گزشتہ ہفتہ ملک میں دو بڑی سکیورٹی کامیابیوں کا گواہ رہا، جن پر ہر افغان نے فخر کیا اور انہیں اپنے افتخار اور اقتدار کی صلاحیت کے مظہر کے طور پر دیکھا۔ ان کامیابیوں میں پہلی بدخشاں میں جمعہ خان فاتح کا سرِ تسلیم خم کرنا اور کابل لایا جانا تھا، جبکہ دوسری خودسر اور بدمعاش نام نہاد مزاحمت کار حسیب قوای مرکز کا مارا جانا تھا۔
ان دونوں واقعات کو ذرائع ابلاغ میں انتہائی نمایاں کوریج ملی اور عوام نے ان کا خیرمقدم کیا۔ پہلے واقعے میں جمعہ خان نے ماضی کے واقعات اور امارت اسلامیہ کی عسکری پالیسی کو فراموش کرتے ہوئے بدخشاں اور پھر اپنے علاقے نسی میں بغاوت اور مزاحمت کا ڈھنڈورا پیٹا اور بظاہر خود کو امارت اسلامیہ کا حامی اور پیروکار ظاہر کیا، لیکن ’’ہندوکش غگ‘‘ کی معلومات کے مطابق مذکورہ شخص شر و فساد کے گروہوں کی پشت پناہی سے بدخشاں میں بدامنی پھیلانے اور وہاں کانوں کی لوٹ مار یا مالی فوائد حاصل کرنے کی غرض سے امارت اسلامیہ کی پالیسی کے خلاف بڑے منصوبے رکھتا تھا۔
اس کا خیال تھا کہ وہ وہاں اپنے حامیوں اور لوگوں کے درمیان امارت اسلامیہ کی کسی بھی فوجی اور انٹیلی جنس کارروائی کے مقابلے میں ڈٹ سکے گا، لیکن بہادر اور دیندار انٹیلی جنس و سکیورٹی فورسز نے دیے گئے حکم کے مطابق اسے تیزی سے تلاش کرلیا اور دھمکیوں کے باوجود کابل طلب کر لیا، جہاں مولوی ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کے مطابق اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
دوسرے مرحلے میں بھی سابقہ جمہوریہ کے قومی سلامتی کے ادارے کا لاڈلا اور کابل کی گلیوں کا بدمعاش حسیب قوای مرکز، جس کے خلاف عوام کی شکایات بھی بڑی تعداد میں موجود تھیں، لیکن سابقہ جمہوریہ اور پنجشیری رہنماؤں نے اپنی بدمعاشیوں کے لیے اسے محفوظ رکھا ہوا تھا، سالنگ میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز کے گھات میں اپنے ساتھیوں سمیت مارا گیا۔ وہ ایسا بدمعاش تھا جس کے تعاقب میں سابقہ جمہوریہ کے دور میں کابل کے تمام پولیس اہلکار، انٹیلی جنس ادارے اور خصوصی دستے تھے، لیکن وہ اس پر قابو نہیں پاسکتے تھے۔ حتیٰ کہ ۱۸ سنبلہ، جو کمانڈر مسعود کے قتل کا دن ہے، وہ اپنے بدمعاش ساتھیوں کے ہمراہ مسلح جلوسوں میں نکلتا اور کابل میں غنڈہ گردی کرتا تھا۔ یہاں تک کہ کابل میونسپلٹی کی دیوار پر کابل انتظامیہ کے اُس وقت کے سربراہ اشرف غنی کی تصویر پر گولی چلانے اور اسے گرانے کی ویڈیو بھی موجود ہے۔ لیکن اسی ’’بڑے بدمعاش‘‘ کو سکیورٹی اور انٹیلی جنس کے مجاہدین کی ایک چھوٹی سی جماعت نے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اور اسے اس کے اعمال کی سزا دے دی۔
مندرجہ بالا دونوں مثالوں کے تجزیے کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوچکی ہیں، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب وہ دفاعی حالت سے نکل کر اقدامی حالت میں ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کے باعث افغانستان مخالف مذموم منصوبوں کو ملک کے اندر بھی اور بیرونِ ملک بھی ٹیکنالوجی کی مدد سے بروقت ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ اس بات کے ثبوت کے لیے بہت سی مثالیں موجود ہیں، جن میں سب سے نمایاں شر و فساد اور خوارج کے خلاف پاکستان اور قبائلی علاقوں میں کامیاب کارروائیاں ہیں۔
افغان انٹیلی جنس اور سکیورٹی فورسز کے پاس نہ صرف جنگ کے لیے جواز اور مشروعیت کی بلند ایمانی روح موجود ہے، بلکہ وہ علاقائی سطح پر جدید فوجی ٹیکنالوجی، ہتھیاروں اور تربیت سے بھی لیس ہیں، جس کے ذریعے وہ ہر طرح کے چیلنجز اور مشکل حالات میں صورتِ حال کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اب بھی قربانی اور شہادت کے لیے اسی طرح بے تاب ہیں، جس طرح قابض قوت کے خلاف جدوجہد کے دوران یہ جذبہ ان کے ساتھ تھا۔
جمعہ خان اور حسیب کے حالیہ واقعات شیطانی راستے کے تمام پیروکاروں کے لیے ایک ٹھوس سبق اور عبرت ہونے چاہییں، اور انہیں کبھی بھی دوسروں کے اکسانے پر افغانوں کے قتل اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی جرأت نہیں کرنی چاہیے۔ شر و فساد کے گروہ، خوارج اور سابقہ جمہوریہ کے فرار ہونے والے عہدیدار مختلف ناموں سے بیرونِ ملک موجود ہیں؛ ان کے بیٹے اور خاندان پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ ان کی جدوجہد صرف فیس بک اور ٹوئٹر تک محدود ہے۔ اب نہ ان کے پاس کوئی جواز ہے اور نہ حوصلہ، وہ محض بے بس عوام کی جانوں پر سیاست کررہے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ایسے عناصر اور گروہ اپنی مذموم کارروائیوں سے باز آجائیں اور خود کو افغان سکیورٹی فورسز کے غضب اور جان لیوا ضرب سے محفوظ رکھیں۔




















































