ماضی کی طرح ایک بار پھر پاکستانی فوجی رجیم کی جانب سے اپنے جھوٹے دعووں، داخلی بدامنی اور بحرانوں کے دفاع کے نام پر افغان سرزمین اور فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور افغانوں کو شہید کیا جا رہا ہے، صرف اس دعوے کی بنیاد پر کہ پاکستان کے اندر بدامنی اور شدید اقتصادی، سکیورٹی اور سیاسی بحران کا سبب یہی مظلوم اور نہتے افغان ہیں۔
اس مقصد سے کہ افغانوں کو نقصان پہنچائے جانے کا سلسلہ ختم ہو جائے، ہم نے فرضی سرحدی خطوط/دروازے اور راستے ان کے ساتھ بند کر دیے، وہاں مقیم افغان مہاجرین کو اپنے ملک واپس آنے کی اجازت دے دی، انہوں ہمسائیگی کی ہر اس جابرانہ شرط کو جو افغانوں کے نقصان میں تھی، ہم پر عائد کیا اور اسے دباؤ اور اپنے بے بنیاد دعووں کے سبب کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ وہ کہتے تھے کہ راستے بند ہیں، افغانستان سے تم پر حملہ نہیں ہوا، تو پھر تم پر حملے کہاں سے ہو رہے ہیں؟
اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ آج کی طرح، کنڑ اور پکتیکا کے علاوہ خوست اور پکتیا میں بھی اسی طرح کی جارحیت اور وحشت کا ارتکاب کیا گیا، جس میں سیکڑوں نہتے اور بے گناہ عام شہری شہید ہوئے، ہم نے پھر بھی مذکورہ رجیم کو اس کے اندھے فیصلے کی طرف متوجہ کیا اور صبر و تحمل کا راستہ اختیار کیا۔ داخلی بدامنی اور مخالفتیں ہر ملک کے اپنے داخلی مسائل ہوتے ہیں، جن کا سبب رجیم کی قیادت میں موجود حلقوں کو بخوبی معلوم ہے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ انہی جابر حکمرانوں اور قابض ریاست کی حدود سے متعلق لوگ ہیں جو ان کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی فوجی رجیم کے خلاف مخالف جہتوں کے فوجی رہنماؤں، صوبائی ذمہ داروں اور ضلعی ذمہ داروں نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان کے اصل باشندے ہیں۔ وہ ان سے چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ ہمارے خلاف مقابلے کے میدان میں شکست کا سبب، اپنے وحشی پن کا اندھا الزام افغانوں پر کیوں عائد کرتے ہو؟
آج اندھی بمباری اور بے بنیاد فیصلوں کے حساب کا دن ہے۔ افغانوں کے خلاف اپنے غصے اور زخمی ہونے کی کیفیت کو زوال سے دوچار کرنے کے لیے یہ غلط فیصلہ ہے، جس کے ابتدائی نقصانات اقتصادی، تجارتی اور مسابقتی لحاظ سے تمہیں پہنچ چکے ہیں، لیکن اس سے بھی سخت جواب، انتقام اور حساب ہوگا، جس کا سیاسی اور فوجی نوعیت کا نقصان پھر پاکستانی فوجی رجیم کے ذمے ہوگا۔
ہم کمزور نہیں ہیں کہ انتقام کے حالات میں اپنی کمزوریوں کی نشان دہی تمہارے سامنے کر رہے ہیں، بلکہ اسے اپنے ہمسائیگی کے حق اور موجودہ پاکستانی عوام کے ساتھ رحم کا معاملہ سمجھو۔ اب مذکورہ رجیم کو تکبر اور جبر کے ساتھ سرحد پار کرنے سے باز آنا چاہیے۔ ہر دعوے اور الزام کی وضاحت بات چیت اور دیگر مفاہمتی ذرائع سے طلب کرنی چاہیے، تاکہ اس کے بے بنیاد اور بے دلیل فیصلے کے منفی اور غلط پہلو کو سمجھنے اور پرکھنے کا موقع مل سکے۔
ورنہ!
آج افغان، جدید دفاع کے ہر ذریعے کے ساتھ، جارحیت اور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ اہلیت رکھتے ہیں کہ اپنے نظام اور عوام کے حقوق کا کس طرح دفاع کریں اور بیک وقت انتقام اور جارحیت کا راستہ اختیار کریں۔ آج ہم تمہیں مذاکرات کا راستہ تجویز کر رہے ہیں، تو یہ ہمارا افغانی اصول اور بنیاد ہے۔ ہم ہمیشہ اپنے دشمن اور حریف کو پہلے بات چیت کا موقع دیتے ہیں، جب اس کا غلط استعمال کیا جائے تو ہم دوسرے مرحلے، یعنی جارحیت اور جنگ، کی طرف رخ کرتے ہیں، پھر کسی کی بات اور زبان کو ہتھیار اور جنگ کے میدان میں نہیں مانتے۔
پھر بھی موجودہ تقاضے کے مطابق کہا جا سکتا ہے کہ بات چیت اور مذاکرات کا موقع اب گزر چکا ہے۔ دفاع کے بجائے اب ہم جارحیت اور انتقام کا ایسا راستہ اختیار کریں گے جس کے آئندہ نقصانات دشمن کو اس کی سرکشیوں اور غلط استعمال کے نقصانات سے آگاہ کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان مظلوموں کو، جو جابر رجیم کے وحشیانہ حملوں میں مالی، جانی اور ہر طرح کی قربانیوں سے دوچار ہوئے ہیں، اس کا عوض، شہادت کا اجر اور صبر عطا فرمائے۔




















































