ظہور کے سماجی اور سیاسی اسباب
داعش کا ایک جدید تباہ کن مظہر کے طور پر ابھرنا اُن سیاسی اور سماجی حالات کو سمجھے بغیر بیان نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے اس گروہ کی نشوونما اور توسیع کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔ یہ تنظیم بحرانوں اور بدامنی کے اُس ماحول میں وجود میں آئی جس سے اکیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں مشرقِ وسطیٰ دوچار تھا۔ اس مظہر کے درست تجزیے کے لیے ضروری ہے کہ اُن عوامل کے پیچیدہ اور باہم مربوط سلسلے کا جائزہ لیا جائے جنہوں نے زنجیر کی کڑیوں کی طرح ایسی ایک جماعت کے ابھرنے کے لیے حالات ہموار کیے۔
اہم عوامل میں سے ایک 2003ء میں امریکی افواج کا عراق پر قبضہ تھا، جس نے اس ملک کے سیاسی ڈھانچے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔ قابض فورسز کی وہ پالیسیاں، جو فوج کی تحلیل اور بعث پارٹی کے ارکان کو سیاسی میدان سے بے دخل کرنے پر مبنی تھیں، اس بات کا سبب بنیں کہ ہزاروں فوجی افسران اور سرکاری ملازمین، جن میں اکثریت سنی برادری سے تعلق رکھتی تھی، سیاسی اور سماجی منظرنامے سے الگ کر دیے گئے۔
اس اقدام نے نہ صرف عراقی معاشرے میں وسیع پیمانے پر بے چینی اور ناراضگی کو جنم دیا بلکہ بڑی تعداد میں تربیت یافتہ فوجی افراد کو بھی مسلح مخالف گروہوں کی صفوں میں شامل ہونے پر آمادہ کر دیا۔ عدم اعتماد کی فضا اور امتیازی سلوک کے اُس احساس نے، جو عراقی عوام میں پیدا ہو چکا تھا، جنگجو گروہوں کے لیے بھرتی اور حمایت حاصل کرنے کے مناسب مواقع فراہم کیے۔
اسی دوران 2011ء میں شروع ہونے والا شامی بحران داعش کے ابھرنے اور پھیلنے کے لیے ایک اور تیز رفتار محرک ثابت ہوا۔ شام کے وسیع علاقوں میں ریاستی اداروں کے انہدام نے اقتدار کا ایسا خلا پیدا کر دیا جسے داعش نے بہت تیزی سے پُر کر لیا۔ فرقہ وارانہ کشیدگی اور اسد حکومت کی جانب سے مظاہرین کو سختی سے کچلنے نے نفرت اور انتقام کی ایسی فضا پیدا کر دی تھی جس سے داعش آسانی کے ساتھ فائدہ اٹھا رہی تھی۔ شام کے مشرقی علاقے، خصوصاً صوبہ رقہ، داعش کے لیے محفوظ پناہ گاہوں میں تبدیل ہو گئے اور اس تنظیم کو اپنی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کا موقع ملا۔
تیسرا عامل مشرقِ وسطیٰ کی قومی حکومتوں کی ناکامیوں میں پوشیدہ تھا۔ وسیع پیمانے پر بدعنوانی، عوامی خدمات کی فراہمی میں ناکامی اور مخالفین پر جبر و تشدد، عوام کے مرکزی حکومتوں پر اعتماد کو شدید حد تک کمزور کر چکا تھا۔ ایسے حالات میں داعش نے بنیادی سروسز کی فراہمی اور شریعت کی بنیاد پر حکومت قائم کرنے کے دعوے کے ذریعے مقامی آبادی کے ایک حصے کی حمایت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس گروہ نے اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں انتظامی اور خدماتی ڈھانچے قائم کیے اور خود کو بدعنوان حکومتوں کے متبادل کے طور پر پیش کیا۔
عرب نوجوانوں کے درمیان شناخت کے بحران اور بیگانگی کے احساس نے بھی داعش کی نشوونما میں اہم سماجی کردار ادا کیا۔ گلوبلائزیشن اور جدیدیت کے ساتھ روایتی اقدار کے تصادم نے نوجوان نسل میں فکری انتشار اور زندگی کے معنی و مقصد کے بحران کو جنم دیا تھا۔ داعش دین کی ایک سادہ اور قطعی تعبیر پیش کرتی تھی اور مقصد و معنویت سے بھرپور زندگی کا وعدہ کرتی تھی، یہی چیز بہت سے نوجوانوں کے لیے اس کی کشش کا باعث بنی۔ اس گروہ نے مذہبی جذبات کو ابھارنے اور واضح بیرونی دشمنوں کا تصور پیش کرنے کے ذریعے اپنے پیروکاروں کو ایک جھوٹی مگر طاقتور شناخت فراہم کی۔
اس کے علاوہ علاقائی اور عالمی طاقتوں کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے۔ خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے بعض ممالک کی باہمی رقابتوں نے فرقہ وارانہ تشدد کو مزید ہوا دی۔ ان ممالک میں سے بعض نے مختلف مسلح گروہوں کے ساتھ مالی اور عسکری تعاون کے ذریعے غیر ارادی طور پر انتہاپسند تحریکوں کی تقویت کے لیے بھی زمین ہموار کی۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں مغربی ممالک کی وہ پالیسیاں، جو زیادہ تر معاشی اور سکیورٹی مفادات کے گرد گھومتی تھیں، بھی خطے کے عدم استحکام میں حصہ دار رہیں۔
آخر میں جدید مواصلاتی اور معلوماتی ٹیکنالوجی کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ داعش نے سوشل میڈیا اور جدید پراپیگنڈہ ذرائع کا نہایت ہوشیاری سے استعمال کرتے ہوئے اپنا پیغام دنیا کے ہر گوشے تک پہنچایا۔ اس تنظیم نے ان ذرائع کو صرف افراد کی بھرتی اور حمایت حاصل کرنے کے لیے ہی نہیں، بلکہ اپنے مخالفین کے دلوں میں خوف اور دہشت پھیلانے کے لیے بھی استعمال کیا۔



















































