شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس پاکستان کے علمی اور مذہبی حلقوں میں انتہائی معتبر اور جید عالمِ دین کے طور پر جانے جاتے تھے۔
وہ ایک بلند پایہ شیخ الحدیث اور طویل عرصے سے درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے۔ انہوں نے ہزاروں طلبہ کو قرآن و حدیث کی تعلیم دی اور اپنے علاقے میں علمی مرجع کی حیثیت رکھتے تھے۔
مولانا محمد ادریس کا تعلق مذہبی و سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تھا۔ وہ جماعت کے صوبائی سطح کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے اور خیبر پختونخوا کی سیاست میں بھی اثر و رسوخ رکھتے تھے۔
وہ صرف ایک مدرس نہیں، بلکہ ایک سماجی شخصیت بھی تھے۔ انہوں نے مقامی سطح پر تنازعات کے حل اور امن و امان کے قیام کے لیے فعال کردار ادا کیا۔
وہ شدت پسندی اور پاکستان میں مسلح جدوجہد کے خلاف واضح موقف رکھنے والے علما میں شامل تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر انتہا پسند گروہوں کے نشانے پر رہتے تھے۔
گزشتہ روز انہیں داعش نے بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا۔ ان کی شہادت ایک بڑا علمی اور سیاسی نقصان ہے۔
شیخ ادریس کی شہادت نے ایک بار پھر ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں جید علما کو ایک منظم منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ علمی خلا پیدا کر کے انتہا پسندی کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکے۔
داعش خراسان کی پاکستانی شاخ کی جانب سے اس کی فوری ذمہ داری قبول کرنے نے ایک بار پھر اُن پرانے زخموں کو کرید دیا ہے، جو برسوں سے خیبر پختونخوا کے عوام کے سینوں میں تازہ ہیں۔
یہ واقعہ محض ایک عالمِ دین کا قتل نہیں، بلکہ پاکستانی فوج بیانیے کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے، جو اہلِ پاکستان کو برسوں سے یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا قلعہ قمع کر دیا گیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اہل پاکستان کا لہو آج اُسی بے دردی سے بہہ رہا ہے، جس طرح 1971 میں بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو خون پاکستانی فوج کے ہاتھوں بہا تھا۔
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو وہ سوالات ہیں، جو اب براہِ راست پاکستانی فوج کی نیت اور اس کی ‘دوغلی پالیسی’ پر اٹھائے جا رہے ہیں۔
پاکستان کے سیاسی اور عوامی حلقوں میں یہ بحث اب دبے لفظوں میں نہیں، بلکہ کھلم کھلا ہو رہی ہے کہ ‘آخر کیا وجہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے جید علما، جو شدت پسندی کے خلاف ایک ڈھال کی حیثیت رکھتے ہیں، چن چن کر نشانہ بنائے جا رہے ہیں اور ریاست کا حفاظتی نظام ریت کی دیوار ثابت ہو رہا ہے؟ حالت یہ ہے کہ پاکستانی فوج نے پورے صوبے کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔
شیخ ادریس جیسے علمائے کرام کی شہادت اس بات کی گواہی ہے کہ داعش پاکستان کے لیے کوئی ‘دور کا خطرہ’ نہیں، بلکہ پاکستانی فوج کی سہولت کاری میں گھر کے اندر موجود حقیقت بن چکی ہے۔
یہاں المیہ یہ ہے کہ جب بھی داعش کی موجودگی پر بات ہوتی ہے تو اُنگلیاں ان فوجی قوتوں کی طرف اٹھتی ہیں، جن کا کام علما کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔
سب سے زیادہ سنگین اور لرزہ خیز الزامات وہ ہیں، جن میں پاکستانی فوج پر داعش کی ‘سہولت کاری’ کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ وادی تیراہ کی حالیہ صورتِ حال نے اُن خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔
یہ ایک کھلا تضاد ہے کہ جس وادی سے مقامی آبادی کو نام نہاد دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے نام پر سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں بے دخل کیا گیا، وہاں آج مبینہ طور پر داعش کے ٹھکانے آباد ہونے کی خبریں آ رہی ہیں۔
پاکستان میں عوامی سطح پر یہ تاثر جڑ پکڑ چکا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ دراصل دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہیں، بلکہ داعش کو جگہ دینے اور تزویراتی مقاصد حاصل کرنے کے لیے لڑی جا رہی ہے۔
اگر پاکستانی فوج کے آپریشن کا مقصد امن تھا تو پھر شیخ ادریس جیسے لوگ اپنے ہی گھروں میں غیر محفوظ کیوں ہیں؟ اور اگر تیراہ میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہو رہی تھی تو ابھی تک وہاں سے کسی مثبت نتیجے کے بجائے دہشت گردوں کی آباد کاری کی خبریں کیوں سامنے آ رہی ہیں؟
پاکستانی فوج کی یہ ‘دوغلی پالیسی’ ملک کو ایک ایسی بند گلی میں لے آئی ہے، جہاں اب ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔
ایک طرف دہشت گردی کے خلاف ‘عزمِ استحکام’ جیسے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف داعش کا بلا روک ٹوک پھیلنا ان دعوؤں کی قلعی کھول دیتا ہے۔
پاکستان کے سیاسی مبصرین کا یہ کہنا اب درست ثابت ہو چکا ہے کہ ‘جب تک ریاست اور فوج داعش کو اپنے سیاسی یا علاقائی مفادات کے لیے ‘اثاثے’ کے طور پر دیکھنا ترک نہیں کرتی، تب تک پاکستان سمیت خطے میں امن محض ایک سراب رہے گا۔
آج شیخ ادریس کے خون سے لکھے گئے یہ سوالات جواب طلب ہیں کہ کیا یہ ریاست واقعی اپنے شہریوں کی محافظ ہے یا پھر یہ محض ایک تزویراتی بساط ہے، جہاں انسانی جانیں صرف مہرے کی حیثیت رکھتی ہیں؟
اگر فوج خود پر لگنے والے سہولت کاری کے ان داغوں کو دھونا چاہتی ہے تو اُسے وادی تیراہ سے لے کر واشنگٹن تک کی پالیسیوں میں شفافیت لانا ہوگی۔ بصورتِ دیگر یہ خونِ ناحق کل کو اس پورے نظام کی جڑوں کو اُکھاڑ پھینکے گا، جسے بچانے کے نام پر فوج یہ سارا کھیل کھیل رہی ہے۔


















































