شریعتِ اسلامیہ نے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے انتظام کے لیے ایک جامع نظام پیش کیا ہے۔ اس نظام میں حاکم کی اطاعت اور اس کی حدود کا مسئلہ اسلامی سیاسی فقہ کے سب سے حساس اور اہم مباحث میں سے ہے۔ ایسے وقت میں جب بعض گروہ مختلف ناموں اور دینی نعروں کی آڑ میں افغانستان کے اسلامی نظام کے خلاف بغاوت کر رہے ہیں، قرآن کریم اور نبوی سنت کی روشنی میں اس مسئلے کے دقیق، گہرے اور ہمہ گیر جائزے کی اشد ضرورت ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس نوعیت کی کارروائیوں کو جہاد فی سبیل اللہ قرار دیا جائے گا، یا یہ ایسا فتنہ جو مسلمانوں کا خون بہاتا ہے اور معاشرے کے امن و استحکام کو خطرے سے دوچار کرتا ہے؟
قرآنِ عظیم الشان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ساتھ ساتھ حاکم کی اطاعت کے بنیادی اصول کو بھی بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے:
«أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ»
یعنی اللہ، رسول اور اپنے مسلمان حکمرانوں کی اطاعت کرو۔ البتہ یہ اطاعت مطلق اور قید و بند سے آزاد نہیں ہے۔ اہل سنت کے جلیل القدر فقہاء کا مؤقف ہے کہ جب تک حاکم ’’کفرِ بواح‘‘، یعنی کھلے کفر میں مبتلا نہ ہو جائے اور اسلام کے بنیادی اصولوں کو ختم نہ کر دے، اس کے خلاف مسلح اقدام اور بغاوت جائز نہیں۔
اس بارے میں معتبر نبوی احادیث میں سخت اور عبرت آموز تنبیہات وارد ہوئی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَنْ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا مَاتَ مِیتَةً جَاهِلِیَّةً»؛
جو شخص اپنے حاکم کی اطاعت سے ایک بالشت کے برابر بھی نکل جائے، وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔
ایک دوسری روایت میں، جو صحیح مسلم میں وارد ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
«مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِیتَةً جَاهِلِیَّةً»
جو شخص مسلمان حاکم کی اطاعت سے نکل جائے اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہو جائے، وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔
اتحاد برقرار رکھنے اور بغاوت و مسلح خروج سے اجتناب پر اس قدر زور دینے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حاکم کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا اکثر اوقات اس ظلم سے بھی بڑے فساد کا سبب بن جاتا ہے جو حاکم کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ حاکم ظالم ہو، لیکن مسلح بغاوت بہت سے مواقع پر اس سے بھی بڑے فساد کا سبب بنتی ہے، اسی لیے مسلمانوں کے خون کی حفاظت، بغاوت پر مقدم ہے۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی اس اصول پر زور دیتے ہیں کہ ایسا ہر اقدام جس کا فساد اس کی اصلاح سے زیادہ ہو، شریعت کی رو سے ممنوع ہے، کیونکہ خانہ جنگی کے بہت سے مواقع پر اس کے نتائج حاکم کے ظلم سے بھی زیادہ برے اور نقصان دہ ہوتے ہیں۔
البتہ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کی جائے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مسلمانوں کے دائمی فرائض میں سے ہیں اور حاکم کو اصلاح و درستگی کی دعوت قانونی، مشروع اور پُرامن طریقوں سے دی جا سکتی ہے۔ اہل سنت کے فقہاء نے اس حوالے سے اس بات پر زور دیا ہے کہ مسلح بغاوت نہ صرف مسائل کے حل کا راستہ نہیں بلکہ اس سے بھی بڑے فتنے کا دروازہ کھول دیتی ہے، جو بے گناہ لوگوں کا خون بہاتا ہے اور ملک کے استحکام کو تباہ کر دیتا ہے۔
جیسا کہ قرآن عظیم الشان سورۂ حجرات کی نویں آیت میں فرماتا ہے:
«وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا»
اور اگر اہل ایمان کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو۔
موجودہ افغانستان میں قائم اسلامی نظام، جو افغان عوام کی بے شمار قربانیوں کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے، ایسا نظام ہے جس کے لیے احکامِ الٰہی کا نفاذ ہر چیز پر مقدم ہے۔ ایسے نظام کے خلاف مسلح بغاوت ’’بغی‘‘ اور شرعی حاکم کی اطاعت سے خروج کی واضح مثالوں میں شمار ہوتی ہے، ایسا عمل جس کے بارے میں نبوی روایات میں جاہلیت کی موت کی سخت تنبیہ وارد ہوئی ہے۔
باغیوں کو ہر قسم کے اقدام سے پہلے حق، امن اور صلح و مفاہمت کی طرف بلایا جانا چاہیے اور اگر وہ اپنے مؤقف سے دست بردار نہ ہوں تو اسلامی حکومت کو ان کے فتنے کے سامنے ڈٹ جانا چاہیے، تاہم توبہ، واپسی اور اصلاح کا دروازہ ان کے لیے ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔
لہٰذا، شرعی حاکم کے خلاف بغاوت جہاد نہیں، بلکہ ایسا فتنہ ہے جو مسلمانوں کا خون بہاتا ہے، معاشرے کے امن و استحکام کو تباہ کرتا ہے اور بیرونی دشمنوں کی مداخلت کے لیے زمین ہموار کرتا ہے۔ ماضی سے لے کر آج تک کے تاریخی تجربات نے واضح طور پر دکھایا ہے کہ مسلمانوں کے اتحاد کی حفاظت اور شرعی حاکم کی اطاعت، جب تک وہ اسلام کے دائرے میں عمل کرتا ہے، ایک قوم کی بقا، عزت اور استحکام کی اہم بنیادوں میں سے ہیں۔




































