افغانستان اپنی منفرد جغرافیائی حیثیت، تاریخی حالات اور علاقائی تغیرات کے باعث ہمیشہ مختلف سکیورٹی چیلنجوں سے دوچار رہا ہے۔ ایسے حالات میں ملک کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کو مضبوط بنانا قومی حاکمیت، استحکام اور عوام کے تحفظ کی بنیادی ضرورتوں میں شمار ہوتا ہے۔
افغان انٹیلی جنس اور سکیورٹی قوت کی مضبوطی ایک ایسے سکیورٹی نظام کی عکاسی کرتی ہے جو دفاعی انتظار کی کیفیت سے نکل کر فعال حفاظتی حکمتِ عملی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ خطرہ پیدا ہونے کے بعد ردِعمل ظاہر کرنا سلامتی کا ایک پہلو ہے، لیکن خطرہ پیدا ہونے سے پہلے اس کی نشان دہی کرکے اسے روک دینا انٹیلی جنس مہارت کی اعلیٰ ترین سطح ہے۔
حال ہی میں ملک کے شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں بیرونی انٹیلی جنس حلقوں کی جانب سے بعض باغی عناصر کی مالی معاونت اور تربیت، انہیں امارتِ اسلامیہ کے خلاف براہِ راست میدانِ جنگ میں اتارنے کی کوشش، نیز حسیب قوای مرکزکے نام سے معروف شر و فساد کے سرغنے اور اس کے چند دیگر ساتھیوں کا خاتمہ—جنہیں بیرونی حلقے تخریبی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے—انہی جارحانہ کارروائیوں کا حصہ تھا۔
تاہم ان فتنوں پر منظم انداز میں قابو پانا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ افغان انٹیلی جنس اور سکیورٹی قوت ہر بیرونی سازش سے متعلق معلومات رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی بیخ کنی کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ یہ تمام بغاوتیں ایک ایسے منحوس اور ناپاک بیرونی مرکز کی سرپرستی میں جاری ہیں جو ان کی مالی معاونت کرکے ملک کے عوام میں تفرقہ پیدا کرنے اور قومی حاکمیت کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اسی طرح ان خطرات کا پوری قوت و قاطعیت کے ساتھ خاتمہ داعش کے منحوس محاذ کے خلاف انٹیلی جنس اور سکیورٹی قوت کی ایک اور کاری ضرب تھی۔ افغان سکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز ملک میں داعشی خوارج، باغیوں اور شر و فساد کے عناصر کے ٹھکانوں، مالی معاونت فراہم کرنے والے مراکز اور ان کے رسدی و تشہیری نظام کا سراغ لگاکر انہیں مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب رہیں۔
موجودہ حساس علاقائی ماحول میں ایسی سکیورٹی اور انٹیلی جنس قوتوں کی موجودگی، جو خطرات کی نشان دہی، ان کی روک تھام اور امن کے استحکام کی بے مثال صلاحیت رکھتی ہوں، ایک اسلامی ملک کے لیے خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔ اسی بنا پر مضبوط نظامِ استخبارات، تیز رفتار ردِعمل، مربوط سکیورٹی ڈھانچہ اور پیشہ ورانہ فورسز ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان کی اہم بنیادیں ہیں۔
آخر میں، دفاعی حالت سے جارحانہ موقف کی جانب ان کی پیش قدمی اس امر کی غماز ہے کہ ملک کے تحفظ کے لیے ان کی صلاحیتوں میں وسعت آئی ہے اور وہ ہر نوع کے خطرے کا ہمہ جہت مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ انٹیلی جنس اور سکیورٹی فورسز کا نظم و ضبط، پیشہ ورانہ احساسِ ذمہ داری، شجاعت اور مؤمن ملک کے تحفظ کا جذبہ وہ اوصاف ہیں جو ایک مضبوط انٹیلی جنس قوت کی تصویر پیش کرتے ہیں۔




















































