۲۰۰۱ء کے بعد افغانستان اور پاکستان کے درمیان سیکیورٹی صورتحال گہرے تغیرات کا مشاہدہ کرتی رہی ہے۔ ستمبر کے حملوں کے بعد، جب امریکہ نے افغانستان پر فوجی حملہ کیا اور عالمی اتحاد کی افواج نیٹو کے تحت تعینات ہوئیں، پاکستان نے اس وقت کے صدر پرویز مشرف کی قیادت میں امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ محض سفارتی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ خطے کی سیکیورٹی توازن میں ایک گہرا انقلاب لایا، جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
پاکستان نے باضابطہ استدلال کیا کہ عالمی برادری کے ساتھ تعاون اس کے قومی مفادات اور بین الاقوامی دباؤ کے پیش نظر ضروری تھا، لیکن اندرونی حالات جلد ہی بدل گئے۔ خاص طور پر سابقہ قبائلی علاقے فاٹا فوجی آپریشنز کا مرکز بن گئے۔ ۲۰۰۴ء کے بعد شمالی اور جنوبی وزیرستان، باجوڑ، خیبر اور دیگر علاقوں میں وسیع پیمانے پر آپریشنز کیے گئے۔ پاکستان فوج کے مطابق، ان مختلف آپریشنز میں ہزاروں عسکریت پسند ہلاک اور سیکڑوں فوجی بھی قتل ہوئے۔ ۲۰۱۴ء میں ’’ضربِ عضب‘‘ آپریشن کے دوران صرف شمالی وزیرستان میں ایک ملین سے زائد افراد بے گھر ہوئے، اور مجموعی طور پر ۲۰۰۸ء سے ۲۰۱۶ء کے درمیان بے گھر ہونے والوں کی تعداد پانچ ملین تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب، امریکہ کے ڈرون حملے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ متنازعہ موضوع بن گئے۔ صحافتی تحقیق کے مطابق، ۲۰۰۴ء سے ۲۰۱۸ء کے درمیان پاکستان میں ۴۳۰ سے زائد ڈرون حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں ۲۵۰۰ سے ۴۰۰۰ افراد ہلاک ہوئے۔ شہری نقصان کی تعداد مختلف ذرائع کے مطابق مختلف ہے، لیکن اندازہ ہے کہ اس میں سیکڑوں عام شہری بھی شامل تھے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنے رپورٹس میں شفافیت کی کمی، احتساب کی کمی، اور شہریوں کے حقوق کی پامالی کو سنگین مسئلہ قرار دیا۔
ڈرون جنگ نے مقامی عوام کے ذہنیت پر گہرا اثر چھوڑا اور ریاست اور معاشرے کے درمیان اعتماد کی کمی میں اضافہ کیا۔
افغانستان کی جنگ میں انسانی جانوں ضیاع بھی نہایت زیادہ رہا۔ اقوام متحدہ کی مشن برائے افغانستان (UNAMA) کی سالانہ رپورٹس کے مطابق، ۲۰۰۹ء سے ۲۰۲۱ء تک ۴۶ ہزار سے زائد عام شہری ہلاک اور ۸۰ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ اعداد و شمار صرف دستاویزی واقعات پر مبنی ہیں اور حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس جنگ میں نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوا بلکہ اقتصادی ڈھانچوں کو بھی نقصان پہنچایا اور غربت کی شرح کو بلند سے بلند ہوتی گئی۔
سیکیورٹی کے نظریات کے مطابق، افغانستان اور پاکستان کے تعلقات ’’سیکیورٹی ڈائلیما‘‘ (Security Dilemma) کا کلاسیکی مظاہرہ ہیں۔ ہر فریق جب اپنی دفاعی تیاریوں میں اضافہ کرتا ہے تو دوسرا فریق اسے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ اس بات پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے عسکری گروہوں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ افغان حکام اس الزام کی تردید کرتے ہیں اور بارہا کہتے رہے ہیں کہ افغانستان کی زمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ یہ باہمی شبہات اعتماد کی فضا کو کمزور کرتے ہیں اور سرحدی جھڑپوں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
۲۰۲۱ء ماہ اگست میں غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد، جب کابل میں امارتِ اسلامیہ نے حکومت سنبھالی، تو علاقائی سیکیورٹی صورتحال میں ایک بار پھر تبدیلی آئی۔ پاکستان توقع کرتا رہا کہ نئی حکومت ٹی ٹی پی کے خلاف سخت اقدامات کرے گا، مگر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی رپورٹس کے مطابق، ۲۰۲۳ء میں پاکستان میں ۷۰۰ سے زائد سیکیورٹی واقعات درج کیے گئے اور ہلاکتوں کی تعداد ۲۰۱۴ء کے بعد سب سے زیادہ سطح پر پہنچی۔ اس اضافے نے پاکستان کے داخلی سیاسی اور سیکیورٹی بحث کو مزید گرم کر دیا۔
اسی دوران پاکستان کو خطرناک اقتصادی بحران کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ۲۰۲۳ء میں مہنگائی کی شرح ۳۰ فیصد تک پہنچ گئی اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کم ہو گئے۔ سیاسی بے ثباتی میں بھی اضافہ ہوا، خاص طور پر سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد فوج اور سول حکومت کے درمیان اختلافات، احتجاجی ریلیاں اور سیاسی گرفتاریوں نے سیکیورٹی کی فضا کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ بیشتر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ داخلی سیاسی اور اقتصادی دباؤ سیکیورٹی بحران کی شدت سے براہِ راست منسلک ہیں۔
سرحدی انتظامیہ کا معاملہ بھی اختلافات کی بنیادی وجہ ہے۔ پاکستان نے باڑ لگانے کے منصوبے کو اپنی قومی سیکیورٹی پالیسی کا حصہ قرار دیا، مگر افغانستان میں اس پر تنقید کی جاتی رہی۔ کئی مرتبہ سرحدی جھڑپیں ہوئیں، گزرگاہیں بند ہوئیں اور تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
دونوں فریقین کی جانب سے علماء کی کانفرنسیں، فوجی اور سفارتی مذاکرات اور مشترکہ کمیٹیاں قائم کرنا تشدد کو کم کرنے کی کوششیں سمجھی جاتی ہیں، مگر اب تک کوئی پائیدار میکانزم قائم نہیں ہو سکا۔ تجزیاتی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ بحران کثیرالجہتی نوعیت کا حامل ہے: تاریخی بے اعتمادی، جغرافیائی سیاسی مقابلہ، نیابتی پالیسیوں، داخلی سیاسی بحرانوں اور اقتصادی دباؤ نے ایک دوسرے کو مضبوط کیا اور صورتحال مزید پیچیدہ کر دی ہے۔
صرف فوجی کارروائیاں ناراض گروہوں کو دوبارہ سرگرم ہونے سے روکنے کے لیے کافی نہیں ہیں، اگر ان کے ساتھ سیاسی شمولیت، اقتصادی مواقع اور علاقائی تعاون موجود نہ ہوں۔ تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہر بار تشدد میں اضافہ وقتی طور پر کسی فریق کے لیے تکتیکی کامیابی ہوسکتی ہے، لیکن طویل المدتی استحکام کی ضمانت نہیں دیتی۔ چند ماہ قبل پاکستان نے افغانستان کے دارالحکومت سمیت بعض علاقوں میں فضائی حملے کیے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ ٹی ٹی پی افغان سرزمین پر سرگرم ہے، جس کے جواب میں امارتِ اسلامیہ نے مناسب انداز میں جوابی کارروائیاں کیں اور پاکستانی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا۔
جب پاکستان نے خود کو خطرے میں پایا تو اس نے سیز فائر اور سیاسی حل کی درخواست کی۔ مذاکرات کے لیے تیسرے فریق کو منتخب کیا گیا، لیکن پاکستان کے غیر منطقی مطالبات کی وجہ سے یہ مذاکرات ناکام رہے۔ یہ دوسرا موقع تھا جب پاکستان کے اس عمل نے افغانستان کی خودمختاری کو پامال کیا، جو کسی بھی لحاظ سے قابلِ برداشت نہیں ہے۔
امارتِ اسلامیہ کا موقف یہ ہے کہ اگر افغان سرزمین پر دوبارہ حملے کیے گئے تو ردعمل اس سے زیادہ سخت ہوگا۔ ماضی میں متعدد مواقع پر بڑے تصادم سے بچنے کے لیے صبر اور سیاسی رابطوں کا سہارا لیا گیا، لیکن اگر صورتحال یوں ہی رہی تو قومی خودمختاری اور سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے لازمی اقدامات کیے جائیں گے۔
امارتِ اسلامیہ کے مطابق، کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد افغان عوام مزید بے ثباتی کے حامی نہیں ہیں، لیکن ساتھ ہی اپنے ملک کی سرحدی سالمیت اور تحفظ کو اپنی بنیادی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ امارت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اس کی اولین ترجیح مذاکرات اور سفارتی حل ہیں، لیکن اگر ان پر دوبارہ دباؤ ڈالا گیا تو جواب گزشتہ کے مقابلے میں زیادہ سخت ہوگا۔
ان مسائل کے حل کے لیے درج ذیل چند بنیادی اقدامات ضروری ہیں:
۱۔ مشترکہ انٹیلی جنس تعاون کا شفاف نظام قائم کیا جائے تاکہ شبہات کی فضا کم ہو۔
۲۔ سرحدی انتظام صرف فوجی نقطہ نظر تک محدود نہ رہے بلکہ تجارت، آمدورفت اور انسانی رابطے بھی شامل ہوں۔
۳۔ علاقائی اقتصادی منصوبے مشترکہ فوائد پیدا کریں اور سیکیورٹی کے مقابلے کے بجائے اقتصادی انحصار بڑھائیں۔
۴۔ علماء، قبائلی اور شہری قیادت کا کردار سماجی اعتماد کی بحالی میں اہم ہے۔
۲۰۰۱ء سے ۲۰۲۵ء تک افغانستان اور پاکستان کے درمیان سیکیورٹی صورتحال کئی سطحی عوامل کا نتیجہ ہے۔ فوجی پالیسیوں، عالمی مداخلتوں، قبائلی آپریشنز، ڈرون حملوں، داخلی سیاسی کشمکش اور اقتصادی بحرانوں کا مجموعہ آج کے پیچیدہ حالات کے اسباب ہیں۔




















































