باوثوق ذرائع نے المرصاد کو خیبر پختونخوا کی حکومت تبدیل کرنے کے لیے پاکستانی فوجی رجیم کے منصوبے کے حوالے سے معلومات فراہم کی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت، جس کی باگ ڈور مکمل طور پر فوج کے ہاتھ میں ہے، خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت سے اختیارات سلب کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے بتدریج منصوبوں پر عملی طور پر کام شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پاکستانی رجیم پہلے مرحلے میں خیبر پختونخوا میں پیچیدہ نوعیت کے حملے کروا کر سکیورٹی کی صورتِ حال کو حد سے زیادہ کشیدہ کرنا چاہتی ہے، پھر صوبائی حکومت کی کمزوری کو جواز بنا کر ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کرنا چاہتی ہے، اور آخرکار صوبائی حکومت سے آپریشنل اختیارات سلب کرکے فوج کو منتقل کرنا چاہتی ہے۔ پاکستانی فوجی رجیم کا حتمی مقصد یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کا نگران ایک حاضر سروس یا ریٹائرڈ فوجی جرنیل مقرر کیا جائے۔
المرصاد کے ان ذرائع نے پاکستان کے اندر بااثر افراد کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ کی پیر کے روز مشترکہ پریس کانفرنس بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد بتدریج خیبر پختونخوا کی حکومت کے خلاف لوگوں کے اذہان کو منفی سمت میں موڑنا ہے۔ مذکورہ پریس کانفرنس میں دونوں وزرا کی تقاریر کو سوشل میڈیا پر پاکستانی فوج، وزارتِ اطلاعات اور آئی ایس آئی کے میڈیا ونگ سے منسلک اکاؤنٹس کی جانب سے بڑے پیمانے پر نشر کیا گیا۔
ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی فوج اور وفاقی حکومت نے مشترکہ طور پر خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے خلاف ذہن سازی کے لیے ان لوگوں کو بھی سہولیات فراہم کی ہیں جو معروف سیاسی جماعتوں میں شامل ہیں اور بظاہر خیبر پختونخوا سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا صوبے میں پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جماعت، تحریکِ انصاف، برسرِ اقتدار ہے اور اپنی آزادانہ پالیسیوں اور مؤقف کے باعث فوجی رجیم کے لیے دردِ سر بن چکی ہے۔

















































