افغانستان خطے کے ان ممالک میں شامل ہے جو نہایت تیزی سے استحکام اور تعمیر و ترقی کی جانب گامزن ہیں۔ اس سفر کے ساتھ ساتھ بہتر طرزِ حکمرانی اور متوازن خارجہ پالیسی کی راہ بھی تیزی سے اختیار کی جارہی ہے، جس کے نمایاں نتائج سامنے آرہے ہیں۔ مگر بعض ممالک، بالخصوص افغانستان کے وہ ہمسائے جو ہمیشہ افغانستان کی بدامنی اور عدم استحکام سے اپنے ناجائز مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتے آئے ہیں، اس ترقی اور استحکام کی حمایت کرنے کے بجائے مثبت صورتِ حال کو منفی رخ دینے کے درپے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ طویل عرصے بعد سکھ کا سانس لینے والے مظلوم افغان ایک بار پھر ان کی مداخلت اور مذموم پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ جائیں۔
بدقسمتی سے پاکستان اس صف میں سب سے آگے ہے۔ اس ملک کا فوجی رجیم نہ اپنے عوام پر رحم کرتا ہے اور نہ جنگ سے نکلنے والے افغان عوام کی پُرسکون زندگی اسے گوارا ہے۔ اسی لیے وہ اپنے آلہ کاروں، شرپسند و فساد انگیز گروہوں اور اجرتی ملیشیاؤں کے ذریعے حالات خراب کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
اگرچہ یہاں سب سے پہلے تنقید ان اربکیوں، اسلامی نظام سے فرار ہونے والے شرپسند گروہوں اور نام نہاد افغانوں پر بنتی ہے کہ وہ دوسروں کی بندوق اٹھانے کے لیے اپنے کندھے کیوں فراہم کرتے ہیں اور اپنے ہی ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پاکستانی فوجی رجیم کی پناہ کیوں لیتے ہیں۔ تاہم پاکستان کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ جو شخص اپنی سرزمین، قوم اور اقدار سے وفادار نہیں، وہ کسی دوسرے کے مفادات اور اقدار کا بھی تحفظ نہیں کرسکتا۔ ایسے لوگوں کو صرف آلۂ کار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور کام نکل جانے کے بعد فرسودہ منصوبوں کے کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔
شر و فساد پھیلانے والے گروہ، سابق جمہوری نظام کے بدعنوان سپاہی اور فوجی حکومت کے اجرتی کارندے جمہوری دور میں بھی ہمیشہ استحکام، انصاف اور حب الوطنی کے بلند بانگ دعوے کرتے تھے۔ اس کے برعکس وہ مجاہد طالبان اور امارتِ اسلامیہ کے عسکری محاذوں کو آئی ایس آئی اور پاکستان کے ایجنٹ اور غلام قرار دیتے تھے۔ مگر حالیہ تبدیلی اور فتح نے ثابت کردیا کہ موجودہ حکمران اور نظام اس ملک کے حقیقی سپوتوں پر مشتمل ہیں۔ اس کے برخلاف پاکستان مخالف نعروں میں پیش پیش رہنے والے یہی لوگ سب سے پہلے پاکستانی فضائی کمپنیوں کی پروازوں کے ذریعے اسلام آباد پہنچے اور اپنے آقاؤں کی پناہ لی۔
مگر ان کے ساتھ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ ان کے آقاؤں نے بھی انہیں اسلام آباد یا کسی دوسری جگہ ٹھکانا نہ دیا؛ چنانچہ وہ امریکا اور یورپ چلے گئے، تاکہ وہاں اپنے دورِ بدعنوانی میں منتقل کیے گئے ڈالروں اور بینک کھاتوں کی خبرگیری کرسکیں۔
بہرحال، پاکستان کی اس قسم کی سرگرمیوں کی ایک طویل اور تاریک تاریخ ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف نیابتی گروہوں اور اجرتی عناصر کو تربیت دے کر استعمال کرتا آیا ہے۔ تازہ اطلاعات اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ایک بار پھر بلوچستان اور دیگر علاقوں میں سابقہ اربکیوں، ڈاکوؤں، مجرموں اور اجرتی قاتلوں کو منظم اور یکجا کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں، تاکہ انہیں مال و دولت اور دیگر لالچ دے کر افغانستان پہنچایا جائے اور وہاں حالات خراب کرنے اور بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔
پاکستان کا یہ مذموم مقصد صرف افغانستان کے حالات خراب کرنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے خطے کے لیے ایک خطرناک منصوبہ ہے۔ عالمی برادری اور خطے کے ممالک کو اس سیاسی منافقت پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ اگرچہ امارتِ اسلامیہ افغانستان نے اس سلسلے میں نہایت جرأت اور بہادری سے اپنی ذمہ داری ادا کی ہے اور فرضی سرحدی لکیر کے اطراف پاکستانی فوجی رجیم کے بھیجے ہوئے اجرتی عناصر کو کئی مرتبہ ان کے کیے کی سزا دی ہے، حتیٰ کہ انہیں امارتِ اسلامیہ کے زیرِ اقتدار علاقوں میں داخل بھی نہیں ہونے دیا، جس کی تفصیلات ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر موجود ہیں؛ لیکن سوال یہ ہے کہ افغانستان کب تک خطے اور دنیا کے دوسرے ممالک کی خاطر قربانیاں دیتا رہے گا؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے اور دنیا کے ممالک پاکستان کی اس منافقت اور شرانگیزی کے خلاف متحد ہوں اور اس کے فوجی رجیم کو باور کرائیں کہ اس کے یہ مذموم منصوبے افغانستان کے بجائے خود اس کے داخلی حالات پر اثرانداز ہوں گے اور پاکستانی قوم میں تقسیم اور ملک میں بدامنی کو مزید سنگین کردیں گے۔ شر و فساد پھیلانے والے جن گروہوں، اجرتی عناصر اور اربکیوں کو ایک بار پھر اپنی بقا پاکستانی رجیم کی پشت پناہی میں دکھائی دے رہی ہے، انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ آج کا افغانستان جمہوری دور کا افغانستان نہیں، جہاں عالمی طاقتوں کے تباہ کن منصوبے تجربہ گاہ کی طرح آزمائے جاتے تھے۔ اب یہاں ایک ذمہ دار اور مقتدر نظام قائم ہے اور ہر قدم، بلکہ ہر حرکت کا حساب لیا جاتا ہے۔
بہتر یہی ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا کرتے ہوئے افغان سرزمین، عوام اور موجودہ استحکام کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوششیں ترک کردیں، دوسروں، بالخصوص پاکستانی رجیم کا دامن چھوڑ دیں اور اپنے ملک میں عزت و ذمہ داری کے ساتھ زندگی گزارنے کی لذت سے آشنا ہوں۔ بصورتِ دیگر وہ اپنے اور اپنے آقاؤں کے تمام ارمان ماضی کی طرح قبر میں لے کر جائیں گے۔
پاکستانی رجیم کو بھی چاہیے کہ دہشت گرد گروہوں اور مجرموں کی تربیت اور مالی معاونت کے بجائے اپنے داخلی حالات اور امن و امان پر توجہ دے اور اپنے عوام کے ساتھ بات چیت اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کرے؛ کیونکہ پاکستانی عوام بھی اب آئے روز فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کے جنازے اٹھتے نہیں دیکھ سکتے، اور نہ ہی پاکستانی ذرائع ابلاغ ان تمام خرابیوں اور بدامنی کو ہمیشہ چھپا سکتے ہیں جن کی نشر و اشاعت اور رپورٹنگ پر فوج نے سخت پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔




















































