دوسری جنگِ عظیم میں پاکستانی فوج کا کردار
دوسری جنگِ عظیم دراصل پہلی جنگِ عظیم ہی کا تسلسل تھی، البتہ اس بار خلافتِ عثمانیہ دنیا کے نقشے پر موجود نہیں تھی۔ جنگ میں اتحادی افواج کا بنیادی مقصد جرمنی کی فتوحات کو روکنا تھا، جو ایڈولف ہٹلر کی قیادت تلے منظم ہو کر یورپ سے پہلی جنگِ عظیم کی شکست کا بدلہ لے رہا تھا۔ ہٹلر کی افواج نے دیکھتے ہی دیکھتے پولینڈ، چیکوسلواکیہ، ہالینڈ، ڈنمارک، آسٹریا اور ہنگری پر زیادہ مزاحمت جھیلے بغیر ہی قبضہ کرلیا۔
اس نازک صورتِ حال میں، جب پورا یورپ ہی جرمنی کے قبضے میں چلے جانے کا اندیشہ تھا، برطانیہ نے ایک بار پھر شاہی ہندی فوج کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا۔ ہندوستانی فوجیوں نے بھی ”فرض” کی اس پکار پر لبیک کہا اور ۱۹۴۵ء تک صرف مغربی ہندوستان سے اس جنگ میں شرکت کے لئے آٹھ(۸) لاکھ نئے فوجی بھرتی ہوئے۔ نیزپورے ہندوستان سے اس جنگ میں شریک ہونے والے فوجی اور غیر فوجی افراد کی ایک تہائی تعداد”پنجاب کی فوجی کمان”نے فراہم کی۔
جنگِ عظیم اوّل و دوم میں شاہی ہندی فوج کی اسی غیر معمولی کارکردگی نے خود برطانوی فوجی قیادت کو بھی حیران کر دیا اور یہ بات ان کے یہاں ایک مسلّم حیثیت اختیار کر گئی کہ اس سے زیادہ قابلِ اعتماد فوج ملنا نا ممکن ہے۔ تبھی تو پاکستانی فوج کی تاریخ پر لکھنے والے معروف مصنف و تاریخ دان سٹیفن پی کوہن نے لکھا ہے کہ:
"جنوبی ایشیا کے سلامتی معاملات سے منسلک تقریبا تمام برطانوی فوجی جرنیل تقسیم ِہند کے تصور سے نا خوش تھے ………ان کا خیال تھا کہ قدیم ہندوستانی فوج، جو تقریبا دو سو سال سے موجود تھی، دو عظیم جنگوں اور بہت سی چھوٹی لڑائیوں میں اپنی افادیت ثابت کر چکی ہے (اس لئے اس سے دستبردار ہونا سراسر نقصان کا سودا ہے)”۔ (سیداحمد شہید اور ان کی تحریک مجاہدین، ص: ۳۶۲)
ہندوستانی فوجی کس چیز کی خاطر لڑرہے تھے؟
ظاہر ہے کہ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم، دونوں میں ہندوستانی فوجی نہ تو کسی دینی غیرت یا قومی حمیت کے سبب شریک ہوئے تھے، نہ ہی وہ جذبہ جہاد یا شوقِ شہادت سے بے قرار ہو کر میدان میں اترے تھے۔ ان کے سامنے بنیادی محرک بعینہ وہی تھا جس نے انہیں ۱۸۵۷ء میں مسلمانوں کے خلاف لڑنے پر اُبھاراتھا؛ اور جس کا تذکرہ ایک انگریز مصنف نے ان الفاظ میں کیا تھا کہ:
"صرف چندماہانہ روپوں کی خاطر یہ کرائے کے ٹٹو ہمارے ساتھ چمٹے رہے”!
۱۸۵۷ء کے جہاد کو کچل دینے کے بعد انگریز نے جہاد سے لاتعلق اور انگریزی سرکار سے وفادار رہنے والے افراد میں بڑی بڑی زمینیں تقسیم کی تھیں۔ اس کے بعد سے انگریز کا مستقل دستور چلا آرہا تھا کہ وہ ہر سال چند منتخب فوجی افسران کو ان کی”نمایاں کارکردگی” کی بنا پر پانچ، پانچ سو ایکڑ زمین عطا کرتا تھا۔ بھر کچھ عرصے بعد انگریزی حکومت نے چناب، جہلم، لوئر باری دوآب اور نیلم بار کے زرخیز علاقوں میں چار وسیع نہری کالونیاں بنائیں جن کی زمینیں سالہا سال برطانوی سرکار سے وفادار فوجی و غیر فوجی طبقات میں تقسیم کی جاتی رہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس منصوبے کے تحت کل پانچ لاکھ ایکڑ زمین تقسیم کی گئی۔ یہ زمینیں بالعموم ۹۹ سال کے لئے اجارے (lease) پر دی جاتی تھیں۔ زمین لینے والے فوجی کو حکومت سے یہ معاہدہ کرنا پڑتا تھا کہ:
"مجھ پر لازم ہے کہ میں ابھی اور اس کے بعد بھی ہمیشہ وفادار رویے کا مظاہرہ کروں اور ہر مصیبت اور بد نظمی کے موقع پر حکومت اور اس کے افسروں کی عملی مدد کروں ……… اگر مقامی حکومت کو کسی بھی وقت یہ محسوس ہوا کہ میں اس شرط کی پاسداری نہیں کر رہا تو وہ یہ معاہدہ ختم کر کے زمین واپس لینے کی مجاز ہے”۔
وفاداری کے عوض مراعات دینے کے اس نظام کو مزید مستحکم کرتے ہوئے، پہلی جنگِ عظیم کے دوران پنجاب کی سول انتظامیہ نے یہ پالیسی اختیار کی کہ یہ مراعات ان افسران میں تقسیم کی جائیں جنہوں نے جنگ میں نمایاں کارکردگی دکھائی تھی۔
اس کے علاوہ جنگ میں شریک ہر فوجی کے ماں باپ کو نقدی وغیرہ کی صورت میں انعامات دیئے جاتے، فوجیوں کی بیواؤں کو عام حالات سے کہیں زیادہ پنشن ملتی اور فوج میں بھرتی ہونے والے ہر فرد کو بھرتی ہوتے ہی پچاس(۵۰) روپے بونس دیا جاتا تھا۔ نیز جو شخص اپنے جتنے زیادہ رشتہ داروں کو فوج میں بھرتی کرواتا، اسے ٹیکسوں میں اتنی ہی زیادہ چھوٹ ملتی۔
اسی طرح جس خان ، ملک یا نواب کی قوم جنگ کے دوران زیادہ وفاداری کا مظاہرہ کرتی، اسے اتنی ہی بڑی جاگیر اور القابات عطا کئے جاتے؛ باوجود اس کے کہ پہلی جنگِ عظیم میں مارے جانے یا معذور ہونے والے ہندوستانی فوجیوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچتی تھی اور ہندوستانی فوجیوں کو جنگ میں نہایت ہی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن دوسری جنگِ عظیم کے موقع پر بھی اس حقیر دنیاوی مال و متاع کی خاطر ہندوستان کے لاکھوں فوجی ایک بار بھر برطانیہ کے دفاع کی جنگ لڑنے میدان میں اتر آئے تھے۔
پس تنخواہ، ترقی، زمین اور پنشن ہی وہ بنیادی محرک تھے جن کی لالچ میں ہندوستانی فوج ڈیڑھ دو سو سال اپنے برطانوی آقاؤں کی خدمت کرتی رہی۔ نیز اس فوج میں سے بھی سب سے نمایا ں کردار ”پنجاب کی کمان” نے ادا کیا جسے اپنی غیر معمولی وفاداری کی بدولت "برطانوی راج کا بازوئے شمشیر زن” یا ” Sword Arm of the British Raj” کا خطاب ملا۔




















































