سوشل میڈیا پر ایک تازہ ویڈیو بہت زیادہ گردش کر رہی ہے۔ اس میں دکھائی دیتا ہے کہ فوجی ملیشیا کی ایک ٹرک نما گاڑی میں لوگوں کو جمع کیا گیا ہے۔ گاڑی کے پچھلے حصے کا ترپال اٹھایا جاتا ہے تو اندر چہرے ڈھانپے ہوئے نوجوان بیٹھے نظر آتے ہیں اور گاڑی کسی سمت روانہ ہو رہی ہے۔ محافظ قریب آنے والے ایک شخص کے ساتھ سختی سے پیش آتا ہے اور اسے روکتا ہے، لیکن وہ شخص کہتا ہے: ہمیں معلوم تھا کہ تم داعشیوں کو لے جا رہے ہو۔
بہرحال، اصل موضوع خیبر پختونخوا میں منتخب حکومت کی برطرفی اور گورنر راج کے اعلان کے بعد وہاں مسلط ناروا فوجی حالت ہے، جہاں پانچ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے اور آپس میں بات چیت کرنے سے بھی خوف محسوس کیا جا رہا ہے۔ یہ خوف کس بات کا ہے، اور صورتحال اس حد تک سنگین کیوں ہوتی جا رہی ہے کہ پاکستان کی مرکزی رجیم اور پارلیمان کی تمام تر بحثیں اور تشویشیں اسی کے گرد گھوم رہی ہیں؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی ایک آمرانہ اور غیر منتخب رجیم نے اس صوبے میں تحریکِ انصاف کے منتخب وزیرِ اعلیٰ اور اس کے اختیارات ختم کرکے مقامی گورنر کو اختیارات دے دیے ہیں، لیکن یہ اختیار اور فیصلہ کس کی طرف سے کیا جاتا ہے؟ پاکستان کے ایک بے اختیار اور محض نام کے صدر کی طرف سے، جو اب بڑھاپے اور ذہنی زوال کا شکار ہو چکا ہے اور اچھے برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ فطری بات ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف نے اس پر یہ فیصلہ مسلط کیا ہے، جبکہ خود وزیرِ اعظم نے بھی اس سیاسی بے شرمی سے بڑی مہارت کے ساتھ دامن بچا لیا ہے۔
تمام شواہد اور قرائن واضح کرتے ہیں کہ پختونخوا میں یہ صورتحال فوجی رجیم کے مذموم منصوبوں اور پالیسیوں کے نتیجے میں مخصوص مقاصد کے لیے مسلط کی گئی ہے، تاکہ وہ استحکام کی آڑ میں اپنے نئے منصوبوں اور سازشوں کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا سکے۔ اس اقدام کا سب سے بڑا اور واضح مقصد اس صوبے کے مختلف علاقوں، بالخصوص ڈیورنڈ لائن کے قریب واقع علاقوں میں، داعشی خوارج کی تربیت اور سرگرمیوں کے لیے زمین ہموار کرنا ہے، تاکہ وہ اس راستے سے پہلے افغانستان، پھر خطے اور پورے وسطی ایشیا کو خطرے سے دوچار کر سکیں۔
اس خطرے کے پیچھے فوجی رجیم کے سب سے اہم مقاصد معاشی اور سیاسی ہیں، کیونکہ بعد میں وہ اپنی جابر فوج کے ذریعے اسی خطرے کو دوبارہ کچلتی ہے، لیکن اس کارروائی کی قیمت یورپی ممالک اور امریکہ سے وصول کرتی ہے۔ انہیں یہ باور کراتی ہے کہ گویا یہ ایک ایسا خطرہ ہے جس پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ اگر پاکستان کی مدد نہ کی گئی اور دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی تیاریوں کے لیے اسے رقم اور منصوبے فراہم نہ کیے گئے تو یہ گروہ ہر پڑوسی ملک کے شہروں تک پہنچ جائے گا اور وہاں بدامنی اور دہشت گردی پھیل جائے گی۔ یہ وہ معاملہ ہے جس میں فوجی رجیم اپنی کالی سیاست اور شرمناک سودے بازیوں کے سلسلے میں انٹیلی جنس کا تجربہ رکھتی ہے۔
فوجی رجیم، جس نے ہمیشہ افغانستان، خطے اور وسطی ایشیا میں بدامنی سے اپنے مفادات اور مراعات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، اس وقت بڑے عالمی قرضوں، معاشی مشکلات اور اندرونی غربت کے عروج پر ہے۔ وہ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے اپنے اصل کام اور پیشے، یعنی دہشت گردی کی سرپرستی اور تربیت، کو ایک بار پھر سامنے لانا چاہتی ہے۔ لیکن اس ذریعے سے حاصل ہونے والی رقوم اور مادی امداد مسائل پر قابو پانے کے بجائے فوجی جرنیلوں کے ذاتی منصوبوں، بین الاقوامی تجارت اور پنجاب میں متعدد خدماتی منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے، جبکہ اس کی قیمت صرف پختونخوا اور پشتون قومیں ادا کرتی ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران امارت اسلامیہ افغانستان نے بارہا دنیا کو اس مذموم کھیل سے آگاہ کیا ہے اور داعشی خوارج کو دوبارہ منظم کرنے کی فوجی رجیم کی خفیہ اور علانیہ کوششوں سے بھی دنیا کو باخبر کیا ہے۔ اب اس معاملے کو ایک عالمی ذمہ داری کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ خطے اور ایشیائی ممالک کے رہنماؤں کو سمجھنا چاہیے کہ فوجی رجیم کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کرنے اور عملی اقدام کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ اب خوف افغانستان کی سرزمین سے نہیں، بلکہ فوجی رجیم کی ان شیطانی اسٹریٹیجیوں اور فوجی جرنیلوں کے ذریعے داعشی خوارج کی مالی اور سیاسی سرپرستی سے ہونا چاہیے۔
یہ محض کوئی دعویٰ بھی نہیں ہے، افغان فضائیہ نے بارہا اپنے جائز فضائی حملوں کے ذریعے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں داعشی خوارج اور شر و فساد پھیلانے والے دوسرے گروہوں کے ایسے خفیہ مراکز کو نشانہ بنا کر تباہ کیا ہے، جہاں انہیں پاکستان کے حساس سکیورٹی اور انٹیلی جنس علاقوں میں آزادانہ سرگرمیاں انجام دینے کی سہولت حاصل تھی۔ اب تک پاکستان کے متعدد انتہائی محفوظ مقامات پر داعش کے کئی رہنما ہلاک کیے جا چکے ہیں اور ان کے مراکز اب بھی نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے مقامی باشندے، سیاست دان اور تاجر وہاں مسلط بدترین صورتحال کو سب سے بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں، کیونکہ اس علاقے کو دانستہ طور پر بدامنی کے ایک کھلے میدان، لاوارث اور سیاسی بحران کے مرکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ لیکن فوجی رجیم کے پاس نہ تو ان کی آواز سننے، ان کے مظاہروں پر توجہ دینے اور نہ ہی ان کے مطالبات کو اہمیت دینے کا وقت ہے۔
اگر عالمی برادری، خطے کے ممالک اور بالخصوص وسطی ایشیا کے ممالک اس جرم اور فوجی رجیم کی دہشت گردانہ سرگرمیوں پر اب بھی آنکھیں بند رکھتے ہیں اور امارت اسلامیہ کے مؤقف اور مطالبات کو نظرانداز کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دانستہ طور پر خطے میں فوجی رجیم کے ہاتھوں تربیت پانے والے داعشی خوارج کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔
ایسی صورتحال میں بھی ہم پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ افغانستان نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے اور اس کی ایک بالشت زمین بھی داعشی یا دیگر فسادی گروہوں کے قدم جمانے اور سرگرمیاں انجام دینے کی جگہ نہیں بنی۔ بلکہ گزشتہ چند واقعات سے ثابت ہوا ہے کہ ان گروہوں کے فرضی سرحد عبور کرتے ہی مستند انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر انہیں ہلاک، گرفتار اور بے نقاب کیا گیا ہے۔ اسی طرح تمام پڑوسیوں اور خطے کے ممالک کو بھی اپنی سکیورٹی ذمہ داری کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے اور فوجی رجیم کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ اس کی دہشت گردانہ کارروائیاں ماضی کی طرح موجودہ استحکام اور سکیورٹی کو خطرے میں ڈالیں اور وہ گدلے پانی میں مچھلیاں پکڑنے کا اپنا پرانا کھیل جاری رکھے۔


















































