داعش کے منصوبے سے مغربی قوتوں کے مقاصد کی تفصیل
اول: مغربیوں کے اس دعوے کو تقویت دینا کہ اسلامی نظام اور خلافت ظلم، استبداد اور موجودہ دور کے لیے ناقابلِ عمل نظام ہے۔
مغرب نے داعش کے ذریعے اس مقصد کے حصول کے لیے درج ذیل اقدامات کیے:
الف۔ بیسویں صدی کے وسط کے بعد تقریباً تمام علماء وفقہائے اسلام نے غلامی کے خاتمے کی حمایت کی، کیونکہ اسلام وہ واحد دین ہے جس نے غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب دی اور اس عمل کے لیے عظیم اخروی اجر مقرر کیا ہے۔ جب عالمی نظام اس طرح تشکیل پایا کہ غلامی کا دور ختم ہو گیا تو اسلامی ممالک اور علماء نے بھی اس کی تائید کی۔ خلافتِ عثمانیہ کے آخری دور میں غلاموں کی خرید و فروخت کے کھلے بازار بھی بند کر دیے گئے۔
لیکن داعش نے ایک بار پھر اس سلسلے کو شروع کیا اور لوگوں کے سامنے یہ تصور پیش کیا کہ اگر خلافت قائم ہو گئی تو انسانوں کی خرید و فروخت کے بازار دوبارہ آباد ہو جائیں گے۔
ب۔ اسلامی نظام میں ان غیر مسلموں کے لیے، جو جنگجو نہ ہوں اور اسلامی نظام کے قوانین کو تسلیم کریں، مخصوص حقوق مقرر کیے گئے ہیں۔ داعش نے ان تمام اصولوں کو پامال کیا۔ عراق کے یزیدیوں، جو سیکڑوں سال تک مختلف اسلامی حکومتوں کے زیرِ سایہ زندگی گزارتے رہے تھے، کا قتلِ عام کیا، تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور پیدا کیا جائے کہ خلافت ظلم و استبداد کے سوا کچھ نہیں۔
ج۔ داعش پہلی ایسی جماعت بن گئی جس نے اپنے ظہور کے آغاز ہی سے تقریباً تمام اسلام پسندوں کے خلاف جہاد کے فتوے جاری کیے اور ان کے ساتھ جنگیں شروع کر دیں، تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ اگر خلافت قائم ہو گئی تو تمام مسلمان ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار ہو جائیں گے؛ لہٰذا اسلامی نظام موجودہ دور میں قابلِ عمل نہیں۔
د۔ داعش نے مسلمانوں کی سرزمین کو، کفار سے بھی پہلے، دارالاسلام اور دارالحرب میں تقسیم کر دیا۔ جن علاقوں پر اس کا قبضہ تھا، انہیں دارالاسلام قرار دیا، جبکہ جو علاقے اس کے زیرِ اقتدار نہیں تھے، انہیں دارالحرب قرار دے دیا؛ حالانکہ مسلمانوں کی سرزمین کا پانچ فیصد حصہ بھی اس کے قبضے میں نہیں تھا۔
سب سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ داعش نے مسلمان خواتین کے بارے میں بھی لونڈیوں کے احکام نافذ کیے، دنیا کے بیشتر مسلمانوں کو کافر قرار دیا اور ان کے مال و ناموس کو مالِ غنیمت سمجھا۔ ان اقدامات کا مقصد یہ تاثر پیدا کرنا تھا کہ گویا خلافت نہ صرف کفار بلکہ خود مسلمانوں کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے اور اس کا مفہوم ظلم و استبداد کے سوا کچھ نہیں۔
داعش نے خلافت اور اسلامی نظام کے نام پر، مغربی قوتوں کے اشارے پر، مسلمانوں کے اموال لوٹے، ان کی عزت و آبرو پامال کی اور قتلِ عام کیے۔ اگر بغور جائزہ لیا جائے تو داعش نے اپنے عروج کے دور میں کفار کو اتنا نقصان نہیں پہنچایا جتنا مسلمانوں کو پہنچایا۔ اس نے موصل میں مسلمانوں کے متعدد تاریخی آثار، مزارات اور دیگر تاریخی یادگاریں بھی تباہ کر دیں۔
داعش نے اپنے دورِ اقتدار میں قتل، لوٹ مار اور ظلم کے سوا کوئی ایسا عملی نظام پیش نہیں کیا جو اس کی حکمرانی کی کوئی مثبت صورت واضح کرتا۔ نہ اس نے مسلمانوں کے سامنے اسلامی معیشت اور سیاست کی کوئی عملی شکل پیش کی، نہ یہ واضح کیا کہ غیر محارب کفار کے ساتھ اسلامی نظام کے تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی، نہ ذمیوں کے حقوق کی وضاحت کی، نہ اسلامی جنگ کے اصول و ضوابط بیان کیے اور نہ یہ بتایا کہ خلافت انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کیا حکمتِ عملی رکھتی ہے۔
یہ تمام امور داعش کے پورے دورِ اقتدار میں مبہم اور غیر واضح رہے۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ داعش مغربی قوتوں کے اشارے پر انہی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے تھی، تاکہ لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور پختہ کیا جا سکے کہ خلافت دراصل ظلم، استبداد اور موجودہ دور کے لیے ایک ناقابلِ عمل نظام کا نام ہے۔
اور ایسا ہی ہوا، داعش کے ظہور سے پہلے بہت سے اسلامی ممالک میں، جہاں نوجوان سیکولرازم سے بیزار ہو چکے تھے، اسلامی نظام کے نفاذ کی خواہش روز بروز مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔
لیکن جب 2014ء سے 2018ء تک داعش کے منصوبے کی عملی صورت لوگوں کے سامنے آئی اور نوجوانوں کو یہ تاثر دیا گیا کہ یہی وہ خلافت ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں، تو بہت سے مسلم نوجوان اس فکر سے دور ہو گئے اور سیکولر نظریات کے حامیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ یہاں تک کہ عام مسلمانوں میں خلافت اور اسلامی نظام کا نام لینا بھی ایک طرح سے جرم سمجھا جانے لگا، اور ان ممالک میں بھی جہاں اسلام تیزی سے پھیل رہا تھا، اسلام کو لوگوں کے ذہنوں میں خوف، دہشت اور ظلم کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جانے لگا۔
مصر، تیونس، اردن اور ترکی میں داعش کے ظہور سے پہلے اسلام پسندوں کے پاس اسلامی نظام کے تصور کو عام کرنے کے لیے ایک مضبوط دعوتی مہم موجود تھی، اور بہت سے مسلمان نوجوان اسی نظریے کی طرف مائل تھے۔ لیکن داعش کی کارروائیوں اور اعمال کے بعد اسلام پسند نوجوانوں کی دعوت کمزور پڑ گئی اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور پیدا کیا گیا کہ اسلامی نظام اور خلافت، داعش کے مظالم، اس کی کارروائیوں اور استبداد ہی کا دوسرا نام ہیں۔
یوں داعش کی کارروائیوں نے سیکولر عناصر کو اسلامی نظام اور خلافت کے خلاف ایک مضبوط موضوع اور وافر پروپیگنڈا مواد فراہم کر دیا، اور وہ داعش کی کارروائیوں کو اسلامی نظام اور خلافت کے خلاف بطور دلیل پیش کرنے لگے۔




















































