ایک توانا اور مضبوط جوان، نبوی اخلاق اور یوسفی حسن کا مالک، شہید مطیع اللہ بلوچ تقبله الله ولد زیڑ گل صوبہ میدان وردگ کی ضلع نرخ کے گاؤں اول خېلو کا رہائشی تھا۔ اس نے `1998ء میں ایک دین دار، متدین، جہاد سے محبت کرنے والے اور شہادت کو عزیز رکھنے والے خاندان میں اس فانی دنیا میں آنکھ کھولی۔
تعلیم کا دور
وہ ابھی چھوٹا بچہ تھا کہ اس نے اپنے گاؤں کے امام مسجد سے ابتدائی دینی اور عقیدے سے متعلق تعلیم حاصل کی۔ قرآن کریم کے الفاظ کی خوب صورتی اور دینی علوم کی روشنی اس کے دل کی گہرائیوں میں رچ بس گئی۔ بعد ازاں وہ شہید صابر بریال ہائی اسکول میں داخل ہوا، جہاں علم اور جہاد، دونوں کی تعلیم ساتھ ساتھ جاری تھی۔ اس دور میں اس نے اپنے گاؤں اور ضلع کے حالات کے بارے میں گہری آگاہی حاصل کی اور ان مظالم اور زیادتیوں کا عینی شاہد بنا جو قابضین اور ان کے اندرونی غلاموں کی طرف سے مسلمانوں پر ڈھائے جا رہے تھے۔
جہاد کا آغاز اور جدوجہد
پورے ملک کی سطح پر قابضین اور ان کے اندرونی غلاموں کے مظالم برداشت کی حد سے تجاوز کر چکے تھے، یہاں تک کہ شہید بلوچ تقبله الله کا خاندان بھی ان مظالم کا شکار ہوگیا۔ اندرونی ملیشیاؤں کی طرف سے انہیں مسلسل دھمکیاں دی جاتی تھیں اور اپنا گاؤں چھوڑنے کے لیے بھی دھمکایا جاتا تھا۔ ان کے دوسرے بھائی، حافظ مولوی ہمایوں (ہلال)، جو قرآن عظیم الشان کے حافظ، دین و عقیدے کے پیروکار اور کابل میں استشہادیوں کے رہنما تھے، کو بھی جیل کی سیاہ سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا اور وہ بگرام جیل میں بھی رہے۔ اسی وجہ سے ان کے خاندان پر مصیبتوں کے بادل چھا گئے۔ جمہوریہ کے وحشیوں کا مجاہدین، متدین اور دین دار لوگوں کے خاندانوں کے ساتھ نہایت برا سلوک تھا۔
شہید کے بھائی کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان اور میرے بھائی کے لیے زندگی میں روز بروز مزید رکاوٹیں پیدا کی جا رہی تھیں۔ یہ وہ وقت تھا جب شہید بلوچ تقبله الله نے 2012ء میں، باب الجہاد یعنی صوبہ لوگر میں، میدانِ جہاد میں اپنے ایمان اور غیرت کا پرچم بلند کیا۔ اس نے اپنی باقی زندگی جہاد کے گرم مورچوں میں گزاری اور اللہ کے دین کی سربلندی اور وطن کی آزادی کے لیے نہ تھکنے والی جدوجہد کی۔
وہ ضلع نرخ کے علاقے ڈنڈ کے ابتدائی اور بڑے بہادر مجاہدین میں سے تھا۔ وہ دین اور وطن سے محبت کرنے والا، شہادت کا پیاسا، رسول اللہ ﷺ کا عاشق، صحابہ کرام ؓ کے نقشِ قدم پر چلنے والا، متدین، مخلص، متقی اور عاجز مجاہد تھا۔ اس نے متعدد معرکوں میں فعال حصہ لیا۔ جنگی مہارت کے ساتھ ساتھ وہ بارودی سرنگوں کا ایک نہایت اچھا پیشہ ور استاد بھی تھا اور گروپ لیڈر کے طور پر خدمات انجام دینے کے علاوہ خط یا پہرے کا ذمہ دار بھی رہا۔ اس نے اپنے ضلع میں اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خلاف سخت مزاحمت کی، یہاں تک کہ اپنے علاقے میں ہونے والے ہر حملے اور گھات میں موجود رہتا تھا۔
اگر ہم حضرت خالد بن ولید ؓ کی سیرت کا مطالعہ کریں اور شہید بلوچ کی زندگی کے کارناموں اور قربانیوں کا ان سے موازنہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اس نے انہی کے طریقے کی پیروی کی اور سیدھے راستے پر گامزن رہا۔
بلوچ تمام مؤمنین، بالخصوص مجاہد نوجوانوں کو بہت عزیز تھا۔ ہر شخص اس سے بے حد محبت کرتا اور اس کا احترام کرتا تھا۔
اس نے اپنے جہاد کا آغاز صوبہ لوگر کے علاقے بابوس میں کیا، پھر صوبہ میدان وردگ کی ضلع نرخ، مرکز میدان شہر، جلریز اور دیگر اضلاع تک اپنی تلوار کا سایہ پھیلا دیا۔ اس نے بہت سے وحشی دشمنوں، دین اور اسلامی شعائر کے دشمنوں اور ان کی توہین کرنے والوں کو جہنم کے گڑھے میں دھکیل دیا۔ کوئی جاسوس یا غدار اس سے سکون کا سانس نہ لے سکا۔ اس کا نام سنتے ہی ہر بے ایمان شخص لرزنے لگتا تھا، جو اس کے ایمان اور تقویٰ کا واضح ثبوت تھا۔
اس نے اپنے زمانے کے خوارج، داعش کے خلاف بھی بہادری اور پوری دلیری سے جہاد و جدوجہد کی۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کئی مرتبہ باقاعدہ تشکیل کے تحت صوبہ ننگرہار گیا۔ وہ تشکیل کے دوران پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کرتا تھا:
جنگ کے دوران داعش کے ایک خارجی نے ہتھیار ڈالنے کی بات کی، لیکن جب وہ ہماری طرف قریب آیا تو اس نے ساتھیوں پر حملہ کرنے یا فائرنگ کرنے کی کوشش کی، مگر ہم نے اسے گولی چلانے کا موقع نہ دیا اور پہلے ہی اس کے سر پر گولی مار دی۔ ساتھی آپس میں کہہ رہے تھے کہ مجاہدین کے ساتھ لڑنا آسان کام نہیں ہے۔
اس وقت خوارج سے بہت سے علاقے فتح کیے گئے، لیکن دو دن بعد ہم اپنے مرکز کی طرف واپس جا رہے تھے۔ ساتھیوں نے کہا: آؤ، اس داعشی کی لاش کے پاس چل کر دیکھیں کہ اس کا کیا حال ہوا ہے۔ اس کی لاش سے بدبودار، ناگوار اور گندی بو اٹھ رہی تھی، جب کہ ہمارے شہید ساتھی شہادت کے بعد مہینوں تک میدانِ جنگ میں تیز دھوپ میں پڑے رہتے تھے، مگر کبھی ان کی لاش خراب نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی ان سے کہیں کوئی بو اٹھتی تھی۔ اس واقعے نے ہمارے ایمان کو مزید مضبوط اور مستحکم کردیا۔
ساتھیوں کی یادیں
محمد عالم مبشر کے بقول:
مطیع اللہ بلوچ بہت بہادر تھا۔ وہ ہر حال میں اپنے ساتھیوں کو بہادری کی باتیں بتایا کرتا تھا۔ خواہ چھاپہ ہوتا، جنگ ہوتی، گھات لگائی جاتی یا حملہ ہوتا، وہ ہمیشہ صبر، ثابت قدمی اور اطاعت پر گفتگو کرتا تھا۔ بلوچ کے لب ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے حرکت میں رہتے تھے۔ بلوچ بہت غیرت مند اور بہادر آدمی تھا۔ ہمارے لیے وہ خود امیر کا درجہ رکھتا تھا۔ اسے شہادت کی دیوانوں جیسی تمنا تھی۔ وہ دنیا اور مافیہا سے بالکل بے نیاز تھا۔ پورے علاقے میں اخلاق کا نمونہ تھا، اسی لیے اس کی یاد ہمارے ساتھ ہمیشہ باقی رہے گی۔
نصیب اللہ بلوچ کے بقول:
جب بطل بلوچ جنگ میں زخمی ہوا تو اس کے ساتھ جنگ میں موجود ساتھیوں کے علاوہ کسی اور کو اس کے زخمی ہونے کی خبر نہ ہوئی۔ بلوچ نے اپنے زخموں کے بارے میں اپنی والدہ کو بھی نہیں بتایا کہ وہ زخمی ہوا ہے۔ مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو معلوم تھا کہ بلوچ زخمی ہوا ہے اور اسے علاج کے لیے ضلع نرخ سے کافی عرصے کے لیے ضلع چک منتقل کیا گیا تھا۔ کچھ عرصے بعد اس نے پہلے کی طرح اپنے جہاد کو جاری رکھا۔
وہ اکثر ایک رومال اپنے سر کے گرد لپیٹے رکھتا تھا۔ بلوچ کے سر پر راکٹ لانچر یا اے جی ایس کے چھروں سے زخم آیا تھا۔ کافی عرصے بعد ایک دن ہم گھر میں بیٹھے تھے کہ اس کا رومال سر سے ایک طرف سرک گیا۔ والدہ کی نظر پڑی تو دیکھا کہ بلوچ نے اپنے سر کے اس حصے کے بال چھوٹے کروا رکھے تھے جہاں چھرّا لگا تھا۔ والدہ نے کہا:
’’بیٹا! تم نے اپنے بال اس طرح بڑے چھوٹے کیوں کر رکھے ہیں؟‘‘
پھر ہماری طرف دیکھ کر بولیں: ’’یہ کیا معاملہ ہے؟ تم نے بھی تو ہمیں کچھ نہیں بتایا کہ اسے کیا ہوا تھا۔ تم تو کہتے تھے کہ وہ دوسرے زخمیوں کے ساتھ گیا تھا، لیکن میرا بیٹا تو خود بھی زخمی ہوا تھا!‘‘
بلوچ نے انہیں جواب دیا: ’’میں زخمی نہیں ہوا تھا، دوسرے ساتھی زخمی تھے، میں ان کے ساتھ گیا تھا۔‘‘
شہادت کا واقعہ، شہید بلوچ کے بھائی کی زبانی
آج سے آٹھ سال پہلے ۱۰ مئی ۲۰۱۸ء کی رات نہایت سخت اور خوف سے بھری ہوئی تھی۔ پوری رات قابضین کے طیاروں، بغیر پائلٹ کے ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کی وحشیانہ بمباری کے سائے میں گزری۔ وہ ایسی رات تھی کہ آسمان کی خاموشی بموں کی گھن گرج نے توڑ دی تھی، زمین پر ہر طرف موت کا سایہ پھیل چکا تھا اور لوگوں کے دل اپنے عزیزوں کے انجام کی فکر میں دھڑک رہے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ میں سیواکئی بازار گیا ہوا تھا۔ یہ بازار صوبہ میدان وردگ کی ضلع بندچک میں واقع ہے اور انقلاب کے دنوں میں یہاں مجاہدین کو بہت سی ضروری چیزیں مل جایا کرتی تھیں۔ میرا دن تھکاوٹ اور طویل سفر میں گزرا تھا۔ جب شام کو گھر پہنچا تو گھر کے صحن اور کمروں میں ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ گھر میں صرف بڑا بھائی اور چھوٹا بھتیجا موجود تھے۔
کھانا کھاتے وقت والدہ نے میری طرف رخ کرکے پوچھا:
’’بلوچ کہاں ہے؟ کہاں گیا ہوا ہے؟‘‘
میں نے جواب دیا:
’’اس کی پہرے کی باری تھی۔ آج شام اس کا پہرہ شروع ہونا تھا، لیکن ابھی تک اس نے ہم سے رابطہ نہیں کیا۔‘‘
والدہ نے اپنا ہاتھ جیب میں ڈالا اور ایک سفید جھنڈا نکالا، جس پر کلمۂ مبارکہ ’’لا إله إلا الله محمد رسول الله‘‘ لکھا ہوا تھا۔ انہوں نے مجھے جھنڈا دکھایا اور کہا:
’’جب بلوچ آج گھر سے نکلا تو اس نے مجھ سے کہا: ’امی! یہ کلمہ اپنے پاس رکھنا، اگر میں شہید ہوگیا تو اسے میرے سر پر لپیٹ دینا۔ امی! یہ آپ سے میری آخری ملاقات ہے۔‘‘‘
میں نے بھی مسکراتے ہوئے کہا:
’’اللہ تعالیٰ اسے اتنی جلدی شہید نہ کرے!‘‘
لیکن میری والدہ خاموش ہوگئیں۔ بلوچ کی ان باتوں نے ان کے دل کی گہرائیوں میں ایک انجانا خوف پیدا کردیا تھا۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ بیٹے کی یہ باتیں واقعی جدائی کا آخری پیغام ثابت ہوں گی یا محض ایک لمحے کے جذباتی الفاظ ہیں۔
لیکن تقدیر نے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔ یہی باتیں ماں اور اس کے چنار جیسے بلند قامت بیٹے، مطیع اللہ بلوچ، کی آخری ملاقات ثابت ہوئیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم نے کھانا کھایا۔ بڑے بھائی نے آواز دی:
’’احمدی! جماعت نکل رہی ہے، جلدی آؤ!‘‘
اس وقت ہمارا چھوٹا بھائی نصیب اللہ، احمدی کے نام سے مشہور تھا، مطیع اللہ بلوچ کی شہادت کے بعد وہ بلوچ کے نام سے مشہور ہوا۔
میں اپنے بھائی کے ساتھ مسجد کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں اس نے مجھ سے کہا:
’’آج رات تو جاسوسی طیارے دکھائی نہیں دے رہے، کہیں مت جانا!‘‘
میں نے جواب دیا:
’’ان حالات میں کسی چیز پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا؛ نماز کے بعد پھر اپنا انتظام کرلیں گے۔‘‘
ہم مسجد پہنچے۔ جماعت کھڑی ہوچکی تھی اور لوگ نماز میں مشغول تھے۔ ابھی ہم نے سلام بھی نہیں پھیرا تھا کہ اچانک AC-130 طیاروں، ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کی آوازیں بلند ہوئیں۔ چند لمحوں بعد شدید بمباری شروع ہوگئی۔ دھماکوں کی آوازوں نے رات کی خاموشی توڑ دی اور علاقے کی فضا خوف و دہشت سے بھر دی۔
ہم نے سلام پھیرا، مگر بموں کی گھن گرج جاری رہی۔ میرے بڑے بھائی نے درد اور تشویش کے عالم میں چیخ کر کہا:
’’آہ! لگتا ہے انہیں شہید کردیا!‘‘
وہ جانتے تھے کہ بلوچ اور اس کے ساتھی پہرے کی لائن پر ہیں اور ممکن ہے دشمن نے ان پر چھاپہ مارا ہو۔
رات کے تقریباً آٹھ بجے تھے۔ چودھویں کے چاند کی روشنی نے رات کی تاریکی کو بڑی حد تک کم کردیا تھا اور دور تک اچھی طرح دکھائی دے رہا تھا۔ میں مسجد سے باہر نکلا اور جیب سے وائرلیس نکالا۔ اس میں ساتھیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ڈرونز اور ہیلی کاپٹر بہت قریب پرواز کررہے تھے، جب کہ بموں اور فائرنگ کی آوازیں ہر لمحہ بڑھتی جارہی تھیں۔ تمام ساتھی اللہ تعالیٰ کا نام لے کر پکار رہے تھے اور ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے کہ پہرے کی لائن پر موجود مجاہدین محاصرے میں ہیں۔
ہر شخص کوشش کررہا تھا کہ لائن پر موجود ساتھیوں سے رابطہ کرے، ان کے حالات معلوم کرے اور ان کی آواز سنے۔
میں گھر واپس آیا۔ والدہ نے میری گھبراہٹ دیکھی تو پوچھا:
’’کیا بات ہے؟‘‘
میں نے کہا:
’’امی! مجھے معلوم نہیں، نیچے میدان میں لڑائی ہورہی ہے یا کسی پر چھاپہ مارا گیا ہے۔‘‘
والدہ نے تشویش سے پوچھا:
’’کیا بلوچ پر چھاپہ پڑا ہے؟‘‘
میں نے جلدی سے جواب دیا:
’’نہیں امی! نیچے میدان میں ہے۔ ڈرونز، ہیلی کاپٹروں اور AC-130 نے شدید بمباری کی ہے۔‘‘
میں نے وائرلیس بند کردیا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ والدہ اپنے بیٹے کے انجام کے بارے میں مزید پریشان ہوں۔ میں نے باقی نماز ادا کی۔ والدہ کمرے میں آئیں اور میرے ساتھ بیٹھ گئیں۔ ابھی میں نے سلام بھی نہیں پھیرا تھا کہ انہوں نے دوبارہ کہا:
’’بلوچ سے رابطہ کرو، ان پر چھاپہ پڑا ہے!‘‘
میں نے وائرلیس کے قریب منہ کرکے آواز دی:
’’بلوچ! سن رہے ہو؟ بلوچ!‘‘
دوسری طرف سے آواز آئی:
’’سن رہا ہوں، احمدی! میرے پاس وقت نہیں ہے۔ الحمدللہ، تمام ساتھی خیریت سے ہیں، دعائیں کرتے رہنا!‘‘
ان چند مختصر باتوں نے والدہ کی تشویش مزید بڑھا دی۔ انہوں نے مجھ سے کہا:
’’دیکھو، چھاپہ انہی پر پڑا ہے!‘‘
میں نے جواب دیا:
’’نہیں امی! ان پر نہیں ہے۔‘‘
میں کمرے سے نکل کر صحن میں آگیا۔ ساتھی بھی بلوچ اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ ہم لائن پر موجود ایک ساتھی سے رابطہ کرنے کے لیے گئے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ کوئی بات نہیں، لیکن بمباری کی آوازیں اب بھی نہیں رک رہی تھیں۔ ڈرونز، ہیلی کاپٹر اور AC-130 مسلسل حملے کررہے تھے۔
میں دوبارہ عمومی وائرلیس کی طرف متوجہ ہوا۔ مجاہدین ایک دوسرے سے کہہ رہے تھے:
’’لائن پر موجود ساتھی ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں، کچھ کرو!‘‘
لیکن دھماکوں کے درمیان تشویش کا سایہ ہر لمحہ گہرا ہوتا جارہا تھا۔ میرے دل کے کسی گوشے میں خوف سر اٹھا رہا تھا، مگر میں اب بھی خود کو تسلی دے رہا تھا کہ شاید بلوچ اور اس کے ساتھی خیریت سے ہوں گے۔
میں کمرے میں گیا اور بندوق اٹھا لی۔ میرا ارادہ تھا کہ گھر سے نکلوں اور اس کی زنگ آلود گولیاں نکال کر پہلی صف کے ساتھیوں تک پہنچاؤں، تاکہ ان کی مدد کرسکوں۔ لیکن والدہ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مضبوطی سے کہا:
’’خدا کی قسم، اگر تم گئے!‘‘
والدہ کا ہاتھ پکڑنا محض ایک بیٹے کو جانے سے روکنا نہیں تھا؛ یہ ایک فکرمند ماں کے دل کی وہ چیخ تھی جو نہیں چاہتی تھی کہ اس کے دل کا ایک اور ٹکڑا بھی موت کے منہ میں چلا جائے۔
میں نے ان سے کہا:
’’اچھا امی، نہیں جاتا؛ آپ بھی باہر مت نکلنا۔‘‘
بمباری اب بھی جاری تھی۔ ڈرون حملوں اور AC-130 طیاروں کی آوازیں کبھی قریب آتیں اور کبھی دور چلی جاتیں۔ طیاروں نے مجاہدین پر یکے بعد دیگرے دو بھاری بم گرائے اور رات کی خاموشی کو ایک بار پھر ہول ناک دھماکوں میں بدل دیا۔
میں دوبارہ وائرلیس کی طرف متوجہ ہوا۔ اچانک ایک مجاہد کی آواز بلند ہوئی:
’’ہمارے ساتھیوں کو شہید کردیا گیا ہے! مجاہدین اپنی جگہوں سے نہ ہلیں!‘‘
یہ آواز میرے دل پر بجلی بن کر گری۔ چند لمحوں کے لیے میری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوگئی۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں۔ ایک طرف بھائی کے انجام کی فکر کی آگ بھڑک رہی تھی، دوسری طرف والدہ میرے پاس بیٹھی تھیں اور ہر بات پر بلوچ کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔
والدہ نے دوبارہ کھڑکی سے سر نکالا اور کہا:
’’انہیں آواز دو، پوچھو کہ بلوچ اور اس کے ساتھی کیسے ہیں؟‘‘
میں نے جواب دیا:
’’امی! وہ نیچے ہیں، وہاں بمباری ہوئی ہے۔ ابھی تک صحیح معلومات نہیں ہیں۔ پہلے نیچے بمباری کی، اب دادل درہ میں حملہ کیا ہے۔ آپ باہر نہ نکلیں، اندر بیٹھیں، کوئی بات نہیں۔‘‘
لیکن یہ سب باتیں صرف والدہ کو تسلی دینے کے لیے کہی جارہی تھیں۔ حقیقت میرے دل میں آگ کے شعلوں کی طرح بھڑک رہی تھی۔ میں انہیں کیسے بتاتا کہ شاید ان کے دل کا ٹکڑا، بلوچ جان، موت کے سائے سے دوچار ہوچکا ہے؟ میں ان کی آنکھوں سے ان کے بیٹے کی شہادت کی خبر کیسے چھپاتا، جب کہ میرا اپنا دل بھی اسی خبر کے خوف سے ٹکڑے ٹکڑے ہورہا تھا؟
نہ میں وائرلیس کھلا چھوڑ سکتا تھا اور نہ ہی اس کی آوازوں سے بے فکر رہ سکتا تھا۔ ہر لمحہ میرے کان بلوچ کی آواز سننے کے منتظر تھے۔ مجھے امید تھی کہ ایک بار پھر اس کی آواز سنائی دے گی اور وہ ایک مرتبہ پھر کہے گا: ’’احمدی! تمام ساتھی خیریت سے ہیں۔‘‘
لیکن وہ رات امیدوں اور اندیشوں کے درمیان گزر گئی۔ ایک لمحے میرا دل امید کی روشنی سے منور ہوجاتا، تو اگلے لمحے بموں کی گھن گرج اسی روشنی پر خوف کا سیاہ سایہ ڈال دیتی۔
رات بہت سخت تھی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ ایک طرف بھائی کے خط پر چھاپہ پڑا تھا، دوسری طرف والدہ نے میرا ہاتھ پکڑ رکھا تھا اور مجھے باہر جانے نہیں دے رہی تھیں۔ نہ مجھ میں بھائی کی مدد کرنے کی طاقت تھی اور نہ ہی والدہ کو حقیقت بتانے کی ہمت۔ دل کا درد زبان پر نہیں لا سکتا تھا اور آنکھوں کی پریشانی والدہ سے چھپا نہیں سکتا تھا۔
اسی حالت میں پوری رات قابضین کی وحشیانہ بمباری کے سائے میں گزر گئی۔
بالآخر صبح ہوگئی۔
رات کی ہول ناک آوازوں کی جگہ صبح کی خاموشی نے لے لی تھی، لیکن یہ خاموشی سکون کی نہیں، بلکہ ایک بڑے سانحے کی آمد کی علامت تھی۔ ہم نے فجر کی نماز ادا کی اور بڑے بھائی کے ساتھ پہرے کی جگہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ اسی جگہ کی طرف جہاں رات کو بمباری اور چھاپے کی خبریں پہنچی تھیں، اسی جگہ کی طرف جہاں ہمارے دلوں کی تمام امیدیں وابستہ تھیں۔
ساتھی کہہ رہے تھے کہ وہاں ہمارے ساتھیوں کو شہید کردیا گیا ہے۔
ہم بھی شہداء کی طرف روانہ ہوئے۔ ہر قدم کے ساتھ ہمارے دل کی دھڑکن تیز ہوتی جارہی تھی۔ میرے ذہن میں بے شمار سوالات گردش کررہے تھے: کیا بلوچ بھی ان میں ہوگا؟ کیا وہ محفوظ رہا ہوگا؟ کیا رات کو کہے گئے اس کے آخری الفاظ واقعی اس کی زندگی کے آخری الفاظ تھے؟
جب ہم وہاں پہنچے تو گاؤں کے دوسرے مجاہدین، نوجوان اور بزرگ ہم سے پہلے پہنچ چکے تھے۔ وہ شہداء کو اٹھا کر مسجد کے برآمدے میں رکھ چکے تھے۔
ہم ان کے قریب گئے۔
شہداء کے درمیان وہ بھی پڑا تھا، وہ نوجوان جو قد میں بلند، جہاد کی محبت میں سرشار، سیاہ آنکھوں والا تھا، جس نے گزشتہ روز گھر سے نکلتے وقت اپنی والدہ کے حوالے سفید جھنڈا کیا تھا، شہادت کے دن کی بات کی تھی اور ان سے آخری ملاقات کا ذکر کیا تھا۔
ہاں، مطیع اللہ بلوچ بھی شہید ہوچکا تھا۔
وہ رات جو والدہ نے اپنے بیٹے کی واپسی کے انتظار میں گزاری تھی، ان کی زندگی کی سب سے بھاری رات بن گئی تھی۔ وہ بیٹا جس نے شام کے وقت کلمے کا سفید جھنڈا اپنی والدہ کے ہاتھوں میں دیا تھا، اب مسجد کے برآمدے میں شہادت کے پاکیزہ خون سے رنگا پڑا تھا۔
رات کی وہ مختصر باتیں ایک بار پھر میرے ذہن میں گردش کرنے لگیں:
’’امی! یہ کلمہ اپنے پاس رکھنا، اگر میں شہید ہوگیا تو اسے میرے سر پر لپیٹ دینا۔‘‘
اور مجھے والدہ کی وہ خاموشی بھی یاد آئی جو انہوں نے بیٹے کی باتیں سننے کے بعد اختیار کی تھی۔ شاید ان کے دل نے جدائی کی آمد محسوس کرلی تھی، لیکن ماں کا دل بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس کے بیٹے کی زبان سے نکلنے والی باتیں حقیقت بن جائیں۔
لیکن زندگی میں بعض اوقات ایسے لمحات آتے ہیں جب انسان کی تمام امیدیں تقدیر کے سامنے خاموش ہوجاتی ہیں۔
مطیع اللہ بلوچ رات کے طوفان، بمباری اور چھاپے کے بعد اب اپنی والدہ کی آواز کا جواب نہیں دے سکتا تھا۔ جس آواز کی والدہ پوری رات منتظر رہی تھیں، وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوچکی تھی، لیکن اس کے آخری الفاظ، والدہ کے ہاتھ میں سفید جھنڈا اور مسجد کے برآمدے میں اس کی شہادت کا منظر ہمارے دلوں میں ایک ناقابلِ فراموش یاد کے طور پر باقی رہ گئے۔
نحسبه كذلك والله حسيبه۔


















































