پاکستانی فوج اور حکومت گزشتہ ستر سال سے اپنی قوم کے ساتھ برسرِ جنگ ہے، اور اس جنگ کی بنیادی وجہ پاکستان میں غیر منصفانہ طرزِ حکمرانی کو جاری رکھنا ہے۔ اگر پاکستان کے اسٹریٹیجک محلِ وقوع، صنعت اور پیداوار کو دیکھا جائے تو یہ ملک معاشی لحاظ سے ایک مضبوط ملک ہونا چاہیے تھا، مگر اس نے پورے بلوچستان، سندھ اور پشتونخوا کے معدنی ذخائر نکال لیے، اس کے باوجود فوجی رجیم دن بہ دن قرضوں میں ڈوبتی جا رہی ہے۔
اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستان میں پیسہ نہیں آتا، بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ وہاں مافیا کا غلبہ ہے، ایک طرف سے پیسہ آتا ہے، مافیا کے ہاتھ میں پہنچتا ہے اور دوسری طرف دوبارہ نکل جاتا ہے، قوم کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔ پس فوجی رجیم کی اندرونی حقیقت اس طرح کی ہے۔
اگر ایسی صورتِ حال میں پاکستانی عوام کو یہ احساس ہو جائے کہ ہم پر ایک مافیائی گروہ حکمرانی کر رہا ہے تو ممکن ہے کہ سب بغاوت کی راہ اختیار کر لیں۔ اس لیے کہ پاکستان میں کوئی قومی عوامی تحریک برپا نہ ہو، پاکستان میں حکمران مافیائی گروہ کوشش کرتا ہے کہ قوم کو کسی خارجی مسئلے میں مصروف رکھا جائے، تاکہ وہ اپنی اندرونی مشکلات کی طرف متوجہ نہ ہو۔ اسی لیے جب بھی افغانستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا موضوع گرم ہوتا ہے، مافیائی گروہ افغانستان پر حملے کرتا ہے، تاکہ جنگ شروع ہو اور مذاکرات کو سبوتاژ کیا جا سکے۔
افغانستان کے ساتھ جنگ میں دونوں قوموں کے بہت سے نقصانات ہیں، لیکن مافیائی گروہ کے بہت سے فوائد ہیں، جن میں سے بعض کا ذیل میں ذکر کرتے ہیں:
۱ ـ اگر جنگ جاری رہے تو مافیائی گروہ کا ظلم، استبداد اور فساد جنگ کے دھوئیں میں چھپا رہے گا۔
۲ ـ اگر جنگ جاری رہے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مافیائی گروہ کا کاروبار چلتا رہے گا۔
۳ ـ اگر جنگ جاری رہے تو فرضی سرحدی لکیر سے ملحقہ علاقوں کے لوگ اور قبائل جنگ میں مصروف رہیں گے، جبکہ مافیائی گروہ ان کے معدنی ذخائر لوٹنے کے لیے فارغ رہے گا۔
۴ ـ اگر جنگ جاری رہے تو فوجی رجیم کا حکمران مافیائی گروہ اپنی چوریوں کو جنگ کے اخراجات کے نام پر بہتر انداز میں چھپا سکے گا۔
جنگ میں اس طرح کے اور بھی بہت سے فوائد مافیائی گروہ کو حاصل ہیں، جن کی تفصیل میں نہیں جاتے، لیکن اس میں دونوں طرف کے عوام، بے چارے لوگ غرق ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے مسلمان عوام کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کی حالیہ جارحیتیں ایک طرف عام عوام کے مفاد اور خواہش کے مطابق بھی نہیں ہیں، بلکہ یہ حکمران مافیائی گروہ کے منصوبے ہیں جو نافذ کیے جا رہے ہیں اور ان کا فائدہ بھی انہی کو پہنچ رہا ہے۔




















































