بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ، اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَیٰ أَشْرَفِ الْمُرْسَلِینَ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الصَّادِقِ الْأَمِینِ، وَعَلَیٰ آلِهِ وَأَصْحَابِهِ أَجْمَعِینَ، حَامِداً وَمُصَلِّیاً۔
أَمَّا بَعْدُ:
محترم اور معزز مسلمان بھائیو!
دنیا میں بہت سے رہنما اور قائدین گزرے ہیں۔ ہر رہنما نے اپنے راستے اور جدوجہد سے وفاداری کے عہد کیے، لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہوں نے عملی طور پر اپنی وفاداری ثابت کی ہو۔ پختہ ایمان، راسخ عقیدہ اور قربانی کا جذبہ انسانوں کو بے مثال قربانیاں پیش کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں وحی کے ذریعے حکم دیا گیا کہ اپنے پیارے بیٹے کو اللہ جل جلالہ کی راہ میں قربان کریں، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کسی شک و تردد کے بغیر چھری اٹھائی اور اپنے بیٹے کی قربانی کے لیے تیار ہوگئے، لیکن اللہ جل جلالہ نے ان کے بیٹے کو بچا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک ہمارے درمیان ابراہیمی سنت زندہ ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی اللہ جل جلالہ کو اس قدر پسند آئی کہ اس کی یاد قیامت تک تازہ رکھنے کا اہتمام فرمایا۔
آج اگرچہ فتنوں کا دور ہے، لوگوں نے دین سے منہ موڑ لیا ہے اور سب مادی دنیا کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ اسلام نے جو وعدے کیے ہیں، وہ بعض لوگوں کو بہت بعید از قیاس معلوم ہوتے ہیں، لیکن الحمدللہ، آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنے بیٹوں کو دین کی راہ میں قربان کرتے ہیں اور ان کی مبارک یاد تازہ کرتے ہیں۔ انہی لوگوں میں امارت اسلامیہ کے سربراہ، عالیقدر امیر المؤمنین شیخ ہبۃ اللہ اخندزادہ حفظہ اللہ بھی شامل ہیں۔
قربانی کا شاہکار اور استشہاد کی صدا
شیخ ہبۃ اللہ اخندزادہ حفظہ اللہ کے فرزند عبدالرحمن خالد، شیخ صاحب کے جگر کا وہ ٹکڑا تھے جنہوں نے دینی جذبے میں دنیاوی زندگی کی آسائشوں اور سنہرے مواقع کو پسِ پشت ڈال دیا اور ہلمند کے گرشک علاقے میں استشہادی قافلے کے ایک مخلص فدائی کی حیثیت سے کفر کی دفاعی صفوں کو توڑنے کے لیے اپنی جان نذر کر دی۔ یہ واقعہ معاصر تاریخ کے دامن میں راہِ حق کی ایک بے مثال تصدیق تھا۔
اس وقت شیخ صاحب امارت اسلامیہ کے سربراہ اور امیر المؤمنین کی حیثیت سے منصبِ قیادت پر فائز تھے، لیکن مادی اور دنیاوی حکمرانوں کے برعکس انہوں نے اپنے بیٹے کو عیش و عشرت کے کمروں میں چھپا کر نہیں رکھا، بلکہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی جان سے عزیز اولاد کو دینِ الٰہی کی تقویت اور امریکی قبضے کو شکست دینے کے لیے قربانی کے لیے پیش کیا۔ یہ عمل ابراہیمی ایثار کی صفوں کے لیے سرچشمۂ الہام بن گیا۔
مجاہدین نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان کے رہنما کے قول و فعل میں یکسانیت ہے اور ان کے اہلِ خانہ بھی عام لوگوں کے بچوں کی طرح جہاد کی اگلی صف میں قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ یہی اخلاص تھا جس نے اللہ جل جلالہ کی نصرت کو اپنی جانب متوجہ کیا اور بالآخر افغانستان پر سفید محمدی پرچم لہرانے لگا۔
مسندِ قیادت سے میدانِ کارزار تک: علم و تقویٰ کی فیض رسانی
عالیقدر امیر المؤمنین شیخ صاحب کا قافلۂ قیادت تقویٰ کی بنیاد پر قائم ہے۔ سوویت یونین کے خلاف پہلے جہاد سے لے کر مرحوم امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کے دور میں ننگرہار اور کابل کی فوجی عدالتوں کی سربراہی تک، شیخ صاحب ہمیشہ شریعت کے نفاذ اور حق پر مبنی فیصلوں کی مثال بنے رہے ہیں۔ ان کی علمی زندگی، کئی برس تک احادیث (صحاحِ ستہ) کی تدریس اور ہزاروں علمائے کرام کی تربیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ ان کے فیصلوں اور احکام کے پیچھے محض وقتی مصلحتیں نہیں، بلکہ فقہ کا گہرا علم اور سنتِ نبوی کی کامل پیروی کارفرما ہے۔
وہ ایسے متقی فقیہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے معاملے میں ذرہ برابر سمجھوتا کرنا نہیں جانتے۔ ان کا یہی بے مثال علمی اور عقیدے پر مبنی استحکام اس بات کا سبب بنا کہ بیس سال تک دنیا کی بے مثال طاقت کے مقابلے میں امارت اسلامیہ کی صفیں پہاڑ کی طرح مضبوط رہیں۔
فتح کا معجزہ اور عفوِ عام کے نبوی طریقے کا احیا
جب اللہ جل جلالہ کی نصرت سے بیس سالہ ظالمانہ قبضے کا خاتمہ ہوا اور ۶ محرم الحرام ۱۴۴۳ھ کو کابل سمیت پورا ملک فتح کی سفید روشنی سے منور ہوگیا، تو دنیا ایک بڑے خون خرابے اور انتقام کی توقع کر رہی تھی۔ مغرب اور اس کے کٹھ پتلیوں کے تشہیری ذرائع نے ایسا خوف پھیلا رکھا تھا کہ گویا امارت اسلامیہ کے مجاہدین اپنے شہداء کا بدلہ لیں گے۔ لیکن اس موقع پر عالیقدر امیر المؤمنین حفظہ اللہ کے ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فتحِ مکہ کے طریقے کا عملی مظاہرہ سامنے آیا۔
عالیقدر امیر المؤمنین شیخ صاحب نے اپنی بے مثال بصیرت اور شرعی فہم کی بنیاد پر ’’عفوِ عام‘‘ کا اعلان کیا۔ اس فرمان کے ذریعے گزشتہ بیس سالہ دور کے تمام دشمنوں، مخالفین اور قبضے کی صف میں کھڑے رہنے والوں کو ایک ہی جملے میں معاف کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ انتقام کی ثقافت کے خاتمے اور ملک میں ہمہ گیر استحکام کے قیام کی جانب سب سے بڑا اور تاریخی قدم تھا۔ عفوِ عام کے اس نبوی طرزِ عمل نے دنیا کو دکھایا کہ امارت اسلامیہ خون بہانے کے لیے نہیں، بلکہ دلوں کو جوڑنے، بھائی چارے کی فضا قائم کرنے اور ایک شرعی و عادلانہ نظام تشکیل دینے کے لیے آئی ہے۔ اس اقدام سے ہزاروں افغانوں کی جان و مال محفوظ ہوئے اور ملک کو خانہ جنگی سے بچا لیا گیا۔
فتح کے بعد سنہری حروف میں رقم ہونے والی قیادت
فتح کے بعد عالیقدر امیر المؤمنین حفظہ اللہ کی حکیمانہ قیادت میں افغانستان کی تاریخ میں بے مثال ہمہ گیر امن قائم ہوا۔ ملک کے شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک اقتدار کے تمام الگ الگ مراکز اور بدعنوانی کے اڈے ختم کر دیے گئے۔ اقتدار کا مکمل مرکزیت اختیار کرنا اور احکامِ قیادت کی اطاعت اس بات کا سبب بنی کہ پورے ملک میں ایک ہی حکم کے تحت امن و استحکام قائم ہو۔ شیخ صاحب کے محتاط، سنجیدہ اور مخلصانہ طرزِ عمل کے نتیجے میں آج ملک کی معاشی تعمیرِ نو، بڑے ترقیاتی منصوبوں کے آغاز اور مالی بدعنوانی کے مکمل خاتمے کے سلسلے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
موجودہ امن و استحکام شہداء اور استشہادیوں کے مبارک خون اور امیر المؤمنین شیخ صاحب حفظہ اللہ کی اس شرعی ثابت قدمی کا نتیجہ ہے جس نے عالمی کفر کے معاشی اور سیاسی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا۔ انہوں نے شریعت کے نفاذ اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے قوانین کو معاشرے کی فکری اصلاح کے لیے نافذ کیا اور کبھی بھی شریعت کے احکام کے مقابلے میں مصلحت یا کفر کے ساتھ تعامل کو ترجیح نہیں دی۔
آخر میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ امارت اسلامیہ کا استحکام اور اس مقدس نظام کی کامیابی، شہداء اور استشہادیوں کے پاکیزہ خون، مجاہدین اور قیدیوں کی مشقتوں، بیواؤں اور یتیموں کی دعاؤں، عام لوگوں کے تعاون اور قربانیوں اور عالیقدر امیر المؤمنین شیخ صاحب حفظہ اللہ کے ابراہیمی ایثار کا ثمر ہے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں سب سے پہلے اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو قربانی کے لیے پیش کیا۔ ہم سب کا فرض اور ذمہ داری ہے کہ اس شرعی اقتدار کے پیچھے فولاد کی دیوار کی طرح مضبوطی سے کھڑے ہوں، قیادت کے احکام کو کھلے دل سے قبول کریں اور صفوں کے اتحاد کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں وقف کر دیں۔ خون کے رنگ سے لکھی گئی یہ حکومت مؤمنوں اور مجاہدین کی سب سے بڑی امانت ہے، جس کی حفاظت ہم پر فرض ہے۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنْتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ، وَاحْفَظْ أَمِیرَنَا وَأَیِّدْ نِظَامَنَا الإِسْلَامِیَّ بِقُوَّتِکَ وَنَصْرِکَ العَظِیم. وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔


















































