میدانِ جنگ کے حالات پوشیدہ اور مبہم ہیں، دنیا کا توازن بدل رہا ہے اور مغربی بالادستی کا دور اختتام کے قریب ہے۔ یہ جنگ ایک خفیہ اور بڑی پیش رفت کے منظرنامے کا حصہ ہے جو پہلے بھی سامنے آ چکا ہے اور آئندہ بھی ظاہر ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ سن 2026 میں کئی بڑے بحرانوں، جنگوں اور سیاسی تبدیلیوں کے درمیان کھڑا ہے۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کا براہِ راست ٹکراؤ، غزہ کی جنگ، لبنان اور شام کی بے ثباتی، خلیجی ممالک کی تشویش، اور امریکہ و مغربی ممالک کا کردار، یہ سب عوامل خطے کے مستقبل کا تعین کر رہے ہیں۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ تین ممکنہ راستوں کی طرف بڑھ رہا ہے: محدود جنگیں، وسیع علاقائی جنگ، یا دباؤ کے تحت ایک جبری سیاسی سمجھوتا۔
گزشتہ کئی برسوں سے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشمکش پراکسی جنگوں تک محدود تھی (پراکسی جنگ وہ ہوتی ہے جس میں بظاہر چھوٹے فریق لڑتے ہیں مگر پسِ پردہ بڑی طاقتیں ہوتی ہیں)، لیکن اب یہ مقابلہ براہِ راست عسکری محاذ آرائی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ایران عراق، شام، لبنان اور یمن میں اپنا علاقائی اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی عسکری، سیاسی اور معاشرتی صلاحیتوں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
حالیہ حملوں اور باہمی دھمکیوں کے تناظر میں ایسا لگتا ہے کہ دونوں فریق مکمل جنگ نہیں چاہتے، مگر اپنی طاقت کا اظہار بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ اسی لیے آئندہ مہینوں میں ایک کنٹرول شدہ جنگ کا امکان ہے، یعنی حملے جاری رہیں گے مگر ہر فریق کوشش کرے گا کہ جنگ مکمل تباہ کن مرحلے تک نہ پہنچے۔ تاہم یہ صورتِ حال زیادہ دیر برقرار رہنا مشکل ہے، اور امکان ہے کہ میدانِ جنگ مزید گرم ہو جائے۔
مشرقِ وسطیٰ اور اس کے اطراف کے علاقے بڑے سیاسی اور سکیورٹی تغیرات کی طرف بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ بعض امکانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ خطے کی داخلی بے چینی عالمی نظام میں تبدیلی کی علامت ہے، اور یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یک قطبی دنیا کا دور ختم ہو رہا ہے اور ایک دو قطبی یا نئے عالمی نظام کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔
اسرائیل کا یہ مؤقف کہ مذاکرات محض کھوکھلے وعدے ہیں، اور امریکہ کی ممکنہ عسکری تیاری، مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیتی ہے۔ اگرچہ جنگ اور مذاکرات ایک ممکنہ منظرنامہ ہو سکتے ہیں، مگر اس کے نتائج نہایت بھاری ہوں گے اور تمام فریقین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے، خصوصاً خلیجی ممالک کے لیے۔ خدشہ ہے کہ یہ صورتِ حال حکومتوں کے زوال، ریاستوں کی کمزوری، داخلی تنازعات اور بعض نظاموں کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ علاقائی اور عالمی عوامل کے تسلسل کے ساتھ، یہ امکان بھی ہے کہ خطے میں نئی سیاسی تبدیلیاں، تنازعات اور بے استحکامی کی لہریں پیدا ہوں۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ اسلامی روایات میں آخر الزمان کی جنگوں کا ذکر ملتا ہے، جن میں بڑی عالمی طاقتیں، مسلمان اور رومی (یعنی مغربی یا صلیبی قوتیں) شام کے خطے میں جمع ہوں گی اور اسلام کے مقابل آئیں گی، جبکہ مسلمان اپنے دفاع کے لیے متحد ہوں گے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ عالمی طاقتیں شام کی سرزمین پر جمع ہیں، جن میں روس، ترکی، ایران، نیٹو، پاکستان اور خلیجی ممالک کی افواج شامل ہیں۔ ان کی موجودگی کا بظاہر مقصد عالمی امن کا قیام یا غزہ کی تعمیرِ نو بتایا جاتا ہے، مگر گہرے تجزیے کے مطابق اصل ہدف جنگ کو طول دینا اور مسلمانوں کو کمزور کرنا ہے۔
عالمی طاقتوں کا رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کی موجودگی کے پیچھے اسٹریٹیجک مقاصد کارفرما ہیں۔ امن اور تعمیرِ نو کے نعرے صرف ظاہری ہیں، جبکہ عملی طور پر جنگ کو جاری رکھنے اور خطے کو غیر مستحکم رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس وقت شام کا خطہ عالمی طاقتوں کے لیے اثر و رسوخ اور مقابلے کا بڑا میدان بن چکا ہے، تاہم یہ عزائم ہمیشہ کے لیے اس سرزمین میں دفن ہو جائیں گے۔
موجودہ حالات کو بعض حلقے مسلمانوں کے حق میں بھی دیکھتے ہیں، کیونکہ مسلمان قوتیں ایک متحد صف بنانے کی کوشش میں ہیں۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد کی یہ کوششیں عالمی طاقتوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ہیں۔ اگر یہ اتحاد مضبوط ہوا تو جنگ کے نتائج بدل سکتے ہیں اور بڑی طاقتوں کے عزائم ناکام ہو سکتے ہیں۔
غزہ: وہ زخم جو ابھی تک نہیں بھرا!
غزہ کی جنگ اب بھی مشرقِ وسطیٰ کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ اگرچہ کچھ وقفوں میں جنگ بندی ہوئی ہے، مگر فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ جب تک فلسطینی عوام کے لیے واضح سیاسی حل، ایک خودمختار ریاست، اور قبضے کے مسئلے کا خاتمہ نہیں ہوتا، خطہ پُرامن نہیں ہو سکتا۔ غزہ اب صرف فلسطین کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ پورے خطے کے جذبات اور سیاست کا محور بن چکا ہے۔ عرب ممالک میں عوام فلسطین کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں، مگر اکثر حکومتیں اپنی معاشی اور سلامتی کی مجبوریوں کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہی تضاد حالات کو اس نہج تک لے آیا ہے کہ دنیا ایک بڑی اور ہمہ گیر جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، اور اس کے شعلے دنیا کے ہر کونے تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہ آگ دراصل غزہ کی جنگ ہی کا تسلسل ہے۔




















































