پاکستانی فوجی رجیم نے ایک بار پھر جرائم کا راستہ اختیار کیا، افغانستان کے عام لوگوں، ان کے گھروں اور علاقوں کو جرائم کا نشانہ بنایا۔ یہ کتنیویں مرتبہ ہے کہ وہ ایسے جرائم اور وحشتوں کو دہرا رہا ہے۔ ان جرائم اور وحشتوں کی وجہ کیا ہے، اور اس کی قیمت اور حساب کس طرح ہوگا؟
پاکستانی فوجی رجیم اپنی بری سیاسی، فوجی اور اقتصادی پالیسی کے باعث اندرونی عوامی اور سیاسی جماعتوں کے اختلافات سے دوچار ہے، جس کے نتیجے میں مقامی اور انتظامی اقتدار سیاسی جماعتوں کے درمیان تقسیم اور متفرق ہو چکا ہے۔ فوج کا اندرونی انتظام مختلف ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہداف اور منصوبوں کا شکار ہو چکا ہے، اسی وجہ سے اس کا اثر، قوت اور اقتدار کا جزیرہ تباہ ہو چکا ہے۔
اب مذکورہ رجیم داخلی بحران اور زوال کے اثرات ختم کرنے کے لیے اس امر پر مجبور ہے کہ داخلی استحکام کی خاطر جھوٹے طور پر بیرونی عوامل کو موردِ الزام ٹھہرائے، تاکہ سیاسی اور عوامی بے اعتمادی کو کسی حد تک قابو میں رکھا جا سکے۔ آپ نے گزشتہ دنوں فوجی رجیم کے جھوٹے دعوے دیکھے کہ افغانستان نے ڈرون حملے کیے ہیں، حالانکہ حقیقت میں افغانستان کی جانب سے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ دعویٰ پہلے ہی اس لیے منصوبہ بندی کے ساتھ کیا ہے تاکہ داخلی جماعتوں کے مظاہروں کے دوران ان پر ڈرون حملے اور خود اپنے ہی ہاں بارودی سرنگوں کے دھماکے کروائیں، پھر اس کا الزام افغانستان پر عائد کریں اور عوام اور سیاسی جماعتوں سے مخاطب ہو کر کہیں کہ ہم نے جو جرم کیا ہے، وہ حق بجانب ہے۔
دلچسپ بات ہے!
وہ عقل اور تصور سے بالاتر، مضحکہ خیز پالیسیاں اس طرح بناتے ہیں کہ آپ سوچیں گے گویا وہ عقل مند ہیں اور دوسرے ان کے ان منافقانہ اقدامات اور پالیسیوں کو سمجھتے ہی نہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے ناکام شر و فساد پر مبنی گروہ تشکیل دیے، تاکہ ایک طرف افغانستان کو نقصان پہنچایا جائے اور غیر محفوظ بنایا جائے اور دوسری طرف دنیا اور عوام کو یہ دکھایا جائے کہ افغانستان دہشت گرد گروہوں کا گڑھ ہے۔
پاکستانی فوجی رجیم کی جانب سے جرائم کا تسلسل اسی طرح جاری ہے, افغانستان کے مظلوم عام مسلمانوں کو شہید کرتی ہے اور ان کے گھروں کو بارود سے جلا ڈالتی ہے، اور اس عمل کو اپنے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دیتی ہے۔ کئی ایسے عوامل ہیں جنہوں نے مذکورہ رجیم کو اس طرح کے اقدامات کرنے پر مجبور کیا:
داخلی زوال اور سیاسی کمزوری: یہ وہ عامل ہے جس نے مذکورہ رجیم کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے، وہ کسی بھی عوامی حمایت سے محروم ہو چکی ہے، اس کے پاس صرف جبر اور طاقت کا راستہ باقی رہ گیا ہے۔
بیرونی معاہدے: جب اس رجیم نے کسی بیرونی ملک کے ساتھ فوجی اور دفاعی معاہدہ کیا ہے اور پھر فریقِ مقابل جنگ اور لڑائی سے دوچار ہوا ہے، تو پاکستانی رجیم نے دفاعی معاہدے کے وعدے پورے کرنے کے بجائے خود کو افغانستان اور ہندوستان کے ساتھ مصروف کر لیا، تاکہ اپنے اس معاہدے، جو اس نے دفاع کے لیے کیا ہے، میں خود ملوث نہ ہو۔
اس نے پہلی مرتبہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ کیا، ربِ تعالی کی تقدیر کے فیصلے تھے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی، پاکستانی فوجی رجیم نے فوراً ہندوستان پر حملہ کر دیا، تاکہ سعودی عرب کو دکھا سکے کہ ہم تو ہندوستان کے ساتھ الجھے ہوئے ہیں۔ اب اس نے پھر مکہ کے دفاع کے نام پر معاہدہ کیا، ربِ تعالی کا امتحان ہے، یمن کے حوثی اٹھ کھڑے ہوئے، انہوں نے سعودی عرب پر حملہ کیا اور آج پاکستان اٹھ کھڑا ہوا، اس نے مظلوم افغانوں کے گھروں اور عمارتوں کو دہشت گردی اور جنگ کے نام پر نشانہ بنایا اور اپنے ملک کے اندر انٹیلی جنس نوعیت کی، سازش پر مبنی بدامنی کو گھنٹوں تک جاری رکھا، تاکہ سعودی عرب کے سامنے ملامت کا مستحق نہ ٹھہرے اور اسے دکھا سکے کہ میں داخلی اور بیرونی جنگوں کا شکار ہوں۔
اور دوسرے قدم میں داخلی جنگوں اور بدامنی کے بارے میں عوام کو بالواسطہ طور پر یہ آگاہی دے کہ تمام داخلی بدامنی اور جنگوں کا سبب افغانستان ہے۔
خبردار!
افغانستان، اس کے عوام اور اس کی سرزمین پاکستان کے منافقت اور دوغلے پن کو چھپانے اور استعمال کرنے کے ذرائع نہیں ہیں کہ وہ ان کے ذریعے خود کو گناہ گاری اور کمزوری سے بچائے اور جو اس کی مرضی ہو، اسی طرح دہراتا رہے۔ افغانستان کا اب ایک مالک ہے، آج وہ سب کچھ موجود ہے جس کے ذریعے ہم مذکورہ رجیم کے جرائم اور وحشتوں کا بھرپور جواب دے سکتے ہیں اور بیک وقت شر اور فساد کی جڑیں اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ مذکورہ رجیم کی اہم تنصیبات، فوجی بنیادی ڈھانچے، پاکستان کے ترقی یافتہ آلات اور گاڑیوں اور اہم شہری بنیادی ڈھانچے کے کوارڈینیٹس ہم نے پہلے ہی حاصل کر لیے ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے کی صورت میں امارت اسلامیہ افغانستان کی فضائی قوت کی جانب سے شدید حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔ اس وقت اسے معلوم ہوگا کہ جرم اور منافقت کو دہرانے کا حساب کس طرح اور کتنا بھاری ہوتا ہے۔




















































