بیسویں صدی کے آخری عشرے میں، جب افغانستان کی سرزمین پر سرخ لشکروں کو شکست ہوئی اور نتیجے میں ایک نئی اسلامی حکومت وجود میں آئی، اس کے بعد دنیا کے تمام مسلمانوں کو ایک نئی امید اور روشنی کی کرن نظر آئی، اور امت مسلمہ کی جدوجہد ایک نیا رخ اختیار کر گئی، عین اسی وقت دنیا کی ایک اور بڑی طاقت امریکہ کے لیے افغانستان کو یہ اسلامی حکومت ہضم نہ ہو رہی تھی۔ لہٰذا اس نے مختلف بہانوں کے ذریعے اس حکومت کو گرا کر دنیا بھر میں امت مسلمہ کی جو امیدیں وابستہ ہو گئی تھیں، ان کو مٹی میں ملا دینے کی کوشش کی۔
اس کام کے لیے امریکہ کو ایک ایسی تابع فرمان اور وفادار حکومت اور ریاست درکار تھی جو افغانستان کے ساتھ سرحد، مشترکات، اور ضروریات کے اعتبار سے تمام امکانات کے ساتھ ہو۔ ایران اور پاکستان دونوں ایسے ممالک تھے جو اس مقصد کے لیے قابلِ استعمال ہو سکتے تھے، لیکن ایران کے ساتھ امریکہ کی پرانی دشمنی تھی اور پاکستان کا مسئلہ یہ تھا کہ وہاں کی حکومت عوامی نمائندوں کی تھی اور وہ اسلامی حکومت کو گرانے کے لیے امریکہ جیسے بڑے کافر کی حمایت نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے امریکہ اور پاکستانی فوجی رجیم کے مشترکہ منصوبے کے تحت عوامی نمائندہ حکومت کو گرا دیا گیا اور اس کی جگہ پاکستانی فوج کے جنرل پرویز مشرف نے حکومت کا انتظام سنبھالا تاکہ وہ اپنی طاقت کے ذریعے عوام پر وہ فیصلے مسلط کر سکے جو عوامی نمائندہ حکومت قوم کے خوف کی وجہ سے نہیں کر سکتی تھی۔
اس سلسلے میں ایک بڑا فیصلہ یہ تھا کہ افغانستان کی اسلامی حکومت کے خلاف امریکہ کو پاکستان میں اڈے دیے جائیں، اور یہ کام پرویز مشرف نے عوام کی رضا کے بغیر بے شرمی سے انجام دیا۔ پاکستان کے ہوائی اڈے، فضائی حدود، سمندری و زمینی راستے سب کے سب امریکہ کے حوالے کر دیے گئے اور عوام کو حقارت آمیز لہجے میں دھمکی دی کہ اگر کسی نے اس کے خلاف ایک لفظ بھی کہا تو وہ زمین سے مٹ جائیں گے۔
یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی عوام متدین اور دین سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور پرویز مشرف کا یہ اقدام ان کے ضمیر کے لیے ناقابل قبول تھا، لیکن خوف اور استبداد کی وجہ سے عوام نے خاموشی اختیار کی۔ تاہم، اپنی بساط کے مطابق انہوں نے افغانستان کی اسلامی حکومت کے ساتھ اپنی ہمدردی اور تعاون کا اظہار کیا، خاص طور پر قبائلی علاقوں کے غیرت مند اور مسلمان عوام نے کوشش کی کہ وہ اپنی مدد سے افغانستان کی اسلامی حکومت اور غیرت مند مسلمان عوام کو یہ بتا سکیں کہ پاکستانی فوجی جنرل کے فیصلے میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ کفر کی غلامی کے لیے اپنے قلعے امریکہ کو فراہم کر چکے ہیں۔
پرویز مشرف بھی اس بات سے آگاہ تھا اور اس نے امریکہ کو دکھانے کی کوشش کی کہ وہ امریکی مفادات کے لیے اتنا وفادار ہے کہ اس کے لیے اپنے عوام کو بھی تکلیف دے سکتا ہے، ذلیل کر سکتا ہے اور قتل کر سکتا ہے۔ اس لیے اس نے ابتدا میں قبائلی علاقوں کے لوگوں کو ایک کے بعد ایک جھوٹے الزام کے تحت گرفتار کیا، پھر اس نے پابندیوں کا سلسلہ شروع کیا اور ہر دوسرے دن کرفیو کے نام پر عوامی آزادیوں کو سلب کیا تاکہ امریکہ کو دکھا سکے کہ وہ ہر خدمت کے لیے تیار ہے۔ لیکن اپنے سخت دل اور امریکہ کے مفادات کے لیے شدید وفاداری کی وجہ سے اس نے مسجدوں، مدارس اور دیہاتوں کو تباہ کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
اس نے بمباری کا آغاز کیا، لوگوں کو یا تو زندہ لاپتہ کر دیا یا بمباری میں شہید کیا۔ کہانی کو مزید آگے بڑھایا اور اس کی کارروائیاں امریکی ڈرون کے ذریعے قبائلی علاقے میں شورش پیدا کر دینے تک پہنچی۔ برسوں تک امریکی ڈرون علاقے میں گشت کرتے رہے اور وہ علاقے کے لوگوں کو نشانہ بناتے رہے۔
ایسی صورتحال میں قبائلی علاقوں کے لوگوں نے بار بار جرگے کیے، حکومت اور فوجی جرنیلوں کو اللہ کے واسطے دیے، جمہوری اصولوں کی روشنی میں تمام ٹھوس اقدامات کیے، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا، وہ مزید تشدد کا شکار ہو گئے، ان کے دکھ مزید بڑھ گئے، فوج کے ظلم میں مزید اضافہ ہوا۔ اس پر قبائلی عوام نے بھی تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق یہ فیصلہ کر لیا کہ اب اس مشکل اور پیچیدہ حالت سے باہر نکلا جائے، چاہے کسی بھی قیمت پر ہو۔
اس کے لیے قبائلی عمائدین، مذہبی علماء اور مقامی بزرگوں نے مشاورتی اجلاس بلائے، حالات کا جائزہ لیا اور ان حقیقتوں کا ادراک کیا جن میں وہ مبتلا تھے، حالات کی شرعی حیثیت بھی دیکھی اور ہر زاویے سے اس پر غور و فکر کیا۔ آخرکار وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ فوجی جرنیلوں کے ہاتھوں ہماری عزت و آبرو پامال ہو چکی ہے، ہمارے گھر مسمار اور بمبار کیے گئے، ہمارے دینی شعائر جیسے مساجد، مدارس، قرآن اور دینی کتب بارود کی آگ میں جلائے جا چکے ہیں، ہمارے بزرگوں کو بے عزت کیا گیا، ذلیل کیا گیا اور مارا گیا۔ ہماری عورتوں کو اپنے گھر اور چار دیواری میں بے عزت کیا گیا، ہمارے نوجوانوں کو مختلف بہانوں سے لاپتہ کیا گیا، اور اب تک لاپتہ ہیں، ہمارے غیرت و شجاعت کے پیکر نوجوان بے جا مٹی تلے دفن کیے جا رہے ہیں، ذندانوں میں ڈالے جا رہے ہین اور ایسی ہر بد بختی فوجی جرنیل ہم پر لا رہے ہیں۔
انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ فوجی جرنیل امریکہ کے مفادات کی حفاظت اور اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے قبائلی علاقوں کو شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں، اور افغانستان کے مقدس جہاد کو روکنے کے لیے قبائلی عوام کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس لیے انہوں نے قومی، شرعی اور قبائلی اقدار کے مطابق فیصلہ کیا کہ اب فوجی جرنیلوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنی عزت، ناموس اور دینی شعائر کا دفاع کریں گے۔
اس مقصد کے تحت 2003 اور 2004 میں مختلف قبائلی علاقوں میں فوجی جرنیلوں کے ظلم و استبداد کے خلاف اور ان کے اعمال کا جواب دینے کے لیے تحریکیں شروع ہو گئیں، جس میں سوات، وانا، وزیرستان، خیبر اور مهمند ایجنسیوں میں مقامی مزاحمتیں شروع ہو گئیں۔ جہاں بھی فوجی جرنیلوں نے دین کی توہین کی یا عزت پر حملہ کیا، وہاں عوام نے مسلح مزاحمت کا آغاز کر دیا۔
لیکن فوجی جرنیلوں نے بجائے اس کے کہ اس قضیے کی اہمیت کو سمجھیں، اور اپنے استبدادی اعمال سے پیچھیں ہٹیں، طاقت کے نشے میں مست، ظلم میں اضافہ کیا، جبر کا دائرہ مزید وسیع تر کر دیا اور امریکہ سے مدد طلب کی، اور امریکی ڈرونز کے ذریعے اپنے عوام پر بمباری شروع کر دی۔ انہوں نے قبائلی علاقوں میں خون کا نیا دریا بہایا، دیہاتوں اور گھروں کو تباہ کیا، ماؤں بہنوں کو بیوہ کیا، بچوں کو یتیم کیا اور عمارتوں کو ملبے میں بدل دیا۔
اس کے بعد مختلف علاقائی مزاحمتی گروہ، جو پہلے اپنی حدود تک محدود تھے، فوجی جرنیلوں کے ظلم و استبداد اور امریکی مداخلت کی موجودگی میں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے اور 2007 میں ایک مضبوط تنظیم تشکیل دی۔ ان کا ایک مرکزی رہنما منتخب کیا گیا، ان کی کارروائیاں جرنیلوں کے خلاف پورے پاکستان میں پھیل گئیں، اور انہوں نے فوجی جرنیلوں کے خلاف بڑی جدوجہد کی۔
اگرچہ فوجی جرنیلوں نے اپنے ظلم کے لیے جواز تراشنے کی کوشش کی، اپنے زور اور جبر سے میڈیا اور زبانیں سب یرغمال بنا لیں اور پروپیگنڈہ کے ذریعے اپنے جرائم کو درست اور عوامی آواز کو غلط ثابت کرنے لگے، لیکن عوام، علماء، سیاست دانوں اور تمام طبقات نے فوج کے ہر عمل کو دیکھا اور یہ سب کچھ نہیں چھپایا جا سکا۔ امریکہ کے ساتھ فوجی جرنیلوں کا کھلا تعاون، اپنی زمین، فضا اور سمندر سب امریکہ کے سپرد کیے امریکی مفادات کے لیے پاکستان کی سرزمین کی قربانی، اور ایک پاکیزہ اسلامی حکومت کو گرانا وہ چیزیں تھیں جن کے سامنے کوئی آنکھیں بند نہیں کر سکتا تھا۔
اس وقت جرنیلوں کی طرف سے پورے پاکستان بالخصوص قبائل میں دینی مقدسات کے اتنی دشمنی دکھائی گئی کہ داڑھی، پگڑی اور سنت لباس والے کو دہشت گرد سمجھا جاتا اور گرفتار کار اور ذلیل کیا جاتا۔ یہ وہ چیزیں تھیں جن کا پوری قوم حساب لینے کو تیار ہو چکی تھی۔ اس لیے جب مسلح مزاحمت شروع ہوئی تو عوام نے سمجھا کہ ان کا دل کا بڑا خواب پورا ہو گیا۔ پاکستان کے ہر کونے میں مزاحمت کی آواز پہنچی، اور عوام نے ان مزاحمتی تحریکوں کا خیرمقدم کیا۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں نوجوانوں نے مزاحمت کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی، اور اس تحریک کو مالی وسائل کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی سپورٹ فراہم کی۔ بڑے اور اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا اور بڑے پیمانے پر پورے ملک میں جھڑپیں ہوئیں، حتیٰ کہ کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے تک یہ تصادم پہنچ گیا اور وہاں فوج کے ساتھ خونی جھڑپیں ہوئیں
تاہم فوجی جرنیل اپنی پالیسی سے پیچھے نہ ہٹے اور حقائق تسلیم کرنے سے انکار کیا، کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ اپنے لوگوں کو مختلف بہانوں سے ذلیل اور جبر کے ذریعے امریکہ سے اہم مراعات حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزاحمت کے خلاف مزید جبر اور استبداد سے کام لینا شروع کیا، ملک کے طول و عرض میں انہوں نے مزید گرفتاریاں کیں، ہزاروں نوجوانوں کو بے بنیاد الزامات پر قید کیا، ہزاروں کو بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر انتہائی بے رحمی سے شہید کیا، پورے دیہات خالی کرائے اور ہموار کر دیے اور قبائلی عوام کو وطن چھوڑنے اور ہجرت پر مجبور کیا۔ نتیجتاً ہزاروں خاندان ملک کے اندر اور باہر مہاجر بن گئے اور اب تک ہجرت کے سخت شب و روز گزار رہے ہیں۔
مگر آج بھی فوجی قیادت کی پالیسی وہی ہے: جبر اور استبداد، تاکہ اپنے ملک کو عالم کفر کے لیے ایک مضبوط قلعہ بنا کر پیش کیا جائے اور اس کے بدلے ذاتی مفادات حاصل کیے جائیں۔ وہ اسلامی ہمسایہ ممالک پر الزامات لگاتے ہیں، تہمتیں لگاتے ہیں، اگر ہو سکے تو ان کے لیے ہر قسم کی رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور حملے کرتے ہیں تاکہ اپنی وفاداری کا ثبوت دیں۔
یہاں تک کہ ان فوجی جرنیلوں نے اپنے ہی شہریوں کو قتل اور کفار کے حوالے کرنے کے معاہدے کیے۔ ایمل کانسی اور عافیہ صدیقی جیسے سینکڑوں افراد کو پیسوں کے عوض کفار کے حوالے کیا گیا، اور درجنوں اور سینکڑوں دیگر کو کفار کے حکم پر اپنے ہی وطن میں شہید کیا گیا۔ اسی بنا پر بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ موجودہ آرمی چیف عاصم منیر نے بھی امریکہ سے معاہدے کی بنیاد پر اپنی حکمتِ عملی ترتیب دی ہے، جس کے تحت ایک طرف قبائلی علاقوں میں شدید اندھا دھند بمباری اور دوسری طرف افغانستان میں وحشیانہ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
لیکن انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ظلم طاقت کے زوال کی ابتدا ہوتا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے جو ظلم کفار کے حکم اور ذاتی مفادات کے لیے کیا جا رہا ہے، وہی ایک دن ناسور بنے گا، اور تب وہی کفار محض تماشا دیکھیں گے اور کوئی فائدہ نہ دے سکیں گے۔




















































