چند روز قبل پاکستان میں معروف عالمِ دین، شیخ ادریس، شہید کر دیے گئے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ علماء کو وحشیانہ اور پراسرار انداز میں شہید کیا گیا ہو۔ اس سے قبل شہید شیخ رحیم اللہ حقانی، شہید شیخ نصیب خان تقبلہ اللہ اور سمیع الحق تقبلہ اللہ جیسے بڑے اور معروف مشائخ بھی اسی طرح نشانہ بنائے گئے، جن سے ہزاروں علماء نے علم حاصل کیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کو کھڑا کرنے، رہنمائی اور فکری بیداری کے یہ ستون اور چراغ آخر کس کے نشانے پر ہیں؟
شیخ ادریس رحمہ اللہ کے قتل کی ذمہ داری داعش اور خوارج کی جانب سے قبول کی گئی، اور انہوں نے کھلے الفاظ میں اعلان کیا کہ یہ کارروائی انہوں نے کی ہے۔ تاہم ان کے اس واضح اعلان میں کئی ایسے پہلو موجود تھے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ واقعہ دراصل داعش کی جانب سے نہیں بلکہ انٹیلی جنس اداروں کی منصوبہ بند سازش تھی۔
ایسے حالات میں پاکستانی فوجی رجیم کو اپنے پرانے طرزِ عمل اور خباثت دہرانے کا ایک اور موقع ہاتھ آ گیا، تاکہ ایسی عظیم شخصیت کو راستے سے ہٹا کر اس کا الزام داعش کے نام تھوپ کر عوام اور دنیا کے سامنے پیش کیا جائے، اور یوں اپنے خبثِ باطن، اسلام دشمنی، علماء کے خلاف کارروائیوں اور مسلمانوں پر ظلم و جبر کے سلسلے کو جاری رکھا جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی فوجی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ عالمی خفیہ اداروں کی جانب سے دیے گئے لیبل، یعنی “دہشت گرد” اور “داعش”، کو استعمال کرتے ہیں؛ کیونکہ یہ ایسا پردہ بن چکا ہے جس کے ذریعے ہر خفیہ کارروائی اور سازش کو تحقیق اور احتساب سے بچایا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ عوامی اور عالمی ردِعمل اور بدگمانیوں سے خود کو محفوظ رکھتی ہے۔
پاکستانی حمایت یافتہ گروہوں نے دعویٰ کیا کہ شیخ ادریس رحمہ اللہ کو ڈیورنڈ لائن کے قریب، افغانستان سے متصل علاقے میں قتل کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ وہ بار بار ایسے دعوے اور الزامات کیوں دہراتے ہیں؟ پاکستان کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور فوجی مقاصد سے دنیا اچھی طرح واقف ہے: مسلمانوں کو کمزور کرنا، اور مسلمانوں کے درمیان صلیبی اور یہودی طاقتوں کی کھینچی ہوئی نام نہاد فرضی سرحدوں کو مضبوط اور مستقل بنائے رکھنا۔
ان کا آج یہ دعویٰ کہ یہ واقعہ فرضی لائن کے قریب پیش آیا، دراصل قبائلی علاقوں اور ڈیورنڈ لائن کے قریب افغانوں کے خلاف اپنے ظلم و جبر کو جائز ثابت کرنے کی کوشش ہے، تاکہ اسرائیل کی طرز پر اپنے تشدد اور بمباریوں کے لیے دنیا کے سامنے جواز پیدا کیا جا سکے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ شیخ صاحب رحمہ اللہ اس علاقے میں نہیں بلکہ اس سے سو کلومیٹر دور، پاکستان کے فوجی، انٹیلی جنس اور سرکاری مراکز کے درمیان قتل کیے گئے۔
خلاصہ یہ ہے کہ پاکستانی فوجی رجیم اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہر قسم کی قربانی کو جائز سمجھتی ہے، خواہ وہ عام عوام ہوں، قومی مفادات، علماء، یا دیگر سیاسی و خارجی اقدار۔ موجودہ حالات اور فوجی رجیم کے مستقل طرزِ عمل کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ کارروائی داعش اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی باہمی ہم آہنگی سے انجام دی گئی۔ اگر اسے داعش کی کارروائی مان بھی لیا جائے، تب بھی اتنے محدود وقت میں اس قدر منظم انداز سے ہدف تک رسائی اور کارروائی ممکن نہیں، جب تک اندرونی تعاون اور پشت پناہی حاصل نہ ہو۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ فوجی تعاون اور رہنمائی کے بغیر ایسا عمل ممکن نہیں تھا۔
اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ بعض اوقات تخریب کار انٹیلی جنس ادارے اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کسی ملک کے اندر اپنے مفادات اور مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ آج داعش بھی اسی نوعیت کا ایک منصوبہ ہے، جسے پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ اپنے اہداف اور سازشوں کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ایشیاء میں اپنے مفادات کی راہ میں رکاوٹ بننے والے ممالک اور شخصیات کو اسی کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے، تاکہ اپنے مقاصد بھی حاصل کیے جائیں اور ذمہ داری بھی قبول نہ کرنی پڑے۔
افغانستان اور پاکستان میں پیش آنے والے متعدد واقعات میں بعض عناصر گرفتار بھی ہوئے، اور شواہد و اعترافات کی بنیاد پر یہ بات سامنے آئی کہ داعش کو پاکستانی فوجی رجیم کی مالی معاونت اور مکمل پشت پناہی حاصل ہے، اور اسے وقتاً فوقتاً اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ داعش اور فوجی رجیم ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، کیونکہ ایک ہی فوجی رجیم، ایک ہی مقصد اور ایک ہی راستہ ہے جس کے ذریعے دو مختلف ناموں کے تحت فوجی رجیم اپنی خیانت کو آگے بڑھا رہی ہے۔ حقیقت میں پسِ پردہ وہی فوجی اور انٹیلی جنس ادارے کار فرما ہیں۔



















































