افغانستان اپنی تاریخ کے دوران بہت سے سخت اور تلخ ادوار سے گزرا ہے، لیکن یومِ آزادی کی یاد ہمیں یہ حقیقت یاد دلاتی ہے کہ ممالک کا مستقبل قوموں کی ارادے، شعور، تدبر اور ذمہ داری سے بھی وابستہ ہوتا ہے۔ افغانستان ایسا ملک ہے جس نے ہر ظالم، جابر اور قابض کے خلاف ہر سطح پر مزاحمت کی ہے۔
افغانستان نے تاریخ کے نشیب و فراز میں ہر استعمار کے دانت کھٹے کیے ہیں۔ چنگیز خان نے دنیا کو روند ڈالا تھا، لیکن افغانستان میں اسے تباہ و برباد کر دیا گیا۔ اسی طرح انگریز، (اتحادِ جماہیر)، روسی اور نیٹو والے آئے، لیکن شکست کے بعد ان کے تمام اتحاد بکھر گئے/تقسیم ہو گئے اور آپس میں الجھ گئے؛ آج ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ لیکن افغانستان آج بھی ایک بلند و مضبوط مزاحمت کے طور پر کھڑا ہے اور اپنی تاریخی آزادی اور فتوحات کے دنوں کو جوش و ولولے کے ساتھ مناتا ہے۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے ناراض ہوتا ہے تو اسے افغانوں کے ذریعے سزا دیتا ہے۔ تاریخی روایات میں آتا ہے کہ معجم البلدان میں یاقوت حموی (وفات ۶۲۶ھ) نے نقل کیا ہے:
«وقد روي عن شريك بن عبد الله أنه قال: خراسان كنانة الله، إذا غضب على قوم رماهم بهم».
ترجمہ: شریک بن عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: خراسان اللہ تعالیٰ کا ترکش اور تیر (کنانہ) ہے، جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر غضب فرماتا ہے تو خراسان کے لوگوں کو اس پر مسلط کر دیتا ہے۔
۲۸ اسد تاریخ کے صفحات سے
۲۸ اسد اور افغانستان کی آزادی کی ۱۰۷ویں سالگرہ افغانستان کی معاصر تاریخ کے ان اہم اور قابلِ فخر دنوں میں سے ہے جو ملک کی سیاسی آزادی دوبارہ حاصل کرنے کے تاریخی عمل سے وابستہ ہے۔ یہ دن ۲۸ اسد ۱۲۹۸ ہجری شمسی اور ۲۰ اگست ۱۹۱۹ء کے برابر سمجھا جاتا ہے اور افغانستان کے یومِ آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انیسویں صدی کے دوران افغانستان برطانوی ہندوستان اور تزاری روس، یعنی (روس کے بادشاہ یا شہنشاہ کا لقب، تزاری روس سے مراد زاروں کے زیرِ اقتدار سابقہ روس ہے)، کے درمیان عظیم مسابقت کے بیچ واقع تھا۔ افغانستان کے خارجہ تعلقات کے معاملات پر برطانوی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کے باعث ملک کی سیاسی حکمرانی اور خارجہ پالیسی کی مکمل آزادی کا مسئلہ افغان ملت کے لیے بنیادی مسائل میں شامل ہو گیا تھا۔
۱۹۱۹ء میں تیسری افغان، انگریز جنگ کے آغاز کے ساتھ افغانستان کی آزادی کا مسئلہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ امان اللہ خان نے اپنے اقتدار کے آغاز ہی سے افغانستان کی مکمل سیاسی آزادی کے مسئلے پر خصوصی توجہ دی۔ ان کی حکمرانی کے ابتدائی مہینوں میں افغانستان اور برطانوی ہندوستان کے درمیان تنازع جنگ میں تبدیل ہو گیا، لیکن بعد میں مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔
افغان ملت کے نام پیغام
۲۸ اسد کو صرف ایک تاریخی واقعے کی یاد تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ آزادی دراصل ایک اسلامی ملت کی سیاسی خواہش، قومی خودمختاری اور اپنے مستقبل کے بارے میں آزادانہ فیصلے کے تصور کا نام ہے۔ کوئی ملک اس وقت آزادی کی روح سے قریب ہوتا ہے جب وہ اپنے اسلامی اور قومی اقدار اور قومی مسائل کے بارے میں اپنے عوام کے مفادات اور اسلامی و قومی اقدار کی بنیاد پر فیصلے کرے؛ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں اپنا اسلامی اور قومی مؤقف رکھے اور اپنے عوام کی خوشحالی، سکیورٹی اور ترقی کے لیے اپنی اسلامی ارادے کو مضبوط کرے۔
اسی لیے ۲۸ اسد تاریخ پڑھنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے احساسِ ذمہ داری بھی بیدار کرتا ہے۔ افغانستان کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خودمختاری صرف نعروں سے محفوظ نہیں رہتی؛ بلکہ علم، اتحاد، احساسِ ذمہ داری، اقتصادی مضبوطی اور ملک کے اداروں کو مضبوط بنانے کے ذریعے برقرار رہتی ہے۔ آج جب افغان ۲۸ اسد کو یاد کرتے ہیں تو اس دن کا اصل پیغام صرف ماضی کی تاریخ پر فخر نہیں ہونا چاہیے؛ بلکہ مستقبل کی ذمہ داری بھی ہونا چاہیے۔ آزادی کا حقیقی احترام یہ ہے کہ نئی نسل اپنی تاریخ کو پہچانے، ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرے، ملک کی اسلامی اقدار اور قومی مفادات کے بارے میں گہری سوچ پیدا کرے اور افغانستان کی علمی، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
اس دن کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ آزادی کو صرف تاریخ میں نہیں منایا جانا چاہیے، بلکہ ذمہ داری قبول کرنے اور ملک کے مستقبل کی تعمیر میں اسے زندہ رکھا جانا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ۲۸ اسد کو افغانستان کی تاریخ کے شہداء، غازیوں اور پوری افغان مجاہد ملت کی تھکنوں اور قربانیوں کو اپنے عظیم دربار میں قبول فرمائے۔




















































