دوحہ معاہدے میں امارتِ اسلامی افغانستان اور امریکا کے مابین طے پانے والی اس شرط کی شرعی و سیاسی حیثیت کہ: ‘افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا’…
کو سمجھنے کے لیے یہ بنیادی سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ:
‘کیا غیر موقّت (غیر معینہ) مدت کے لیے کفر کے خلاف جنگ بند کرنا یا عدمِ مداخلت کا معاہدہ کرنا شریعتِ اسلامیہ کی رُو سے جائز ہے؟’
اس سوال اور اس سے جڑے تصورات کا درست تجزیہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جذباتی سطحیات سے بالاتر ہو کر اسلامی شریعت کے مقاصد، سیرتِ طیبہ بالخصوص صلحِ حدیبیہ کے مدبرانہ اسلوب، فقہی رخصتوں اور موجودہ دور کے جیو پولیٹیکل حقائق کا ایک مجموعی اور معروضی جائزہ لیا جائے، تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ اسلام میں جنگ محض ایک عارضی ضرورت ہے، جب کہ امن وہ حقیقی اور دائمی مقصد ہے، جس میں ایک ریاست اپنی فکری، معاشی اور انتظامی صلاحیتوں کو استوار کرتی ہے۔
چناں چہ اس جائزے سے پہلے معاہدے کی شِق اور چند نکات سمجھ لینا ضروری ہے؛
معاہدے کی شِق کے مطابق معاہدے میں لکھا ہے کہ:
‘کوئی بھی امارتِ اسلامی افغانستان کی سرزمین کو امریکا اور اُس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں کر سکتا اور نہ ہی امارتِ اسلامی کسی کو اِس کی اجازت دے گی۔’
اب جو کہا جاتا ہے کہ ‘اس شرط کے لیے اسلام میں کوئی دلیل ہے کہ غیر موقّت مدت کے لیے کفر کے خلاف جنگ بند کی جائے؟ یعنی یہ شرط تو بظاہر قیامت تک جاری رہنے والے جہاد سے کنارہ کش ہونے کے مترادف محسوس ہوتی ہے۔’
اس حوالے سے یاد رہے کہ ‘امارت اسلامی خود اس کی پابند نہیں۔ یعنی امارت اسلامی کو ‘ضرورت’ پڑنے پر اپنے دفاع کے لیے اپنی زمین استعمال کرنے کا مکمل قانونی، شرعی اور منطقی حق حاصل ہے اور کوئی طاقت امارت کا یہ حق نہیں چھین سکتی۔’
لہذا، اس سے ‘غیر موقت جنگ بندی کا نکتہ پیدا کرنا درست اور معاہدے کی رُوح کے مطابق نہیں ہے۔ کیوں کہ ‘معاہدے کے مطابق افغانستان کی زمین امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا’ اور ‘غیر موقت جنگ بندی’ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ دونوں کو آپس میں خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔
اب چند نکات:
اول یہ کہ ‘اسلام کی نظر میں جنگ ایک وقتی ضرورت ہے، جب کہ امن ایک دائمی مقصد ہے۔’
دوم یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ‘جہاد قیامت تک جاری رہے گا، لہذا یاد رہنا چاہیے کہ جہاد کا مقصد فتنہ ختم کرنا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں بھی ذکر ہوا ہے کہ ‘وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ…’
یعنی اسلام کی نظر میں بدامنی اور فساد… چاہے وہ بداعمالیوں کی وجہ سے ہو یا کفر کی وجہ سے ہو، ایک فتنہ ہے۔ اور اس کے خاتمے کے لیے جہاں جہاں جہاد کی ضرورت ہوگی، جہاد جاری رہے گا۔
اگرچہ فقہ کے مطابق ‘جہاد کے مقاصد میں دفاع، ظلم کا خاتمہ، مسلم ریاست کے مفادات اور اسلامی زمین میں توسیع’ بھی شامل ہے۔ تاہم جہاد کے مذکورہ مقاصد کے حصول کے طریقہ کار کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لیے یہ شعور کرنا بھی ضروری ہے کہ ‘جب ایک اسلامی ریاست قائم ہو جاتی ہے تو وہ یہ مقاصد کب اور کیسے حاصل کر سکتی ہے…؟’
اس حوالے سے یاد رکھیں کہ امارت اسلامی نے دفاع، ظلم کے خاتمے، مسلم ریاست کے مفادات تک کے مقاصد تو کافی حد تک حاصل کر لیے ہیں، تاہم اسلامی زمین میں توسیع جیسے مقصد کے لیے اسلام نے طاقت اور حالات کی شرط لگائی ہے۔ اگر اسلامی ریاست کی موجودہ حدود سے باہر نکل کر دیگر زمینوں کو بھی اسلامی زمین میں شامل کرنے کے لیے جہاد کیا جائے تو مقابلے میں موجود کفر کی طرف سے ہونے والے ردعمل کے دفاع کی طاقت بھی ضروری ہے۔
لہذا جب دفاع کی طاقت ہوگی تو پھر اقدامی یا توسیعی جہاد بھی ممکن ہو سکتا ہے۔
اور اگر دفاع کی طاقت نہ ہو تو پھر اقدامی جہاد کرنا شریعت کی نظر میں حکیمانہ عمل نہیں ہے۔ کیوں کہ ‘شرائطِ جہاد میں سے ایک اہم شرط ‘استطاعت’ (Power/Capability) ہے۔’
یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان پر جہاد فرض ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ جب وہ جہاد کے لیے نکلے تو اپنے گھر والوں کی گزر بسر کے لیے اتنا مال لازمی چھوڑ کر جائے کہ وہ خاندان اپنے مجاہد بھائی یا شوہر کی غیر موجودگی میں اپنی گھریلو ضروریات کے لیے دوسرے کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ ہو جائے…!
اس مثال سے دفاع کی اہمیت سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ یعنی جب تک دفاع کی طاقت و قدرت نہ ہو، اقدام کرنا ناپسندیدہ اور اسلامی مصالح کے اعتبار سے درست عمل تصور نہیں ہوگا۔ کیوں کہ جب دفاع نہیں ہوگا تو خدانخواستہ جو کچھ ہاتھ میں ہے، وہ بھی چِھن جانے کا خطرہ موجود ہے…
اب آتے ہیں جنگ بندی جیسے اہم موضوع کی طرف…
دوحہ معاہدے میں شامل اس شرط کی شرعی حیثیت اور اس کے پسِ منظر میں موجود حکمتِ عملی کو سمجھنے کے لیے ہمیں جذبات سے بالاتر ہو کر اسلامی شریعت کے مقاصد، سیرتِ طیبہ کے سیاسی اسلوب اور موجودہ دور کے جیو پولیٹیکل حقائق کا ایک مجموعی جائزہ لینا ہوگا۔
معاشرے میں پھیلے ہوئے مذکورہ ‘غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی کی شرعی حیثیت’ جیسے سوال سے ظاہر ہونے والا یہ تصور کہ ‘کفر کے خلاف جنگ بندی ‘معینہ’ ہونی چاہیے، غیر معینہ / غیر موقت نہیں’… یعنی یہ سوال اُٹھانے والے کے نزدیک ‘جنگ بندی صرف ایک عارضی ضرورت ہے اور امن محض ایک وقفہ’… اسلامی تعلیمات کے جامع اور گہرے مطالعے سے میل نہیں کھاتا۔
حالاں کہ اسلام کی نظر میں ‘امن ایک مستقل ضرورت ہے، جب کہ جنگ ایک عارضی وقفہ ہے۔’
یہاں یہ جان لینا چاہیے کہ کــفــر کے خلاف جنگ بندی کی مدت اسلامی ریاست اور حالات پر موقوف ہوتی ہے۔ فقہِ شافعی میں عموماً صلح کی مدت کو دس سال تک محدود سمجھا گیا ہے، جس کی بنیاد صلح حدیبیہ پر ہے۔ جب کہ فقہِ حنفی میں مصلحت، قوت اور حالات کے پیش نظر اس مدت میں لچک اور وُسعت کی گنجائش دی گئی ہے۔ اس بنا پر اسلامی ریاست اپنے حالات کا جامع جائزہ لیتے ہوئے جنگ بندی کی مناسب مدت کا کمی یا اضافے کی صورت میں تعین کر سکتی ہے۔
کیوں کہ درحقیقت اسلام میں جنگ بذاتِ خود مقصد نہیں، بلکہ فتنہ و فساد کے خاتمے کے لیے ایک ناگزیر عارضی ضرورت ہے۔ جب کہ امن وہ حقیقی اور دائمی مطلوبہ حالت ہے… جس میں دین کی دعوت، انسانی جان کا تحفظ اور اسلامی نظام کی عملی برکات دنیا پر ظاہر ہوتی ہیں۔
قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ بصیرت عطا کرتے ہیں کہ ‘جب دشمن صلح کی طرف مائل ہو تو ریاستِ اسلامیہ کو بھی مصلحتِ عامہ کے پیشِ نظر اسے قبول کر لینا چاہیے۔’
جیسے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
‘اور اگر وہ (کفار) امن و سلامتی (صلح) کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف جھک جائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔’ (سورۃ الانفال: 61)
اس آیت میں صلح کی طرف مائل ہونے کو اللہ پر توکل کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، ‘قطع نظر اس سے کہ یہ صلح کتنے عرصے کے لیے ہو…؟!’




















































