پیر, اگست 17, 2026
المرصاد
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    ۲۴ اسد؛ قبضے کا خاتمہ اور بے مثال تبدیلی کا آغاز!

    ۲۴ اسد؛ قبضے کا خاتمہ اور بے مثال تبدیلی کا آغاز!

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    دوحہ معاہدے کے مطابق افغان زمین کا کسی کے خلاف استعمال نہ ہونا ‘غیر معین جنگ بندی ہے’ تو اس کی شرعی وضاحت کیا ہے؟ پہلی قسط

    دوحہ معاہدے کے مطابق افغان زمین کا کسی کے خلاف استعمال نہ ہونا ‘غیر معین جنگ بندی ہے’ تو اس کی شرعی وضاحت کیا ہے؟ پہلی قسط

    قندوز پر امریکی بمباری نے واضح کیا کہ آزادی مہنگی قیمت مانگتی ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

    قندوز پر امریکی بمباری نے واضح کیا کہ آزادی مہنگی قیمت مانگتی ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

    طالبان کی اسلامی تحریک کے آغاز سے ۲۴ اسد ۱۴۰۰ ھ ش تک

    طالبان کی اسلامی تحریک کے آغاز سے ۲۴ اسد ۱۴۰۰ ھ ش تک

    جمہوریت کا سقوط اور ۲۴ اسد

    جمہوریت کا سقوط اور ۲۴ اسد

    فتح مکہ کا سبق!

    فتح مکہ کا سبق!

    ۲۴ اسد: اس کی ثقافتی جڑیں اور پہلو

    ۲۴ اسد: اس کی ثقافتی جڑیں اور پہلو

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

  • ابطالِ امت
    بطلِ اسلام، شہید حافظِ قرآن محمد ذاکر تقبّلہ اللہ کی حیات و خدمات پر مختصر نظر

    بطلِ اسلام، شہید حافظِ قرآن محمد ذاکر تقبّلہ اللہ کی حیات و خدمات پر مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • اداریہ
    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    اسلام آباد حملہ اور تازہ حقائق! اداریہ

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    جعفر ایکسپریس پر حملہ؛ الزام افغانستان پر کیوں لگایا گیا؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    پاکستان میں داعش کے تین اہم رہنماؤں کی گرفتاری کس بات کا ثبوت ہے؟

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    افغانستان اور پاکستان تعلقات: فوج میں ایک لابی مسائل کی جڑ

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    پاکستان اپنے مفادات کے لیے چین کو علاقائی پراکسی جنگ میں گھسیٹ رہا ہے

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو  دھوکہ دینے کا آلہ؟

    افغانستان پر پابندیوں کی مانیٹرنگ کمیٹی یا خطے کے ممالک کو دھوکہ دینے کا آلہ؟

  • خبریں
    • تمام
    • افغانستان
    • عالمی خبریں
    • علاقائی خبریں
    ۲۴ اسد؛ قبضے کا خاتمہ اور بے مثال تبدیلی کا آغاز!

    ۲۴ اسد؛ قبضے کا خاتمہ اور بے مثال تبدیلی کا آغاز!

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    امارتِ اسلامیہ کی فضائیہ نے آج رات بلوچستان کے ضلع پشین کے علاقے سرانان میں افغان اربکیوں کے ایک اہم مرکز کو نشانہ بنایا

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    پاکستان کے زیرِ کنٹرول علاقے میں گرفتار ہونے والا احمد کازانچی کون ہے؟

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    خیبر کے علاقے قمبرخیل میں داعشی خوارج کا ایک اہم مرکز ڈرون حملوں میں تباہ کر دیا گیا ہے

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    دنیا اور مسلم سرزمینوں پر امارت اسلامیہ کے اثرات

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    امن کے سائے میں عید کی رونقیں!

    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • تمام
    • تجزیاتی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • علمی تحریرات
    دوحہ معاہدے کے مطابق افغان زمین کا کسی کے خلاف استعمال نہ ہونا ‘غیر معین جنگ بندی ہے’ تو اس کی شرعی وضاحت کیا ہے؟ پہلی قسط

    دوحہ معاہدے کے مطابق افغان زمین کا کسی کے خلاف استعمال نہ ہونا ‘غیر معین جنگ بندی ہے’ تو اس کی شرعی وضاحت کیا ہے؟ پہلی قسط

    قندوز پر امریکی بمباری نے واضح کیا کہ آزادی مہنگی قیمت مانگتی ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

    قندوز پر امریکی بمباری نے واضح کیا کہ آزادی مہنگی قیمت مانگتی ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

    طالبان کی اسلامی تحریک کے آغاز سے ۲۴ اسد ۱۴۰۰ ھ ش تک

    طالبان کی اسلامی تحریک کے آغاز سے ۲۴ اسد ۱۴۰۰ ھ ش تک

    جمہوریت کا سقوط اور ۲۴ اسد

    جمہوریت کا سقوط اور ۲۴ اسد

    فتح مکہ کا سبق!

    فتح مکہ کا سبق!

    ۲۴ اسد: اس کی ثقافتی جڑیں اور پہلو

    ۲۴ اسد: اس کی ثقافتی جڑیں اور پہلو

    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
    • تمام
    • شیخ رحیم الله حقاني تقبله الله
    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شیخ محمد ادریس تقبله الله کے قاتل کون ہیں اور کہاں ہیں؟

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ‌الاسلام رحیم‌الله حقانی؛ فقیہ، جہاد کا علم بردار اور داعشی خوارج کا دشمن

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    شہید شیخ رحیم اللہ حقانی اور داعشی خوارج کے جرائم

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    امت کے عظیم محسن اور علمی ہستی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    وہ پہاڑ جس کی چوٹی سورج کی شعاؤں سے پھر کبھی روشن نہ ہو گی

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

    امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ: گھور اندھیروں کے بعد روشن صبح

  • ابطالِ امت
    بطلِ اسلام، شہید حافظِ قرآن محمد ذاکر تقبّلہ اللہ کی حیات و خدمات پر مختصر نظر

    بطلِ اسلام، شہید حافظِ قرآن محمد ذاکر تقبّلہ اللہ کی حیات و خدمات پر مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    محاذوں کا جوانمرد اور عالمی سیاست کا درخشاں ستارہ: شہید ملا اختر محمد منصور تقبلہ اللہ

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی قائدانہ بصیرت اور تاریخی کارنامے!

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    شہید ملا اختر محمد منصور؛ وہ مجاہد جو شہادت کے بعد امر ہوگیا

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

    خواجہ شفیق اللہ ابو قدامہ تقبّلہ اللہ کی زندگی اور کارناموں پر مختصر نظر!

  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
المرصاد
کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
صفحہ اول تبصرے و تحریرات

دوحہ معاہدے کے مطابق افغان زمین کا کسی کے خلاف استعمال نہ ہونا ‘غیر معین جنگ بندی ہے’ تو اس کی شرعی وضاحت کیا ہے؟ پہلی قسط

اکبر جمال

دوحہ معاہدے کے مطابق افغان زمین کا کسی کے خلاف استعمال نہ ہونا ‘غیر معین جنگ بندی ہے’ تو اس کی شرعی وضاحت کیا ہے؟ پہلی قسط
Share on FacebookShare on Twitter

دوحہ معاہدے میں امارتِ اسلامی افغانستان اور امریکا کے مابین طے پانے والی اس شرط کی شرعی و سیاسی حیثیت کہ: ‘افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا’…
کو سمجھنے کے لیے یہ بنیادی سوال اکثر اٹھایا جاتا ہے کہ:
‘کیا غیر موقّت (غیر معینہ) مدت کے لیے کفر کے خلاف جنگ بند کرنا یا عدمِ مداخلت کا معاہدہ کرنا شریعتِ اسلامیہ کی رُو سے جائز ہے؟’

اس سوال اور اس سے جڑے تصورات کا درست تجزیہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جذباتی سطحیات سے بالاتر ہو کر اسلامی شریعت کے مقاصد، سیرتِ طیبہ بالخصوص صلحِ حدیبیہ کے مدبرانہ اسلوب، فقہی رخصتوں اور موجودہ دور کے جیو پولیٹیکل حقائق کا ایک مجموعی اور معروضی جائزہ لیا جائے، تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ اسلام میں جنگ محض ایک عارضی ضرورت ہے، جب کہ امن وہ حقیقی اور دائمی مقصد ہے، جس میں ایک ریاست اپنی فکری، معاشی اور انتظامی صلاحیتوں کو استوار کرتی ہے۔

اس جیسی دیگر تحاریر

قندوز پر امریکی بمباری نے واضح کیا کہ آزادی مہنگی قیمت مانگتی ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟

طالبان کی اسلامی تحریک کے آغاز سے ۲۴ اسد ۱۴۰۰ ھ ش تک

جمہوریت کا سقوط اور ۲۴ اسد

چناں چہ اس جائزے سے پہلے معاہدے کی شِق اور چند نکات سمجھ لینا ضروری ہے؛
معاہدے کی شِق کے مطابق معاہدے میں لکھا ہے کہ:
‘کوئی بھی امارتِ اسلامی افغانستان کی سرزمین کو امریکا اور اُس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں کر سکتا اور نہ ہی امارتِ اسلامی کسی کو اِس کی اجازت دے گی۔’

اب جو کہا جاتا ہے کہ ‘اس شرط کے لیے اسلام میں کوئی دلیل ہے کہ غیر موقّت مدت کے لیے کفر کے خلاف جنگ بند کی جائے؟ یعنی یہ شرط تو بظاہر قیامت تک جاری رہنے والے جہاد سے کنارہ کش ہونے کے مترادف محسوس ہوتی ہے۔’

اس حوالے سے یاد رہے کہ ‘امارت اسلامی خود اس کی پابند نہیں۔ یعنی امارت اسلامی کو ‘ضرورت’ پڑنے پر اپنے دفاع کے لیے اپنی زمین استعمال کرنے کا مکمل قانونی، شرعی اور منطقی حق حاصل ہے اور کوئی طاقت امارت کا یہ حق نہیں چھین سکتی۔’

لہذا، اس سے ‘غیر موقت جنگ بندی کا نکتہ پیدا کرنا درست اور معاہدے کی رُوح کے مطابق نہیں ہے۔ کیوں کہ ‘معاہدے کے مطابق افغانستان کی زمین امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ ہونے دینا’ اور ‘غیر موقت جنگ بندی’ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ دونوں کو آپس میں خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔

اب چند نکات:
اول یہ کہ ‘اسلام کی نظر میں جنگ ایک وقتی ضرورت ہے، جب کہ امن ایک دائمی مقصد ہے۔’

دوم یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ‘جہاد قیامت تک جاری رہے گا، لہذا یاد رہنا چاہیے کہ جہاد کا مقصد فتنہ ختم کرنا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں بھی ذکر ہوا ہے کہ ‘وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ…’

یعنی اسلام کی نظر میں بدامنی اور فساد… چاہے وہ بداعمالیوں کی وجہ سے ہو یا کفر کی وجہ سے ہو، ایک فتنہ ہے۔ اور اس کے خاتمے کے لیے جہاں جہاں جہاد کی ضرورت ہوگی، جہاد جاری رہے گا۔

اگرچہ فقہ کے مطابق ‘جہاد کے مقاصد میں دفاع، ظلم کا خاتمہ، مسلم ریاست کے مفادات اور اسلامی زمین میں توسیع’ بھی شامل ہے۔ تاہم جہاد کے مذکورہ مقاصد کے حصول کے طریقہ کار کو مزید گہرائی سے سمجھنے کے لیے یہ شعور کرنا بھی ضروری ہے کہ ‘جب ایک اسلامی ریاست قائم ہو جاتی ہے تو وہ یہ مقاصد کب اور کیسے حاصل کر سکتی ہے…؟’

اس حوالے سے یاد رکھیں کہ امارت اسلامی نے دفاع، ظلم کے خاتمے، مسلم ریاست کے مفادات تک کے مقاصد تو کافی حد تک حاصل کر لیے ہیں، تاہم اسلامی زمین میں توسیع جیسے مقصد کے لیے اسلام نے طاقت اور حالات کی شرط لگائی ہے۔ اگر اسلامی ریاست کی موجودہ حدود سے باہر نکل کر دیگر زمینوں کو بھی اسلامی زمین میں شامل کرنے کے لیے جہاد کیا جائے تو مقابلے میں موجود کفر کی طرف سے ہونے والے ردعمل کے دفاع کی طاقت بھی ضروری ہے۔

لہذا جب دفاع کی طاقت ہوگی تو پھر اقدامی یا توسیعی جہاد بھی ممکن ہو سکتا ہے۔

اور اگر دفاع کی طاقت نہ ہو تو پھر اقدامی جہاد کرنا شریعت کی نظر میں حکیمانہ عمل نہیں ہے۔ کیوں کہ ‘شرائطِ جہاد میں سے ایک اہم شرط ‘استطاعت’ (Power/Capability) ہے۔’

یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان پر جہاد فرض ہونے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ جب وہ جہاد کے لیے نکلے تو اپنے گھر والوں کی گزر بسر کے لیے اتنا مال لازمی چھوڑ کر جائے کہ وہ خاندان اپنے مجاہد بھائی یا شوہر کی غیر موجودگی میں اپنی گھریلو ضروریات کے لیے دوسرے کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہ ہو جائے…!

اس مثال سے دفاع کی اہمیت سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔ یعنی جب تک دفاع کی طاقت و قدرت نہ ہو، اقدام کرنا ناپسندیدہ اور اسلامی مصالح کے اعتبار سے درست عمل تصور نہیں ہوگا۔ کیوں کہ جب دفاع نہیں ہوگا تو خدانخواستہ جو کچھ ہاتھ میں ہے، وہ بھی چِھن جانے کا خطرہ موجود ہے…

اب آتے ہیں جنگ بندی جیسے اہم موضوع کی طرف…

دوحہ معاہدے میں شامل اس شرط کی شرعی حیثیت اور اس کے پسِ منظر میں موجود حکمتِ عملی کو سمجھنے کے لیے ہمیں جذبات سے بالاتر ہو کر اسلامی شریعت کے مقاصد، سیرتِ طیبہ کے سیاسی اسلوب اور موجودہ دور کے جیو پولیٹیکل حقائق کا ایک مجموعی جائزہ لینا ہوگا۔

معاشرے میں پھیلے ہوئے مذکورہ ‘غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی کی شرعی حیثیت’ جیسے سوال سے ظاہر ہونے والا یہ تصور کہ ‘کفر کے خلاف جنگ بندی ‘معینہ’ ہونی چاہیے، غیر معینہ / غیر موقت نہیں’… یعنی یہ سوال اُٹھانے والے کے نزدیک ‘جنگ بندی صرف ایک عارضی ضرورت ہے اور امن محض ایک وقفہ’… اسلامی تعلیمات کے جامع اور گہرے مطالعے سے میل نہیں کھاتا۔

حالاں کہ اسلام کی نظر میں ‘امن ایک مستقل ضرورت ہے، جب کہ جنگ ایک عارضی وقفہ ہے۔’

یہاں یہ جان لینا چاہیے کہ کــفــر کے خلاف جنگ بندی کی مدت اسلامی ریاست اور حالات پر موقوف ہوتی ہے۔ فقہِ شافعی میں عموماً صلح کی مدت کو دس سال تک محدود سمجھا گیا ہے، جس کی بنیاد صلح حدیبیہ پر ہے۔ جب کہ فقہِ حنفی میں مصلحت، قوت اور حالات کے پیش نظر اس مدت میں لچک اور وُسعت کی گنجائش دی گئی ہے۔ اس بنا پر اسلامی ریاست اپنے حالات کا جامع جائزہ لیتے ہوئے جنگ بندی کی مناسب مدت کا کمی یا اضافے کی صورت میں تعین کر سکتی ہے۔

کیوں کہ درحقیقت اسلام میں جنگ بذاتِ خود مقصد نہیں، بلکہ فتنہ و فساد کے خاتمے کے لیے ایک ناگزیر عارضی ضرورت ہے۔ جب کہ امن وہ حقیقی اور دائمی مطلوبہ حالت ہے… جس میں دین کی دعوت، انسانی جان کا تحفظ اور اسلامی نظام کی عملی برکات دنیا پر ظاہر ہوتی ہیں۔

قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ بصیرت عطا کرتے ہیں کہ ‘جب دشمن صلح کی طرف مائل ہو تو ریاستِ اسلامیہ کو بھی مصلحتِ عامہ کے پیشِ نظر اسے قبول کر لینا چاہیے۔’

جیسے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
‘اور اگر وہ (کفار) امن و سلامتی (صلح) کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف جھک جائیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔’ (سورۃ الانفال: 61)

اس آیت میں صلح کی طرف مائل ہونے کو اللہ پر توکل کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، ‘قطع نظر اس سے کہ یہ صلح کتنے عرصے کے لیے ہو…؟!’

شیئرٹویٹ

اس طرح کی دیگر تحاریر

۲۴ اسد: امریکی شکست اور افغان عوام کا یوم آزادی
جہادی تحریرات

۲۴ اسد: امریکی شکست اور افغان عوام کا یوم آزادی

اگست 17, 2024
بے گناہ شہریوں کا قتلِ عام: اسلام دشمنوں کی دیرینہ روش
تبصرے و تحریرات

بے گناہ شہریوں کا قتلِ عام: اسلام دشمنوں کی دیرینہ روش

اپریل 16, 2026
خوارج (داعش) تاریخ کے اوراق میں | دسویں قسط
خوارج العصر

خوارج (داعش) تاریخ کے اوراق میں | دسویں قسط

جولائی 1, 2024
نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر
ابطالِ امت

نڈر جوانمرد شہید احمد فرید احرار تقبلہ اللہ زندگی اور خدمات پر ایک مختصر نظر

جون 27, 2026
خلافت عثمانیہ؛ تاریخ کے دریچوں سے |  چودہویں قسط
علمی تحریرات

خلافت عثمانیہ؛ تاریخ کے دریچوں سے | چودہویں قسط

مارچ 19, 2025
حمیت نام تھا جس کا، گئی تیمور کے گھر سے!
تبصرے و تحریرات

حمیت نام تھا جس کا، گئی تیمور کے گھر سے!

فروری 23, 2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • ابطالِ امت
  • اداریہ
  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • تبصرے اور تحریرات
  • خبریں
  • صفحہ اول
  • علماء
  • لائبریری
المرصاد سے رابطہ: info@almirsadur.com

جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کو ئی نتیجہ
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • خبریں
    • افغانستان
    • علاقائی خبریں
    • عالمی خبریں
  • تبصرے اور تحریرات
    • خوارج العصر
    • سیاسی تحریرات
    • جہادی تحریرات
    • علمی تحریرات
    • تجزیاتی تحریرات
  • علماء
  • ابطالِ امت
  • اصدارات
  • انفوگرافکس
  • لائبریری
  • المرصاد
    • پښتو
    • دری
    • عربي
    • English
    • বাংলা

جملہ حقوق تمام مسلمانوں کے حق میں محفوظ ہیں۔