چوں کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے، اس لیے یہاں کچھ ضروری اور ناگزیر تفصیل سمجھنا مناسب ہے…
حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی جانب سے اموی و عباسی ادوار کے جابر حکمرانوں کے خلاف سیدنا زید بن علی رحمہ اللہ (122ھ) اور سیدنا محمد نفس زکیہ رحمہ اللہ (145ھ) کی خروج/تحریک کی حمایت اور مالی و اخلاقی مدد کے فیصلے کا ذکر معتبر تاریخی، فقہی اور سیرت کی کتب میں تفصیلاً موجود ہے۔
اس تاریخی و فکری موقف کے مضبوط اور مستند حوالہ جات درج ذیل ہیں:
۱۔ امام ابوبکر الجصاص رحمہ اللہ کی روایت سب سے مستند فقہی و تاریخی حوالہ ہے:
احناف کے عظیم الشان امام اور فقیہ علامہ ابو بکر الجصاص الحنفی (متوفی 370ھ) نے اپنی مشہورِ زمانہ تفسیر ‘احکام القرآن’ میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اِس موقف، ان کے فتاویٰ اور مالی امداد کا تفصیلی ذکر فرمایا ہے۔
دار إحياء التراث العربي بیروت سے شائع شدہ تفسیر ‘أحكام القرآن للجصاص’ کی جلد 1 کے صفحہ 85 تا 87 میں سورة البقرة کی آیت «لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ» کی تفسیر کے ضمن میں ‘باب أمر المعلمين بالتسوية بين الصبيان / باب أمر بالمعروف و النهي عن المنكر’ کے تحت درج عبارت کا خلاصہ ہے کہ:
امام جصاص رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ:
‘امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا معروف مذہب یہ تھا کہ جابر اور ظالم حکمران کی اطاعت لازمی نہیں اور اگر طاقت موجود ہو تو اُس کے خلاف امر بالمعروف و نہی عن المنكر کے تحت جدوجہد جائز ہے۔ انہوں نے سیدنا زید بن علی کو مالی امداد بھیجی اور جب نفس زکیہ (محمد بن عبد اللہ) کا خروج ہوا تو اُن کی مکمل اخلاقی و مالی حمایت کی اور لوگوں کو ان کا ساتھ دینے کی ترغیب دی۔
۲۔ امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ کا حوالہ:
محدث اور فقیہ علامہ ابن عبد البر القرطبی (متوفی 463ھ) نے اپنی معروف کتاب میں روایت نقل کی ہے۔
دار الكتب العلمية بیروت سے شائع شدہ کتاب ‘الانتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء’ (یعنی مالك والشافعي وأبي حنيفة) کے صفحہ 172 تا 175 میں درج مضمون میں امام ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ:
‘امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ – سیدنا زید بن علی اور نفس زکیہ کے قیام کو برحق مانتے تھے اور انہوں نے سیدنا زید بن علی کے بارے میں فرمایا تھا کہ:
‘ان کا خروج (ظلم کے خلاف) رسول اللہ ﷺ کے غزوہ بدر میں خروج سے مشابہت رکھتا ہے۔’
اور امام اعظم رحمہ اللہ نے اُن دونوں حضرات کی تحریک کے لیے مال بھی بھیجا تھا۔
۳۔ امام طبری اور ابن اثیر کی تاریخی روایات:
تاریخِ اسلام کے مستند ترین مورخین نے بھی امام صاحب کے اس موقف کو ریکارڈ کیا ہے۔
امام ابن جریر الطبری (متوفی 310ھ) کی کتاب ‘تاريخ الرسل والملوك’ (تاريخ الطبري) کی جلد 7 میں واقعاتِ سن 145ھ کے مقام ‘خروج محمد بن عبد اللہ نفس زکیہ’ کے ضمن میں اور…
علامہ ابن الأثير (متوفی 630ھ) کی کتاب ‘الكامل في التاريخ’ کی جلد 5 کے صفحہ 548 تا 552 میں بھی یہ درج ہے۔
۴۔ معاصر و جدید سیرت نگاروں کے حوالہ جات:
جدید دور کے ممتاز علماء اور سیرت نگاروں نے بھی اس کی مکمل توثیق کی ہے۔
علامہ موفق بن احمد المکی (متوفی 568ھ) کی کتاب ‘مناقب الإمام أبي حنيفة’ کی جلد 2 کے صفحہ 83-84 اور…
جامعه قاہرہ کے مشہور استاد علامہ محمد ابو زہرہ نے اپنی کتاب ‘ابو حنیفہ: حیاتہ و عصرہ – آراؤہ و فقہہ’ میں امام صاحب کے سیاسی نظریے اور زید بن علی و نفس زکیہ کی نصرت پر پورا فصل قلم بند کیا ہے۔
چوں کہ یہ سب تاریخ کے حوالے ہیں، جن پر عموماً عام افراد کی نظر نہیں جاتی، اس لیے یہاں سیدنا زید بن علی رحمہ اللہ، سیدنا محمد نفسِ زکیہ رحمہ اللہ، ان کے مبارک نسب اور ان کے دور کے اموی و عباسی حکمرانوں کے حالات کی تاریخی و تحلیلی تفصیل بھی درج کرنا ضروری ہے، تاکہ دوستوں کو یہ فہم حاصل ہو سکے یہ خروج یا مزاحمت کی اجازت کے مذکورہ حوالہ جات کن حالات اور کس ماحول میں سامنے آئے تھے اور ان کی آج کے دور میں تطبیق (Contemporary Relevance) کس طرح ممکن ہے۔
۱۔ شخصیات کا تعارف اور شجرہ نسب…
سیدنا زید بن علی رحمہ اللہ:
سیدنا زید بن علی بن الحسین بن علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہم)۔ یعنی وہ حضرت حسین شہید رضی اللہ عنہ کے پوتے اور حضرت زین العابدین رحمہ اللہ کے فرزندِ ارجمند ہیں۔
سیدنا زید بن علی رحمہ اللہ اپنے دور کے عظیم فقیہ، محدث اور مفسر تھے۔ فقہِ زیدی کی نسبت اِنہی کی طرف ہے اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے ان کے علمی مقام کو بے حد سراہا۔
سیدنا محمد نفسِ زکیہ رحمہ اللہ:
محمد (نفسِ زکیہ) بن عبد اللہ بن الحسن المثنى بن الحسن بن علی بن ابی طالب (رضی اللہ عنہم)۔ یعنی وہ سیدنا حضرت حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے پڑپوتے تھے۔
ان کے زُہد، عبادات اور پاکیزہ کردار کی وجہ سے انہیں ‘النفس الزکیہ’ (پاکیزہ روح) کا لقب دیا گیا تھا۔
۲۔ حاکمانِ وقت، ان کا ظلم اور خروج کے اسباب:
مذکورہ دونوں ہاشمی شخصیات نے جن حالات میں مزاحمت یا قیام کیا، ان کا پسِ منظر الگ الگ دور سے تعلق رکھتا تھا۔
سیدنا زید بن علی کا دور اور اموی حکمران (122ھ / 740ء):
اس زمانے میں اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک نے بیت المال کو ذاتی جاگیر بنا لیا تھا۔ بنو ہاشم اور اہل بیت پر شدید معاشی و سیاسی پابندیاں عائد تھیں اور کوفہ و عراق کے گورنر (یوسف بن عمر الثقفی) کا رویّہ بے حد جابرانہ تھا۔
جب سیدنا زید بن علی نے اپنے حقوق اور عوام پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی تو اِن محترم شخصیت کی تحقیر کی گئی۔
انہی مظالم کے خاتمے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے) کے لیے انہوں نے 122ھ میں کوفہ میں اموی سلطنت کے خلاف خروج کیا۔
سیدنا نفسِ زکیہؒ کا دور اور عباسی حکمران (145ھ / 762ء):
اس زمانے میں عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور نے اقتدار اہل بیت کے نام پر حاصل کیا تھا، لیکن اقتدار میں آتے ہی المنصور نے اہل بیت اور علوی سادات پر بے پناہ مظالم ڈھائے۔ سیدنا نفسِ زکیہ کے والد ‘عبد اللہ المحض’ اور خاندان کے متعدد افراد کو قید خانے میں ڈالا گیا، جہاں وہ سخت مصائب جھیل کر شہید ہوئے۔ ملک میں جاسوسی کا نظام قائم تھا اور ذرا سی مخالفت پر گردنیں اڑا دی جاتی تھیں۔
المنصور کے اس بے پناہ استبداد، بدعہدی اور سادات پر مظالم کے خلاف سیدنا نفسِ زکیہ نے 145ھ میں مدینہ منورہ میں خروج، مزاحمت یا قیام فرمایا۔
۳۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا زمانہ اور ان کی حمایت:
دوسری طرف امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا دورِ حیات (80ھ تا 150ھ) ان دونوں واقعات کا احاطہ کرتا ہے۔ یعنی امام صاحب نے اموی اور عباسی دونوں دور دیکھے اور ان دونوں تاریخی تحریکوں کے خود شاہد و گواہ رہے۔
امام صاحب کا کردار…
سیدنا زید بن علی کی حمایت (122ھ) جب سیدنا زید بن علی نے قیام کیا تو امام ابو حنیفہ نے ان کے موقف کو حق پر مبنی قرار دیا اور ان کی تحریک کی مالی مدد فرمائی۔
سیدنا نفسِ زکیہ کی حمایت (145ھ): جب نفسِ زکیہ نے مدینہ میں اور ان کے بھائی ابراہیم بن عبد اللہ نے بصرہ میں خروج کیا تو امام صاحب نے کھل کر ان کی حمایت کی۔ انہوں نے عوام کو عباسی خلیفہ المنصور کے ظلم کے خلاف ان کا ساتھ دینے کا فتویٰ دیا، جس کی پاداش میں خلیفہ المنصور نے امام صاحب کو کوڑے لگوائے اور بالآخر قید خانے میں مسموم کر کے شہید کروا دیا۔
چناں چہ تاریخ کا یہ باب ثابت کرتا ہے کہ سیدنا زید بن علی اور سیدنا نفسِ زکیہ محض اقتدار کی ہوس کے لیے نہیں، بلکہ ‘نبی کریم ﷺ کی آل ہونے کی حیثیت سے اقامتِ عدل، حریت اور مظلومین کی دادرسی’ کے لیے جابر اموی و عباسی حکمرانوں کے سامنے ڈٹ گئے تھے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ان کا ساتھ دینا اِس بات کا شرعی ثبوت ہے کہ ظالم نظام اور جابر حکمران کے خلاف اپنے حقوق اور سچائی کے لیے کھڑا ہونا سنتِ اسلاف اور اسلامی شریعت کی روح ہے۔




















































