لہذا صلحِ حدیبیہ اِس کی سب سے بڑی تاریخی اور شرعی دلیل ہے، جہاں اللہ کے رسول ﷺ نے ایک ایسی صلح فرمائی، جس کی بعض شرائط ‘بظاہر دب کر قبول کی گئی’ محسوس ہوتی تھیں… لیکن اِسی امن کے دَور نے اسلام کی فکری اور عددی ترقی کے وہ راستے کھولے، جو سالہا سال کی جنگ نہ کھول سکی تھی۔
چناں چہ صلحِ حدیبیہ اور فتحِ مکہ کے درمیان کا عرصہ صرف دو سال تھا، لیکن اس مختصر امن کے دور میں جتنے لوگ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے، وہ پچھلے 18 سالوں کی جدوجہد سے کہیں زیادہ تھے۔
اسی طرح فقہی اعتبار سے ایک اسلامی ریاست کا یہ خودمختارانہ حق اور شرعی اختیار ہے کہ وہ امت کے وسیع تر مفاد، معاشی استحکام اور دشمن کی جارحیت کو روکنے کے لیے عدمِ مداخلت کا معاہدہ کرے۔
یہ معاہدہ ‘جہاد کی نفی’ نہیں، بلکہ جہاد کے رُخ کو تعمیرِ نو اور ایک مثالی نظامِ عدل کے قیام کی طرف موڑنا ہے۔ کیوں کہ ایک مستحکم، پرامن اور خود کفیل اسلامی ریاست کا وجود ہی اصل میں اسلام کی سب سے بڑی ‘نرم قوت’ (Soft Power) ہے۔
اس تناظر میں جب ہم امارتِ اسلامی افغانستان کے حالیہ موقف اور دوحہ معاہدے کو دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ‘اگست 2021 سے جاری امن کے اِس دور نے وہ ثمرات پیدا کیے ہیں، جو جنگ کے ہنگاموں میں ناممکن تھے۔
یاد رکھیں کہ جنگ ایک ایسی آگ ہے، جو دوست اور دشمن کی تمیز کیے بغیر معاشرے کے بہترین اور ذہین دماغوں کو نگل لیتی ہے۔ اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل وہ افراد… جو امن کے زمانے میں ریاست کے انتظامی ڈھانچے، معاشی پالیسیوں اور علمی و شرعی اجتہاد کے ذریعے قوم کو ناقابلِ تسخیر بنا سکتے تھے، جنگ میں موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اور ایسا دشمن… جو آپ کی نظریاتی، تَہذیبی، ثقافتی اور عالمگیر فکر کا بھی دشمن ہو… جنگ میں اُس کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ آپ کے ذہین دماغوں کو ختم کر دے۔ جیسا کہ عراق کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اسی طرح پاکستانی ایجنسیوں نے پاکستان کے ذہین فکری دماغوں کو قتل کر دیا، امریکا کو فروخت کر دیا یا اپنے ٹارچر سیلوں میں ڈال کر اُن پر اتنا بدترین تشدد کیا گیا کہ وہ یا تو وہیں مَر گئے یا دماغی طور پر ہمیشہ کے لیے مفلوج اور ناکارہ ہو کر رہ گئے۔
لہذا امن ایسے فکری و مضبوط دماغوں کو محفوظ کر کے اُنہیں تخریب کے بجائے تعمیرِ انسانیت میں جدوجہد اور کوشش کرنے کا موقع دیتا ہے۔ جب لوگ امن، عدل اور معاشی استحکام دیکھتے ہیں تو وہ اس نظام کی طرف خود بخود کھینچے چلے آتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر کے مخلص مسلمان افغانستان کے نظام کو ایک ‘رول ماڈل’ کے طور پر دیکھ رہے اور اپنے ہاں بھی اسی نظام کی تمنا کر رہے ہیں۔ جب کہ امریکا سے 20 سالہ جنگ کے دور میں یہی لوگ موت اور تباہی کے خوف سے امارت اسلامی کا ساتھ دینے سے بھی کتراتے تھے۔
اسی طرح امارت نے سُود سے پاک شرعی معیشت کو کامیابی سے چلا کر عالمی باطل کے اس طلسم کو پاش پاش کر دیا ہے کہ ‘معیشت سود کے بغیر نہیں چل سکتی۔’
امن کے دور میں امارت اسلامی کی یہ ایک ایسی خاموش عملی دعوت ہے، جو ہزاروں وعظ و نصیحت سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ جب کہ اگر امارت جنگ میں ہی رہتی تو افغانستان سے سُودی نظام کا خاتمہ تقریباً ناممکن تھا۔
سمجھنا چاہیے کہ اللہ تعالی کا سود کو ختم کرنے کا عظیم الشان حکم صرف امن کی وجہ سے عملی صورت میں دیکھنے کو مل سکا ہے۔ قرآن و سنت کی صداؤں کو دوبارہ آزادی نصیب ہوئی۔ مساجد و مدارس کا نظام دوبارہ بحال ہوا۔ اور اسلام پسندی کی ہوائیں دوبارہ چلنا شروع ہوئیں۔
اسی ضمن میں یہ یاد رکھیں کہ افغانستان میں امریکی موجودگی کے دوران مساجد کے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں تھی، اور اب تمام نمازیں لاؤڈ اسپیکر میں ادا کی جاتی ہیں، جس سے مسلمانوں کو معلوم ہو جاتا ہے کہ نماز کی جماعت کھڑی ہو گئی ہے اور وہ اپنے کام کاج چھوڑ کر مسجد کا رُخ کر لیتے ہیں۔
اسی طرح امن کی وجہ سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا شعبہ زندہ ہوا ہے۔ اُن ‘حدود اللہ’ کا قیام عمل میں آیا ہے، جن کے بارے میں ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ‘زمین پر ایک حد کا قائم ہونا اتنا بابرکت ہے کہ کئی سالوں کی بارش زمین کو اتنا بابرکت نہیں بنا سکتی۔’
جب کہ جنگ میں یہ سب نہ ہو پاتا، بلکہ امریکا کی تو جنگ ہی اس بات پر بھی تھی کہ ‘طالبان اسلامی سزائیں کیوں نافذ کرتے ہیں…؟’
اگرچہ اسلامی سزائیں اسلامی چہرے کا مکمل خدوخال نہیں، بلکہ وہ ایک معاشرتی امن کی بحالی کی ضرورت ہیں۔
اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے تو وہ صرف حدود اللہ یعنی اسلامی سزاؤں پر نہ ٹھہر جائے، بلکہ وہ اسلام کی تمام تعلیمات اور عقائد و احکام اور اُن کی حکمتوں کا مطالعہ کرے۔
مزید یہ کہ اسی امن کی بدولت سفارتی ذرائع سے گوانتاناموبے سے اُن قیدیوں کی رہائی ممکن ہوئی، جن کا چھڑانا جنگ کی صورت میں ناممکن یا انتہائی دشوار ہوتا۔
چوں کہ اسلام میں انسانی جان کی حرمت اتنی مقدم ہے کہ ‘جنگ کی حالت میں بھی دشمن تک کے غیر مسلح افراد، عورتوں اور بچوں کے تحفظ کا حکم دیا گیا ہے، چناں چہ جو امن لاکھوں مسلمانوں کی جان و مال اور عزت کی حفاظت کا ضامن بنے، وہی عینِ منشائے الٰہی ہے۔ ان شاء اللہ
اسی طرح معاشی اور اقتصادی نکتہ نظر سے بھی یہ دوحہ معاہدہ ایک عظیم فتح ہے۔ اگر جنگ جاری رہتی تو آج افغانستان میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر، بین الاقوامی تجارت اور معاشی ترقی کے منصوبے صرف کاغذوں تک محدود ہوتے۔
اس شرط کے مطابق جہاں ایک طرف امارت نے یہ معاہدہ کیا ہے کہ اس کی زمین امریکا کے خلاف خلاف استعمال نہیں ہوگی، وہیں اس شرط نے بجائے خود دشمن کے بھی ہاتھ باندھ دیے ہیں اور اُس سے افغانستان میں مداخلت کا وہ اخلاقی اور سیاسی جواز چھین لیا ہے، جس کی بنیاد پر وہ دہائیوں سے افغانستان پر قابض تھا۔
لہٰذا افغان سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا عہد کوئی کمزوری یا جــہـــاد پر سمجھوتہ نہیں… بلکہ ایک ایسی مدبرانہ سیاسی و سفارتی حکمتِ عملی ہے، جس نے اسلام کے پُرامن اور عادلانہ چہرے کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا ہے۔ اسی معاہدے کی بدولت اقتدار میں آنے والی امارت اسلامی کے طرزِ عمل سے دنیا کو معلوم ہوا ہے کہ ‘واقعی اسلام تو بہت بابرکت نظام ہے’۔ جب کہ جنگ میں ایسا ممکن نہ ہو پاتا…
اوپر مذکور تفصیل سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امن کے زمانے میں دکھائی جانے والی فکری، معاشی اور سفارتی سرگرمیاں میدانِ جنگ کے بارود سے کہیں زیادہ دُور رَس اور پائیدار اثرات رکھتی ہیں۔ یہی وہ دَور ہے، جب اسلام ایک غالب تہذیب کے طور پر اپنی اصل شان و شوکت کے ساتھ اُبھر کر سامنے آتا ہے۔




















































