مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ واقعات نے خطے کے سیاسی توازن کو ایک ایسے نازک مرحلے تک پہنچا دیا ہے جہاں ہر ملک کو اپنی وابستگیوں، اتحادوں اور قومی مفادات کے درمیان نہایت محتاط توازن قائم کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جو بیک وقت کئی متضاد دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ایک طرف اسے سعودی عرب کے ساتھ اپنی اسٹریٹیجک وابستگیوں اور سلامتی سے متعلق وعدوں کا بوجھ اٹھانا ہے، دوسری طرف ایران کے علاقائی اثر و رسوخ اور جغرافیائی حقیقت سے بھی آنکھ نہیں چرا سکتا، جبکہ اسی کے ساتھ امریکہ کے ساتھ اپنی دیرینہ سیاسی اور اقتصادی روابط کو بھی نظر انداز کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ یہی تین رخی دباؤ نے اسلام آباد کو ایک نہایت مشکل انتخاب کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایسے ماحول میں پاکستان کی حکمتِ عملی بظاہر یہی دکھائی دیتی ہے کہ وہ خود کو مشرقِ وسطیٰ کی کسی ممکنہ جنگ سے دور رکھے۔ کیونکہ اگر وہ کھل کر کسی ایک فریق کی حمایت کرتا ہے تو خطے کی دوسری قوت کا ردِعمل ناگزیر ہوگا۔ اسی لیے بعض سیاسی تجزیوں میں یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اسلام آباد دباؤ کو کم کرنے کے لیے بحران کے رخ کو کسی اور سمت منتقل کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کر سکتا ہے، تاکہ علاقائی دباؤ کی شدت کم ہو اور اسے کچھ وقت حاصل ہو جائے۔
اسی تناظر میں افغانستان وہ جغرافیہ ہے جو ہمیشہ سے پاکستان کی اسٹریٹیجک سوچ کا حصہ رہا ہے۔ سرحدی کشیدگی میں اضافہ یا سلامتی کے دباؤ کو بڑھانا اسلام آباد کے لیے ایک انحرافی حکمتِ عملی کی صورت اختیار کر سکتا ہے؛ ایسی حکمتِ عملی جس کے ذریعے عالمی اور علاقائی توجہ کو کسی دوسری سمت موڑا جائے اور پاکستان کو وقتی طور پر سانس لینے کا موقع مل جائے۔ تاہم اس نوع کی پالیسی اگرچہ قلیل مدت میں سیاسی تدبیر دکھائی دیتی ہے، مگر اسٹریٹیجک نقطۂ نظر سے یہ سنگین خطرات سے خالی بھی نہیں۔
افغانستان اب وہ خالی جغرافیہ نہیں رہا جہاں علاقائی طاقتیں اپنی سیاسی مشکلات کو چھپانے کے لیے جنگ کا میدان بنا سکیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربات نے واضح کر دیا ہے کہ جب بھی اس سرزمین کا امن بیرونی رقابتوں کی نذر ہوا، اس کے اثرات صرف افغانستان کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے۔ جنگ کی آگ بہت جلد پورے خطے کے سلامتی کے توازن کو متاثر کرتی رہی ہے۔
دوسری طرف پاکستان خود بھی گہرے داخلی بحرانوں سے دوچار ہے۔ معاشی کمزوری، سیاسی عدم استحکام اور سلامتی کے خطرات میں اضافہ وہ عوامل ہیں جو اس ملک کی اسٹریٹیجک صلاحیت کو محدود کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی نئی محاذ آرائی کو جنم دینا نہ صرف مسائل کا حل نہیں ہو سکتا بلکہ بعید نہیں کہ اسلام آباد کے کندھوں پر مزید بھاری بوجھ ڈال دے۔
وسیع تر جیوپولیٹیکل تناظر میں خطے کا موجودہ بحران اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی اور علاقائی اتحاد تیزی سے تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ ایسے بدلتے ہوئے ماحول میں وہی ممالک کامیاب ہو سکتے ہیں جو اپنی پالیسیوں کو وقتی حکمتِ عملی کے بجائے طویل المدتی اسٹریٹیجک مفادات کی بنیاد پر ترتیب دیں۔ کیونکہ بحران کو دوسری سمت منتقل کرنے کی سیاست عموماً قلیل مدتی فائدے کے لیے اختیار کی جاتی ہے، مگر جلد ہی خود ایک نئے بحران کی بنیاد بن جاتی ہے۔
اگر پاکستان خطے کی سیاسی مساوات میں ایک مستحکم کردار ادا کرنا چاہتا ہے تو سب سے زیادہ معقول راستہ یہی ہے کہ وہ کشیدگی کو بڑھانے کے بجائے بحران کے دانشمندانہ انتظام کی پالیسی اختیار کرے۔ تاریخ کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ وہ آگ جو سیاسی حساب کتاب کے تحت بھڑکائی جاتی ہے، اکثر اوقات انہی لوگوں کے قابو سے باہر ہو جاتی ہے جنہوں نے اسے بھڑکایا ہوتا ہے۔




















































