تاریخ بعض اوقات اپنے سبق اتنے واضح اور لہو رنگ کر کے لکھتی ہے کہ انسان چاہ کر بھی ان سے آنکھیں نہیں چرا سکتا۔
جب ہم 24 اسد (15 اگست) کے دن افغان سرزمین پر بدلتے ہوئے سیاسی و عسکری حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ذہن خود بخود اُس بنیادی سوال کی طرف لوٹتا ہے کہ:
آخر آزادی کسی قوم کے لیے اتنی ناگزیر کیوں ہے؟ اور کیوں کسی غیر قوم یا بیگانوں کا سیاسی، معاشی اور حکومتی تسلط کسی بھی زندہ معاشرے کے لیے زہرِ قاتل سے کم نہیں ہوتا؟’
اس سوال کا جواب سمجھنے کے لیے کسی نظریاتی بحث کی ضرورت نہیں، بلکہ قندوز کے اُس خونی سانحے کو یاد کر لینا ہی کافی ہے، جو 3 اکتوبر 2015ء کو پیش آیا۔
اُس تاریک رات جب پورا شہر جنگ کے خوف میں مبتلا تھا، ‘ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز’ (MSF) کا ہسپتال ہی معصوموں کی واحد پناہ گاہ تھا۔
تاہم جب امریکی AC-130 گن شپ نے اس ہسپتال کو نشانہ بنانا شروع کیا تو نہ تو وہاں لگی بین الاقوامی علامتیں کام آئیں اور نہ ہی وہ تمام کاغذات… جن پر اس عمارت کا ایک ایک انچ درج تھا۔
ایک گھنٹے تک بمباری جاری رہی، آپریشن تھیٹر میں بے ہوش پڑے مریض وہیں جل کر کوئلہ بن گئے اور بھاگتے ہوئے ڈاکٹروں پر آسمان سے آگ برسائی گئی۔ 42 انسانوں کے جانی نقصان کو بعد میں محض ایک ‘فنی غلطی’ کا نام دے کر فائل بند کر دی گئی۔
یہ دردناک واقعہ محض ایک اتفاق یا عسکری ناکامی نہیں تھا، بلکہ یہ اس حقیقت کی ننگی تصویر تھی کہ جب طاقت کی باگ ڈور غیروں کے ہاتھ میں ہو تو محکوم قوم کا خون ان کے لیے کتنا سستا ہوتا ہے۔
جب بھی کوئی غیر ملکی طاقت کسی ملک پر معاشی، سیاسی یا عسکری غلبہ حاصل کرتی ہے تو وہ ترقی اور جمہوریت کے دل کش نعروں کے پیچھے اپنے مفادات چھپاتی ہے۔ اس تسلط کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مقہور قوم کی عزت، آبرو اور انسانی حقوق کی حیثیت صفر ہو کر رہ جاتی ہے۔
اسلامی طرزِ فکر اس بات کی سختی سے نفی کرتا ہے کہ مسلم معاشرے اپنے فیصلوں، معیشت اور نظامِ حکومت کے لیے غیر اسلامی یا غیر ملکی طاقتوں کے دستِ محتاج بنیں۔
قرآن اور سنّت کا اصل فلسفہ ہی انسان کو غیروں کی بندگی اور نفسیاتی غلامی سے آزاد کر کے ایک باوقار اور خود دار زندگی دینا ہے۔ کسی غیر کا سیاسی غلبہ مسلمان قوم سے اس کی ترجیحات طے کرنے کا حق چھین لیتا ہے، جب کہ معاشی تسلط اسے ایسی عالمی منڈیوں اور قرضوں کے جال میں جکڑ دیتا ہے، جہاں سے نکلنا ممکن نہیں رہتا۔
جب تک کوئی ملک اپنے معاشی اور سیاسی فیصلوں میں مکمل خود مختار نہ ہو… اس وقت تک اس کا دین، اس کا کلچر اور اس کی آئندہ نسلیں کبھی محفوظ نہیں ہو سکتیں۔
24 اسد امریکی شکست کا محض ایک فوجی انخلا کا دن نہیں ہے، بلکہ یہ اُس نظریے کی فتح کا دن ہے کہ آزادی کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ بیرونی فورسز کی سائے میں ملنے والا بظاہر سکون ایک عارضی سراب ہوتا ہے، جو بالآخر قندوز جیسے المیوں پر ختم ہوتا ہے۔
حقیقی حریت کا مقصد صرف غیر ملکی افواج کو رخصت کرنا نہیں، بلکہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر ایسا مضبوط، عادلانہ اور خودکفیل نظام قائم کرنا ہے، جس میں کسی بیرونی طاقت کو دوبارہ مداخلت کی جرات نہ ہو سکے۔
قومیں غیروں کے رحم و کرم پر جی کر کبھی ترقی نہیں کرتیں۔ ان کی بقا اور عزت صرف اور صرف اپنی حریت، خودداری اور اپنے اصولوں پر قائم رہنے میں پوشیدہ ہے۔




















































