جب خود رسول اللہ ﷺ کی سنت سے یہ بات ثابت ہے کہ کسی غیر مسلم کے احسان کا اعتراف کیا جا سکتا ہے اور اس کے مثبت کردار کی تحسین کی جا سکتی ہے، تو پھر کسی مسلمان کا کسی غیر مسلم کی کسی مدد، کسی اچھے رویے یا کسی قابلِ تعریف موقف پر اس کی تعریف کرنا یا اس کا شکریہ ادا کرنا آخر کس دلیل کی بنا پر کفر قرار دیا جا سکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ ایسا دعویٰ کرنے والے لوگ صرف خوارج کی طرح گناہوں کی بنیاد پر مسلمانوں کی تکفیر ہی نہیں کرتے، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ایسے امور کو بھی موجبِ کفر قرار دیتے ہیں جن کی مشروعیت خود رسول اللہ ﷺ کی سنتِ مبارکہ سے ثابت ہے۔ یہی طرزِ فکر افراط، علمی بے اعتدالی اور نصوصِ شرعیہ سے انحراف کی واضح علامت ہے۔
بلکہ اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کی کسی اچھی عادت، عمدہ اخلاق یا پسندیدہ خصلت کی تعریف کرے، خواہ اس غیر مسلم نے اس پر کوئی احسان نہ بھی کیا ہو، تو بھی اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کی نیک نامی، حسنِ اخلاق یا شرافت کے پیشِ نظر اس کے اہلِ خانہ کے ساتھ حسنِ سلوک کرے تو یہ بھی جائز ہے۔ اس کی واضح مثال رسول اللہ ﷺ کا حضرت سفانہ بنت حاتم طائی کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔
لہٰذا کسی غیر مسلم کی کسی اچھی صفت کا اعتراف کرنا، اس کے کسی احسان پر شکریہ ادا کرنا، یا اس کے کسی مثبت کردار کی تحسین کرنا، تکفیر کا سبب نہیں بن سکتا۔ ایسے امور کو موجبِ کفر قرار دینا درحقیقت ان انتہاپسند لوگوں کا طرزِ فکر ہے جو نہ دین کی حقیقت سے واقف ہیں اور نہ اس کے اصول و ضوابط سے۔
البتہ اگر کوئی مسلمان خوشامد، دنیاوی مفاد یا کسی ناجائز غرض سے کسی غیر مسلم کی ایسی تعریف کرے جس کا وہ حقیقتاً مستحق نہ ہو، تو یہ یقیناً ایک حرام اور باطل عمل ہے، لیکن محض اسی بنا پر اسے کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ اگر وہ اس کے کفر کی تعریف کرے، اس کے شرک کو درست اور پسندیدہ قرار دے، مسلمانوں کے خلاف اس کی جارحیت کی تحسین کرے، یا قول، عمل یا عملی تعاون کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف اس کی مدد کرے، تو یہ ایسے امور ہیں جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے موجبِ کفر ہو سکتے ہیں۔
اسی لیے طالبِ حق پر لازم ہے کہ وہ ایسے نازک مسائل میں خلطِ مبحث سے بچے اور داعشی خوارج یا دیگر انتہاپسند گروہوں کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں اور شبہات کا شکار نہ ہو۔
جہاں تک غیر مسلم ممالک یا افراد کے ساتھ تعلقات، باہمی اقتصادی تعاون، تجارتی روابط، سیاسی تعلقات، سفارتی ملاقاتوں یا بعض حالات میں اتحاد کا تعلق ہے، تو اگر ان کا مقصد اسلامی ریاست کے مفادات کا تحفظ، مسلمانوں کی مصلحت کی حفاظت، یا ان پر عائد پابندیوں اور محاصرے کا خاتمہ ہو، اور یہ تمام معاملات شریعت کے مقرر کردہ اصولوں اور حدود کے مطابق انجام دیے جائیں، تو یہ اسلامی سیاستِ شرعیہ کا جائز حصہ ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اس باب میں بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے غیر مسلموں کے ساتھ مختلف نوعیت کے معاملات کیے، ان کے وفود کا خیر مقدم فرمایا، خواہ بعد میں وہ اسلام لے آئے ہوں یا نہ لائے ہوں، متعدد قبائل اور گروہوں کے ساتھ معاہدے کیے، بعض کے ساتھ وقتی اتحاد قائم فرمایا، ان سے خرید و فروخت کی، اور آپ ﷺ کا وصال اس حال میں ہوا کہ آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی۔
یہ تمام حقائق اس بنیاد کو منہدم کر دیتے ہیں جس پر انتہاپسند گروہوں کے شبہات قائم ہیں، اور ان کے بے بنیاد دعووں کی حقیقت واضح کر دیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسلمان رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کا گہرائی سے مطالعہ کریں اور ان مستند علمی کتابوں سے رجوع کریں جن میں غیر مسلم ریاستوں اور افراد کے ساتھ تعلقات اور معاملات کے شرعی احکام تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ اسی راستے سے ان لوگوں کے دلوں سے شبہات کی تاریکی دور ہو سکتی ہے جو انتہاپسندانہ پروپیگنڈے سے متاثر ہو چکے ہوں۔
یاد رکھیں!
سب سے بڑی حماقت یہ ہے کہ گھپ اندھیرے میں جلنے والے ایک چراغ کو بجھانے کی کوشش کی جائے، جبکہ یہ اچھی طرح معلوم ہو کہ اس کے بجھتے ہی ہر طرف ایسی تاریکی چھا جائے گی جس میں انسان اپنا ہاتھ بھی اپنے سامنے نہ دیکھ سکے۔
پھر ذرا غور کیجیے! اگر وہ محض ایک معمولی چراغ نہ ہو بلکہ ایک عظیم نور ہو، جس میں کہیں کہیں کمزوری یا خامی کے چند آثار باقی ہوں، مگر افق پر صبحِ صادق کی روشنی نمودار ہونے والی ہو، اور خود اس نور کے حامل بھی پوری دیانت اور اخلاص کے ساتھ ان باقی ماندہ کمزوریوں کو دور کرنے میں سرگرم ہوں، تو ایسی روشنی کو بجھانے کی کوشش دانش مندی نہیں، بلکہ ایک ایسی سنگین غلطی ہے جس کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ روشنی سے عداوت صرف وہی لوگ رکھتے ہیں جو تاریکی کے خوگر ہوتے ہیں، خیر کے ہر مظہر سے نفرت کرتے ہیں، اصلاح کے ہر عمل کی مخالفت کرتے ہیں، اور انتہاپسندی میں اس حد تک آگے بڑھ جاتے ہیں کہ روشنی کی معمولی خامیوں کو جواز بنا کر پورے چراغ کو بجھا دینا چاہتے ہیں۔ حالانکہ عقل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ روشنی کو باقی رکھا جائے، اس کی کمزوریوں کی اصلاح کی جائے اور اسے مزید روشن بنانے کی کوشش کی جائے، نہ کہ تاریکی کو دوبارہ مسلط کر دیا جائے۔
دوسرا شبہہ: شرکیہ اعمال کی اجازت اور تحفظ کا الزام:
کسی مسلمان فرد یا حکومت کے بارے میں شرعی حکم لگانے سے پہلے ضروری ہے کہ اس سے منسوب باتوں کی تحقیق کی جائے اور اس کے طرزِ عمل کو صحیح تناظر میں سمجھا جائے۔ محض الزامات، نامکمل معلومات یا مختلف نوعیت کے معاملات کو ایک ہی معنی پہنا کر تکفیر کا فیصلہ صادر کرنا نہ علمی دیانت کے مطابق ہے اور نہ شرعی احتیاط کے۔ قبروں کی زیارت اور اہلِ قبور سے مدد مانگنے، تاریخی مقامات کی سیر اور بتوں کی عبادت کرنے، نیز کسی شہری کے حقوق کی حفاظت اور اس کے عقائد کی تائید کرنے کے درمیان فرق ہے۔ ان امتیازات کو نظرانداز کر دیا جائے تو معاملات کی حقیقت سمجھنے کے بجائے مزید غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔
ہمارے ملک میں امارتِ اسلامیہ کے طرزِ عمل پر اعتراض کرتے ہوئے داعشی خوارج ان مختلف امور کو خلط ملط کر دیتے ہیں اور پھر اسی بنیاد پر تکفیر کے نتائج اخذ کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس شبہے کے مختلف پہلوؤں کو الگ الگ سمجھا جائے، تاکہ دعوے اور حقیقت، نیز کسی عمل اور اس سے اخذ کیے جانے والے شرعی حکم کے درمیان فرق واضح ہو سکے۔
امارتِ اسلامیہ کی تکفیر کرنے والے داعشی خوارج یہ الزام لگاتے ہیں کہ:
’’امارتِ اسلامیہ قبروں سے متعلق شرکیہ اعمال، مُردوں سے مدد مانگنے اور بدھا کے مجسموں کی زیارت کی اجازت دیتی ہے۔ اسی طرح وہ اہلِ تشیع کے شرکیہ عقائد اور اعمال کا تحفظ کرتی ہے اور انہیں صحابۂ کرام اور امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم کی شان میں گستاخی سے نہیں روکتی۔‘‘
اس الزام میں کئی الگ الگ معاملات کو جمع کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے ہر معاملے کی حقیقت اور نوعیت سمجھے بغیر کوئی حکم لگانا درست نہیں۔
قبروں کی زیارت اور اہلِ قبور کے لیے دعا:
جہاں تک قبروں سے متعلق شرکیہ اعمال اور مُردوں سے مدد مانگنے کا تعلق ہے، ہمارے ہاں ایسے اعمال کی اجازت دینا امارتِ اسلامیہ کی پالیسی نہیں۔ البتہ ملک میں محمود غزنوی رحمہ اللہ جیسے معروف تاریخی سپہ سالاروں کی قبریں اور مزارات موجود ہیں۔ اسی طرح بعض شہداء اور تحریک کے قائدین کی قبریں بھی ہیں، جہاں امارت کے بعض ذمہ داران جاتے اور مدفون افراد کے لیے دعا کرتے ہیں۔
یہاں اصل فرق سمجھنا ضروری ہے: کسی قبر پر جا کر وہاں مدفون مسلمان کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا ایک چیز ہے، جبکہ صاحبِ قبر سے حاجتیں مانگنا اور اسے مدد کے لیے پکارنا دوسری چیز۔ ان دونوں کو یکساں قرار دینا درست نہیں۔
رسول اللہ ﷺ خود بقیع کی زیارت فرماتے اور وہاں مدفون مسلمانوں کے لیے دعا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَقَدْ أُذِنَ لِمُحَمَّدٍ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ، فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ.»(سنن ترمذي: ۱۰۵۴)
ترجمہ: میں نے پہلے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، مگر اب محمد کو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت دے دی گئی ہے؛ لہٰذا تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کا یہ پیغام بیان فرمایا:
«إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُم»۔ (صحيح مسلم، حدیث: ۹۷۴)
ترجمہ: بے شک آپ کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اہلِ بقیع کے پاس جائیں اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔
لہٰذا محض کسی قبر پر جانے اور وہاں مدفون شخص کے لیے دعا کرنے کو شرک قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر کسی مخصوص مقام پر کسی خلافِ شرع عمل کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو اس کے ثبوت اور نوعیت پر بات ہونی چاہیے؛ محض زیارت کو اس کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔




















































