افغانستان دہائیوں پر مہیت طویل جنگ، قبضے، داخلی کشمکش اور عالمی مداخلتوں کے بعد آہستہ آہستہ ایک ایسے مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں استحکام، امن اور قومی یکسوئی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ اگرچہ یہ استحکام اب بھی معاشی مشکلات، عالمی دباؤ اور سیاسی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، مگر اس کے باوجود یہ افغان عوام کے لیے امید کی ایک اہم کرن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں امن کی ہر نشانی اُن انٹیلی جنس اور سیاسی حلقوں کے لیے تشویش کا باعث بن چکی ہے جو برسوں سے جنگ کے تسلسل سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔
آج سب سے بڑا سوال یہ ہے: ہمارے استحکام کے دشمن کون ہیں؟ وہ لوگ جو افغانستان کی ہر پیش رفت اور سیاسی استحکام کے خلاف شکوک، الزامات اور پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا کرتے ہیں، درحقیقت اسی استحکام کے دشمن ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک مستحکم افغانستان خطے کی بہت سی مصنوعی سکیورٹی ترتیبوں کے خاتمے کا سبب بنے گا، کیونکہ برسوں تک افغانستان کی جنگ بعض ممالک کے لیے اثر و رسوخ کا ذریعہ، بین الاقوامی امداد کا وسیلہ اور خفیہ کھیلوں کا میدان بنی رہی ہے۔
پاکستانی فوجی رجیم اس کھیل کا ایک اہم کردار سمجھی جاتی ہے۔ جب بھی یہ ملک داخلی بحران، معاشی زوال، سیاسی اختلافات اور سکیورٹی ناکامیوں کا شکار ہوتا ہے تو اپنی مشکلات چھپانے کے لیے افغانستان کا نام سامنے لاتا ہے۔ کبھی ٹی ٹی پی کے نام پر الزامات لگائے جاتے ہیں، کبھی سرحدی بدامنی کا ذمہ افغانستان پر ڈالا جاتا ہے، اور کبھی عالمی سطح پر ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ گویا خطے کے تمام سکیورٹی مسائل کی جڑ افغانستان ہے، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
افغان قوم، جس نے چالیس سال تک جنگ کی آگ اپنے گھروں میں دیکھی ہے، سب سے بہتر جانتی ہے کہ عدم استحکام کیا ہوتا ہے۔ وہ قوم جس کی کئی نسلیں ہجرت، بمباری، یتیمی اور معاشی تباہی کا شکار رہی ہوں، کبھی بھی نئی جنگ کی حمایت نہیں کرے گی۔ آج افغان عوام امن، معاشی ترقی اور قومی استحکام کے خواہاں ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ افغانستان ایک بار پھر خطے کی پراکسی جنگوں کا میدان بنے۔
اگر خطے میں مسلح گروہ سرگرم ہیں تو اس مسئلے کا جائزہ انٹیلی جنس پالیسیوں، تاریخی تعلقات اور علاقائی رقابتوں کی روشنی میں لیا جانا چاہیے، نہ کہ ہر الزام افغان عوام یا افغانستان پر ڈال دیا جائے۔ وہی حلقے جو کل "دہشت گردی کے خلاف جنگ” اور "سکیورٹی حکمتِ عملی” کے نام پر مختلف گروہوں کی پشت پناہی کرتے تھے، آج داعش کے نام پر نئی صورتِ حال تشکیل دے رہے ہیں۔
داعش کوئی اتفاقی مظہر نہیں ہے، یہ گروہ اُن علاقوں میں ابھرتا اور مضبوط ہوتا ہے جہاں انٹیلی جنس خلا، سیاسی مقاصد اور اسٹریٹیجک کھیل موجود ہوں۔ خطے کے متعدد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ داعش کو دباؤ، خوف اور عدم استحکام کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ ممالک کو مستقل سکیورٹی بحران میں رکھا جا سکے۔ وہ رپورٹس جن میں تربیتی کیمپوں، محفوظ راستوں اور خفیہ تعاون کا ذکر کیا جاتا ہے، اسی بڑی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
افغان استحکام کے اصل دشمن وہ لوگ ہیں جو نہیں چاہتے کہ افغانستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔ انہیں خدشہ ہے کہ اگر افغانستان مستحکم ہو گیا تو جنگ کی معیشت ختم ہو جائے گی، انٹیلی جنس اثر و رسوخ کمزور پڑ جائے گا اور خطے میں دباؤ کے کئی ہتھکنڈے بے اثر ہو جائیں گے۔ مگر تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ افغان قوم نے ہمیشہ سازشوں کے سائے میں بھی اپنی حیثیت برقرار رکھی ہے۔ یہ قوم چاہے جتنی بھی تھک چکی ہو، کبھی ٹوٹی نہیں۔ اسی لیے افغانستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے والی ہر کوشش وقتی انتشار تو پیدا کر سکتی ہے، مگر ایک قوم کے عزم کو شکست نہیں دے سکتی۔
آج افغان عوام کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ پروپیگنڈے، انٹیلی جنس کھیلوں اور بیرونی بیانیوں کے بجائے اپنے قومی اتحاد، داخلی استحکام اور سیاسی بصیرت پر توجہ دیں، کیونکہ استحکام صرف حکومت کی ضرورت نہیں بلکہ ہر افغان کے مستقبل، عزت اور بقا سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ افغانستان کو اب جنگ کے تجربہ گاہ بننے کے بجائے ایک مستحکم اور پُرامن سرزمین بننے کی ضرورت ہے۔




















































