جنوبی ایشیا کے اس بے چین اور بحران زدہ خطے میں، جہاں سرحدیں صرف کاغذ پر نہیں بلکہ انسانوں کی زندگیوں اور ان کے مقدر پر بھی کھینچی گئی ہیں، پاکستان کا فوجی رجیم ایک بار پھر اپنا اصل چہرہ بے نقاب کر رہا ہے۔ اس مرتبہ اس نے ایک ہمسایہ ملک کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک خطرناک اور بے پروا کردار کے طور پر ایسا قدم اٹھایا ہے جو آنے والے برسوں میں خطے کے استحکام کو سنگین خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔
سابقہ اربکیوں(امارتِ اسلامیہ کے مجاہدین سے لڑنے کے لیے امریکیوں کی طرف سے بنائے گئے مقامی لشکر) کو دوبارہ منظم کرنا، یعنی ان بے بنیاد اور شکست خوردہ عناصر کو دوبارہ استعمال کرنا جو کبھی افغانستان کے سابقہ نظاموں کی خدمت پر مامور تھے، اور انہیں خطے کے سکیورٹی شطرنج میں نئی مہروں کے طور پر استعمال کرنا، نہ صرف اسلام آباد کی تزویراتی بے بسی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ایک نئے اور خطرناک بحران کے جنم کی گھنٹی بھی بجاتا ہے۔ وہ اربکی جو کبھی غیر ملکی قابض قوتوں اور ان کے مقامی حامیوں کے شانہ بشانہ کھڑے تھے، آج پاکستان کے فوجی رجیم کے ہاتھوں تفرقے، انتشار اور بدامنی کے آلے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
پاکستان کا فوجی رجیم، جس کا داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور تربیت کے حوالے سے ایک طویل سابقہ رہا ہے، اس بار اربکیوں کے نیٹ ورک کو دوبارہ فعال کرکے عدم استحکام کی ایک نئی، مگر پہلے سے آزمودہ حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ یہ خطرناک کھیل، جو اطلاعات کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے خفیہ تربیتی مراکز میں جاری ہے، محض افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش نہیں بلکہ پورے خطے، عالمی سلامتی اور حتیٰ کہ پاکستان کے داخلی استحکام کو بھی انتشار سے دوچار کرنے کی کوشش ہے۔
تشویش ناک امر یہ ہے کہ یہ جنگجو، عام تاثر کے برخلاف، کسی منظم اور مضبوط ڈھانچے کی حامل نہیں ہیں؛ اس کے باوجود انہیں خطے اور دنیا کے لیے ایک خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ عناصر پاکستانی فوج کی وسیع حمایت کے سائے میں بتدریج مگر مسلسل خطے کے سیاسی استحکام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں اور تفرقے و انتشار کی زہریلی حکمتِ عملی کے ذریعے خطے کے وجود پر گہرے زخم لگا رہے ہیں۔
اس موضوع کی اہمیت اس امر میں مضمر ہے کہ پاکستان نے اس اقدام کے ذریعے ایک خطرناک کھیل کی تمام حدود بھی پار کر دی ہیں اور ایسے عناصر کو پناہ فراہم کی ہے جن کا ماضی ظلم، جرائم اور انتشار کے سوا کسی قابلِ ذکر کارنامے سے عبارت نہیں۔ افغانستان میں ان گروہوں کی تاریخ، بالخصوص دورِ جمہوریت کے تجربات، واضح طور پر بتاتے ہیں کہ یہ کبھی بھی مرکزی حکومت کے مکمل کنٹرول میں نہیں رہے، بلکہ خودسر مسلح عناصر کی حیثیت سے ریاستی عمل داری کو کمزور کرتے اور عام شہریوں کو اذیت و تشدد کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
اب جبکہ یہ فرار شدہ اور شکست خوردہ عناصر پاکستانی خفیہ اداروں کی سرپرستی میں دوبارہ اکٹھے کیے جا رہے ہیں، تو یہ نہ صرف افغانستان کے خلاف ایک خطرناک ہتھیار بن سکتے ہیں بلکہ پاکستان اور پورے خطے کے لیے بھی ایک سنگین سکیورٹی چیلنج میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ بلوچستان میں ان عناصر کی موجودگی کے خلاف عوامی سطح پر ہونے والے وسیع احتجاج اور ردِعمل کی اطلاعات اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ خود پاکستان کے اندر بھی اس منصوبے کو بڑھتی ہوئی مخالفت کا سامنا ہے۔ یہ احتجاج اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ اس بحران کا دائرہ بہت جلد محض ایک سکیورٹی منصوبے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کے سیاسی استحکام کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بن جائے گا۔
دوسری جانب، پاکستان کا یہ اقدام صرف افغانستان اور بلوچ عوام کے لیے خطرہ نہیں بلکہ خطے کے استحکام اور عالمی سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔ ریاستی قوانین اور قانونی دائرۂ اختیار سے باہر غیر ذمہ دار مسلح گروہوں کی تربیت ہمیشہ ایسے بے قابو اور خطرناک عناصر کو جنم دیتی رہی ہے جنہیں کسی بھی وقت مختلف فریق اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ ایسے گروہ جو اخلاقی اور انسانی اقدار سے وابستگی نہیں رکھتے اور محض مالی مفادات اور ذاتی مراعات کی بنیاد پر سرگرم رہتے ہیں، بآسانی بین الاقوامی انتہا پسند نیٹ ورکس اور گروہوں کا حصہ بن سکتے ہیں اور خطے میں انتہا پسندی کی ایک نئی شکل کو جنم دے سکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان جس چیز کی پرورش کر رہا ہے، وہ کوئی قابلِ کنٹرول مسلح قوت نہیں بلکہ ایسی آگ ہے جس کے شعلے بہت جلد اسی ملک اور اس کے ہمسایہ ممالک کے دامن تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ یہ پالیسی، جو دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کے ماضی کے ناکام تجربات کو دہرا رہی ہے، اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ اسلام آباد نے اب بھی تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اسے اب بھی یہ گمان ہے کہ اپنے مفادات کی خاطر پروان چڑھائے گئے اس خطرے کو مختصر مدت تک اپنے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن وہ اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ یہی مصیبت ایک دن اپنے پالنے اور گود لینے والے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
آخر میں، پاکستانی فوجی رجیم کے اس اقدام کو محض ایک سکیورٹی آپریشن کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ اسے خطے کی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے اور سیاسی استحکام کو کمزور کرنے کے ایک وسیع تر منصوبے کے طور پر سمجھا جانا چاہیے۔ یہ خطرناک کھیل، جو اسلام آباد کی دوغلی پالیسی اور دہشت گردی کی خفیہ سرپرستی سے جڑا ہوا ہے، عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام رکھتا ہے: جو ممالک دہشت گردی کو اپنی خارجہ پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کرتے ہیں، وہ عالمی امن و سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بنے رہتے ہیں۔
بدعنوان اور بدنام اربکیوں کو اس گھناؤنے کھیل کے نئے مہروں میں تبدیل کرنے کی کوئی توجیہ نہیں ہو سکتی؛ بلکہ یہ پاکستان کے فوجی حکمرانوں کی بے بسی اور مجبوری کا اظہار ہے، جو ہر ممکن طریقے سے اپنے اثر و رسوخ اور اقتدار کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ منصوبہ بھی ماضی کے ایسے ہی منصوبوں کی طرح ناکامی سے دوچار ہوگا، اور یہی پروان چڑھایا ہوا عفریت ایک دن پاکستان کی اپنی سلامتی اور پورے خطے کے استحکام کے لیے سب سے بڑا سکیورٹی خطرہ بن جائے گا۔




















































