورے مشرق وسطی میں بلکہ پورے ایشیا میں کوئی واقعہ ہوجائے تو پاکستانی فوج کو شرمندہ ہوجانا چاہیےـ لیکن اس کے اپنے ہی ملک میں، اپنے ہی سپاہیوں کو گزنگ پہنچتی ہے تو وہ الزام افغانستان پر کچھ اس انداز سے ڈالتا ہے جیسا کہ افغانستان نے ہی اس کا ٹھیکہ لیا ہوـ
بیان کا اگلا جملہ پچھلے جملے سے بھی دلچسپ تھاـ لکھا تھا کہ ہم اب انتقام لیں گے اور کسی قسم کے تحمل سے کام نہیں لیں گےـ اس پر لگا ایسا کہ اب وہ پورے کے پی کے میں جہاں جہاں تحریک طالبان پاکستان اور اس طرح کی دیگر گروپ موجود ہیں ان کے مقابلہ میں کھلے میدان میں آئیں گے اور ڈنکے کی چوٹ پر مردانہ وار اس کا مقابلہ کرے گےـ یا ان سے تمام علاقوں کا صفایا کریں گے اور یا پھر خود غیرت کی موت مرجائیں گےـ
ابھی دنیا انتظار کررہی تھی کہ رات گئے پاکستانی فوج کے طیارے پاکستانی حدود سے نکل کر افغانستان میں گھس گئےـ وہاں پانچ نقطوں پر بے بس، غریب اور بیچاری عوام پر بمباری کی، ایک ہی گھرانے کے سترہ افراد کو ایسی حالت میں شہید کر ڈالا کہ وہ چوتھا روزہ افطاری کرکے پانچویں روزے کی تیاری کی خاطر سوگئے تھے یا پھر مساجد اور مدارس میں قرآن مجید سمیت ان دینی کتابوں کو نشانہ بنا کر جلا بیٹھے جن میں پاکستانی فوج کی ہر ہر حرکت سے متعلق واضح احکامات موجود ہیں ـ
اور پاکستانی فوج کی دیرینہ تمنا یہ رہتی ہے کہ کسی طرح ان کتابوں کو صفحہ ہستی سے مٹا کر اپنی عیش وعشرت کو بڑھاوا دیا جائےـ
اب یہ سوال عرب وعجم سب کررہے ہیں کہ پاکستان ان معصوم لوگوں اور مقدس مقامات کو نشانہ بنا کر آخر چاہتا کیا ہے؟ ظاہر ہے پاکستانی فوج کی سب سے بڑی چاہت یہ ہے کہ وہ قوم کا خون پسینہ چوستی رہے اور اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے کوئی بھی غیر انسانی، غیر اسلامی، غیر شرعی اور ہر طرح کا کردار ادا کرنا پڑے وہ بلا روک ٹوک کر گزرےـ
لیکن ساتھ میں اس پر کوئی ذمہ داری عائد نہ ہوتی ہوـ اس مقصد کے لئے اس نے گزشتہ آٹھ دہائیوں سے قوم کو کشمیر کی بتی کے پیچھے لگایا ہے اور آج تک کشمیر آزاد ہوا ہے اور نہ ہی فوج کی کوئی امید بر آئی ہےـ
البتہ اس نام سے قوم کی رگ رگ کو جتنا چوسا جا سکتا تھا کیا جاچکا ہےـ ساتھ میں ایک اور وجہ یہ بھی سامنے آئی ہے جس کا اظہار گزشتہ دنوں پاکستان کے نامور تجزیہ کار قمر چیمہ نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ جو کام امریکا نامکمل چھوڑ چکا تھا پاکستان اس کی تکمیل کررہا ہےـ اب قمر چیمہ کی اس سے کیا مراد ہوگی؟ لیکن دنیا کو پتہ ہے کہ امریکا افغانستان میں کیا کررہا تھا؟
بم بارود اور گولی سے جہاں انسانی زندگی کو اجیرن کر رکھا تھا وہیں جیل اور سنگلاخ تاریک کوٹھریاں معصوم افراد سے بھری تھیں۔ وہیں ملک کے لال وجواہر پر ڈاکہ چل رہا تھاـ وہیں ملک کی تخریب کے تمام منصوبے بروئے کار تھےـ
پاکستانی فوج بھی چونکہ انسانیت اسلامیت اور پڑوسی ہونے کے تمام اخلاق اور اصول سے عاری ہیں۔ اپنے ذاتی مفادات کے لئے قوم کے محسن کو نظر بندی میں مار سکتی ہے اور بقول کسے: ’’حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے‘‘ کے اصول پر اپنے فوجی سربراہ کو طیارہ کریش کرکے مار سکتا ہے تو عام مسلمانوں کا قتل، مسجد ومدرسہ کا انہدام، شعائر اسلام کی توہین سے اسے کیا شرم آئے گی۔
بچوں اور خواتین کی عصمت دری پر اس کی کیا غیرت جاگے گی۔ اس لئے اس نے بصد خوشی چند ٹکوں کے عوض ٹرمپ سے یہ منصوبہ ٹھیکے پر لیا ہےـ لیکن اسے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح ٹرمپ اور اس کے پیشرو اپنے ظلم واستبداد کے باوجود ان سب کو منہ کی.کھانی پڑی تھی تو پاکستانی فوج کیا حاصل کرپائے گی؟




















































